Banner
Daily Sahafat Quetta
August 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسکو یونین کی قانونی جدوجہد کی کامیابی ہے، پیر محمد کاکڑکشمیری عوام کی قربانیوں کو پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسکو یونین کی قانونی جدوجہد کی کامیابی ہے، پیر محمد کاکڑکشمیری عوام کی قربانیوں کو پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

سردار اور ریاست

سردار اور ریاست
تحریر خالد سرور کھوسہ
آزادی پاکستان سے پہلے انگریزوں کا بنایا گیا سرداری نظام جس میں بہت سے اصلاحات زیر بحث رہتے تھے
جن میں سرداری اختیار وراثتی ہوتا تھا اور وہ قبیلے کے اندر فیصلے، تنازعات، زمین اور دیگر وسائل کے معاملات دیکھتے تھے سرداروں کے کام علاقے کی فلاح و بہبود تک ہی محدود تھا
سرداروں کے کام جرگہ کرنا، قبیلے کے لوگوں کی نمائندگی کرنا، روایات کو قائم رکھنا تھا اس وقت سرداری نظام میں سردار اپنے اثرورسوخ کا ناجائز استعمال نہیں کرتے تھے جنرل مشرف نے بھی بلوچستان میں سرداری نظام کے بارے میں کہا تھا کہ بلوچستان اب سرداری ظلم وستم سے آزاد ہیں کیونکہ اکثر سردار ریاست کا حصہ ہے

2. ریاست سے مراد کیا ہے؟
یہاں ریاست سے مراد پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومت ہے۔ اس کا نظام آئین، قانون، پولیس، عدلیہ اور منتخب نمائندوں پر چلتا ہے۔
سرداروں کی بالا دستی کو ختم کرنے کے لئے انگریزوں نے “فورڈ پالیسی” کے تحت سرداروں کو اختیارات بھی دیے تھے تاکہ سرحدیں کنٹرول ہوں۔ اسی سے سرداروں کا سیاسی اور انتظامی رول مضبوط ہوا ان سب کے باوجود کوئی بھی سردار ملکی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے تھے قیام پاکستان کے بعد بلوچستان میں سرداری نظام مستحکم تھا بلوچ سردار امن اور شانتی کی علامت سمجھے جاتے ہیں کیونکہ بلوچستان میں 1962 تک ریاست کا تصور ہی نہیں تھا شاہد یہی وجہ ہے قانونی طور پر 2,3 دفعہ بلوچستان کو پاکستان کا حصہ قرار دیا گیا پر بلوچستان کے لوگوں کا سرادری نظام پہ اعتماد تھا یہی سردار ریاستی استحکام کے لیے کئی علاقوں میں ترقیاتی فنڈز، نوکریاں تقسیم کرتے تھے بلوچستان میں اس وقت وفاقی حکومتی رٹ یہاں تک قائم ہیں کہ ان کی اجازت کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا یہ جو بلوچستان میں ریاستی ہٹ دھرمی ہے اس نے بلوچوں کا جینا حرام کردیا ہیں نوجوان نسل میں احساس محرومیاں جنم لینے لگی ہیں بلوچستان کے نوجوانوں ریاستی ظلم وجبر کا سامنا کررہے ہیں میرے خیال میں بلوچستان میں ریاستی اناپرستی کی وجہ سے تعلیم، صحت اور براہ راست جمہوریت میں رکاوٹ آئی۔اور بلوچستان میں اختیارات ایک طبقے تک محدود ہیں جس کا جب دل کرے بلوچستان پہ قہر بن کے ٹوٹے بلوچستان دن با دن مظلومیت کی علامت بنتا جارہا ہے سردار اور ریاست میں نمایاں فرق ان چند الفاظوں میں بیان کرنا چاہتا ہوں سردار روایت اور سماج کی نمائندگی کرتا ہے، اور ریاست قانون اور آئین کی۔ دونوں کے درمیان تعاون ہو تو علاقے میں استحکام آتا ہے، اور ٹکراؤ ہو تو مسائل بڑھتے ہیں۔تو آج کیوں ریاست سرداری نظام کو بلوچستان کی تباہی کا باعث سمجھتی ہیں ؟خدارہ بلوچستان کو ریاستی ہٹ دھرمی اور سرداروں کے بے جا وقوت کی وجہ بربریت کا نشانہ نا بنایا جائے بلوچ امن پرست ہیں وادئ بلوچستان مزید لہو لہان نہیں ہوسکتا اللہ پاک سب کا حامی و ناصر

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *