Banner

وردی اور وقار . وقت کی پکار پولیس اصلاحات پر ایک فکری نشست

Share

Share This Post

or copy the link


لاھور منشا قاضی سے

چیلنجز آف پولیس اینڈ لیٹسٹ ریفارمز” پر ایک فکری و معلوماتی نشست کی روداد معاشرے کی تہذیب صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا ترقیاتی منصوبوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کی اصل پہچان انصاف، تحفظ اور قانون کی بالادستی سے ہوتی ہے۔ جب کسی قوم کے ادارے مضبوط، جواب دہ اور عوام دوست ہوں تو ریاست ایک مضبوط درخت کی مانند پھلتی پھولتی ہے۔ انہی بنیادی تصورات کو مرکزِ نگاہ بناتے ہوئے “کنسٹرکٹیو تھنکرز نیٹ ورک (CTN)” کے زیرِ اہتمام “چیلنجز آف پولیس اینڈ لیٹسٹ ریفارمز” کے عنوان سے ایک نہایت اہم، علمی اور معلوماتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں سی ٹی این فورم کے وائس چیئرمین میجر مجیب آفتاب ریٹائرڈ ، سیکرٹری جنرل انجینئر توقیر احمد شریفی ، پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف ، سابق سیکرٹری اطلاعات شعیب بن عزیز ، برگیڈیئر عرفان علی خان ریٹائرڈ ، رانا نعمان خان اور ملک کے نامور کارٹونسٹ جاوید اقبال دانشوروں، سماجی شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔

اس تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب عمران کشور، PSP، DIG Administration Lahore تھے، جنہوں نے اپنے مدلل اور فکری خطاب کے ذریعے پولیس کو درپیش جدید چیلنجز، اصلاحاتی اقدامات اور بدلتے سماجی تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کی گفتگو محض ایک سرکاری افسر کی تقریر نہ تھی بلکہ ایک ایسے حساس اور باشعور فرد کی فکر تھی جو ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے کا خواہاں ہو۔

تقریب کے آغاز میں سابق منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PTDC) اور چیئرمین CTN جناب مسعود علی خان نے حاضرین کو خوش آمدید کہتے ہوئے ایک نہایت پُراثر استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ ان کے لب و لہجے میں شائستگی، خلوص اور فکری وقار نمایاں تھا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ معاشروں کی تعمیر صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اہلِ فکر، دانشوروں اور ذمہ دار شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے ساتھ مثبت مکالمے کو فروغ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے بغیر ایک پرامن اور متوازن معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے “کنسٹرکٹیو تھنکرز نیٹ ورک” کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ CTN کا بنیادی نصب العین معاشرتی شعور، علمی مکالمے اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے تاکہ نوجوان نسل کو فکری انتشار کے بجائے مثبت سوچ اور تعمیری فکر کی جانب راغب کیا جا سکے۔

جناب عمران کشور نے اپنے خطاب میں موجودہ دور میں پولیسنگ کے پیچیدہ تقاضوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج جرائم کی نوعیت بدل چکی ہے۔ سائبر کرائم، ڈیجیٹل فراڈ، منظم جرائم، سوشل میڈیا کے اثرات اور شہری نفسیات کے بدلتے رجحانات نے پولیس کی ذمہ داریوں میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید پولیسنگ صرف طاقت یا اختیار کا نام نہیں بلکہ برداشت، حکمت، نفسیاتی فہم اور عوامی خدمت کے جذبے کا تقاضا کرتی ہے۔

انہوں نے پولیس اصلاحات کے مختلف پہلوؤں جیسے کمیونٹی پولیسنگ، ٹیکنالوجی کے استعمال، شفاف احتساب، تربیتی نظام اور عوامی اعتماد کی بحالی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق جب تک پولیس اور شہری ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ شریکِ سفر نہیں سمجھیں گے، اس وقت تک دیرپا امن اور انصاف کا خواب مکمل تعبیر نہیں پا سکتا۔ جناب عمران کشور نے پولیس کے منفی رویئے اور مثبت طرز عمل دونوں کا تذکرہ بڑی خوبصورتی سے کیا اور انہوں نے 15 کی خصوصیات بھی بیان کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی انسانی خدمت کے حوالے سے بھی ایک مثال دی کہ ایک خاتون نے 15 پر فون کیا کہ اس کے بچے کو دودھ درکار ہے اور میں یہاں اکیلی ہوں اس سلسلے میں مجھے دودھ فراہم کیا جائے تو 15 سے ایک پولیس نوجوان نے اس خاتون کو دودھ فراہم کیا اور یہ ایک خدمت انسانی کی بے مثل مثال موجود ہے ۔ عوام کو پولیس کے اچھے کاموں پر تحسین اور ان کے منفی رویئے پر تنقید کا پورا حق ہے ۔ آج کی اس فکری نشست میں پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف جو استاد بھی ہیں اور مسیحا بھی ان کے ساتھ پولیس کی طرف سے سریع الحرکت انصاف تو کجا ان کا قیمتی وقت اور گراں قدر رقوم بھی ان کی گاڑی کی بازیابی میں صرف ہوئی یہ تلخ سوال محکمہ پولیس کی پیشانی پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ گیا ۔

تقریب کی نظامت انجینئر شائلہ صفوان نے نہایت خوبصورتی اور اعتماد کے ساتھ انجام دی۔ ان کے اندازِ گفتگو میں علم، وقار اور فکری گہرائی نمایاں تھی۔ انہوں نے اس نشست کو محض ایک رسمی تقریب کے بجائے ایک فکری مکالمہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شائلہ صفوان نے جدید عہد کے معلوماتی ویپنز کے ذریعے عمران کشور کی نیک نامی اور ان کی مثبت سوچ کے بطن سے امن کی دیوی کا جنم دیکھ لیا تھا ۔ جبکہ اظہارِ تشکر کے فرائض زندہ دل ، دلفریب شخصیت جناب شاہد قادر نے ادا کیئے، جنہوں نے مہمانوں، منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسی علمی نشستیں معاشرتی بیداری میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔

یہ نشست اس لحاظ سے بھی منفرد تھی کہ اس میں ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کے مسائل، چیلنجز اور اصلاحی کوششوں کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ یہ ایک ایسا مثبت زاویۂ فکر تھا جس کی آج کے شور زدہ معاشرے کو اشد ضرورت ہے۔

اردو ادب ہمیشہ انسانی سماج، عدل اور ریاستی شعور کے موضوعات سے جڑا رہا ہے۔ شاید اسی لیے شاعر نے کہا تھا:

“چراغِ راہ نہ جلتے تو قافلے گم تھے

نظامِ شہر میں کچھ لوگ روشنی بھی تھے”

واقعی، ایسے علمی اور فکری اجتماعات معاشرے کے ان چراغوں کی مانند ہوتے ہیں جو اجتماعی شعور کی راہوں کو روشن کرتے ہیں۔ پولیس اصلاحات کا موضوع دراصل صرف ایک ادارے کی تبدیلی نہیں بلکہ پورے معاشرتی رویّے کی تشکیلِ نو کا سوال ہے۔ جب قانون انصاف کی خوشبو دینے لگے، جب تھانے خوف کے استعارے کے بجائے اعتماد کی علامت بن جائیں اور جب شہری خود کو ریاست کا محترم فرد محسوس کریں، تبھی حقیقی ترقی ممکن ہوتی ہے۔

لاھور گیریزن روٹری کلب کے سابق ڈسٹرکٹ گورنر اور سی ٹی این فورم کی نابغہ ء روز گار رکن ڈاکٹر کنول خالد کے سوالات میں کئی سیمنار انعقاد پذیر ہو سکتے ہیں دونوں شخصیات سے عمران کشور نے ملاقات کا بلیغ عندیہ دیا ہے

تقریب کے اختتام پر حسبِ روایت شرکاء کے لیے ایک پرتکلف اور لذیذ ہائی ٹی کا اہتمام بھی کیا گیا، جہاں حاضرین نے نہ صرف خوشگوار ماحول میں ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کیا بلکہ اس علمی نشست کے مختلف نکات پر غیررسمی گفتگو بھی جاری رہی۔ یہ لمحے اس بات کا ثبوت تھے کہ مکالمہ صرف اسٹیج تک محدود نہیں رہتا بلکہ دلوں اور ذہنوں میں اتر کر سماجی شعور کی نئی راہیں متعین کرتا ہے۔
بلاشبہ “کنسٹرکٹیو تھنکرز نیٹ ورک” کی یہ کاوش ایک مثبت فکری سفر کی علامت ہے، جو معاشرے میں شعور، برداشت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

وردی اور وقار . وقت کی پکار پولیس اصلاحات پر ایک فکری نشست

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us