Banner

جابیٹا اللہ تجھے پٹواری بنا دے

Share

Share This Post

or copy the link

تحریر وارث دیناری
پٹواری کی طاقت پٹواری کی اہمیت ان کا اثرورسوخ ان کی کارستانیوں کی داستانیں اکثر سنتے پڑھتے آئے ہیں۔ اس پٹواری کی پوسٹ کی اتنی اہمیت پہلی بار دیکھنے کو ملی ہے ۔جس پر میں بجا طور پر یہ کہہ سکتا ہوں
واہ رے پٹواری تیری قسمت
بلوچستان ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں پٹواری کی 299خالی آسامیاں پر 47671کی درخواستیں یہ بیروزگاری ہے یا کچھ اور بھی
چند روز قبل بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام پٹواری کی299اسامیوں پر47671ہزار امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے اور کم وبیش اتنے ہی امیدواروں نے پیپر بھی دیئے ہیں اس نو اسکیل کی اسامی کے لئے انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد نے بھی شرکت کی جن کو سی ایس ایس پی سی ایس کے امتحانات میں شرکت کرنی چاہیےتھی انہوں نے بھی پٹواری کی پوسٹ پر اپلائی کیاہے شنید میں آیا ہے کہ امیدواروں میں بعض ایسے بھی شامل ہیں جو پہلے سے نہ صرف سرکاری ملازم ہیں بلکہ 17/16گریڈ پر تعینات بھی ہیں انھوں نے بھی اس نو اسکیل کی پوسٹ کی خاطر گریڈ سترہ کو لات مارنے کے لئے بھی تیار نظر آئے تو یہ دیکھ کر
پھر کچھ بات سمجھ میں آئی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بلوچستان میں بیروزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے سرکاری ملازمتیں تو نا پید ہیں ہی لیکن پرائیویٹ جاب بھی نہیں ہیں ان حالات کی بدولت بلوچستان کا پڑھا لکھا نوجوان طبقہ سخت مایوسی کا شکار ہوتا جارہا ہے ۔ یہ مایوسی احساس محرومی بڑھتی جارہی ہے- لیکن حیرانگی تب ہوئی جب بعض برسروزگار افراد بھی اس معمولی پوسٹ کے لئے درخواستیں جمع کرانے ٹیسٹ دینے والوں میں شامل رہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نو اسکیل کی پوسٹ میں کتنا چارمنگ رکھا ہے – اس پر مجھے معروف بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب کی کتاب شہاب نامہ یاد آیا جس میں انھوں نے پٹواری کی طاقت ان کی رسائی اور کارستانیوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا انھوں نے بتایا کہ کس طرح ایک عمر رسیدہ خاتون نے خوش ہو کر مجھے دعا دی جا بیٹا اللہ تجھے پٹواری بنا دے گا ۔
کہتے ہیں کہ کسی پٹواری کو آتے جاتے ہوئے راستے میں ایک کتا پٹواری کو دیکھ کر اس پر بھونکتا تھا جس پر ایک روز پٹواری نے غصے میں اکر کتے سے کہا کاش کہ زمین کا ایک مرلہ بھی تمھارے نام پر ہوتا تو پھر میں دیکھتا تو مجھ پر کس طرح سے بھونکتا اس سے پٹواری کے طاقتور ہونے کا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں وقت وقت کی بات ہے نوے کی دہائی میں پی ٹی سی ایل کے اہلکار خاص کر آپریٹر اور سپروائز بھی اپنے دور میں کسی پٹواری سے کم نہیں تھے پھر دور بدلہ اج سوائے ڈی ایس ایل نیٹ کے علاوہ لوگوں نے پی ٹی سی ایل سے اپنا ناطہ توڑا ہے پاکستان کے دیگر صوبوں میں گو کہ پٹواریوں کے اختیارات میں کچھ کمی کرکے ریونیو ریکارڈ جدید خطوط پر استوار کرکے کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا لیکن بلوچستان میں اس ٹیسٹ سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں پر حالات جوں کے توں ہیں۔
بچپن میں جب ہم بچے ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ یار آپ پڑھ کر کیا بنو گے تو اسی فیصد کا جواب ہوتا تھا کہ ہم فوجی بنیں گے باقی بیس فیصد بچے پائلٹ ڈاکٹر انجینئر بننے کی تمنا رکھتے تھے اور پھر جب ہم کچھ سمجھدار ہوئے چوتھی پانچویں میں آئے تو نظریہ ضرورت کی طرح ہم نے بھی اپنا نظریہ تبدیل کر دیا اب کہ بار انتظامی پوسٹوں کو ترجیح دینے لگے کیونکہ کے ہم نے دیکھا کہ جب دیگر اداروں کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد پولیس اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں آنے لگے تو ان پوسٹوں کی پر کشش کا کچھ مطلب سمجھ میں آنے لگا کہ زیادہ تر پڑھے لکھے نوجوانوں کی پہلی ترجیح اب ایس ڈی ایم یا ایس پی بنا ہے یہ پرکشش پوسٹ آج بھی ہمارے بیشتر نوجوانوں کی پہلی ترجیح ہیں پھر پرویز مشرف نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت 2001میں ایک ترمیم کے ذریعے ایس ڈی ایم کو اسسٹنٹ کمشنر جبکہ ڈپٹی کمشنر کو ڈی سی او بنا کر ان کے اختیارات میں کمی کرکے ڈسٹرکٹ ناظم اور تحصیل ناظم کو با اختیار بنانے کی کوشش کی گئی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوئے تھے جو بعد میں آنے والی حکومتیں ان کو جاری نہ رکھ سکی اور پھر موجودہ حکومت نے ایک بار پھر ان بیوروکریٹ کے اختیارات میں اضافہ کرکے پڑھے لکھے نوجوانوں کی پہلی پسند بنا دی ہے یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے بلکہ لمحہ فکر ہے کہ ہماری موجودہ پڑھا لکھا زی جنریشن کیا چاہتی ہے اس کے لئے ارباب اختیار کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہئے اور اس روش کا تدارک فوری طور پر لازمی کرنا چاہئے جس روز ہمارے نوجوان پڑھ لکھ کر معلم ڈاکٹر انجینئر بننے کو ترجیح دیں تب ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اب ہم اور ہماری آئندہ والی نسلیں محفوظ ہیں اس طرح کی سوچ اور تبدیلی کب آئے گی جب تک حقیقی احتساب کا عمل ہو ہر ادارے ہر فرد پر لاگو ہو کسی کو بھی کسی طرح کا استثناء حاصل نہ ہو ہر عہدہ ہر فرد پبلک اور حکومت کو جواب دے ہو نیز ایک قانون بنایا جائے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم اگر وہ گیارہ اسکیل کا ملازمت کررہا ہے انھیں حق نہیں پہنچتا کہ وہ دس اسکیل کی پوسٹ پر اپلائی کرے اگر بہت ہی مجبوری ہو تو اس کا جواز پیش کرنا لازمی ہو اگر موجودہ روش برقرار رکھا گیا تو ملک اور قوم کے لئے جنگ سے بھی زیادہ نقصان دے ہوگا۔
06/05/2026

جابیٹا اللہ تجھے پٹواری بنا دے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us