Banner
Daily Sahafat Quetta
September 22, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نوشکی میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر حملہ، وزیر داخلہ کی شدید مذمتوزیراعظم کا حافظ نعیم سے رابطہ، جماعت اسلامی نے لانگ مارچ ملتان میں روک دیابلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ نظام مزید مستحکم کیا جائے گا، میر سرفراز بگٹیدہشت گرد بلوچستان میں امن اور بیماریوں کا خاتمہ نہیں چاہتے، بابر یوسفزئیخاموش واقعات، بلند صدائیںبیلفور اعلامیہ اور پہلی جنگِ عظیم: برطانوی سامراجی پالیسی اور عربوں سے فریبپی ٹی آئی کو کسی صورت اسلام آباد میں امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، عطا تارڑپاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزے سے متعلق مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کا امکاننوشکی میں پولیو ٹیم پر فائرنگ، 2 پولیس اہلکار جاں بحقبلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کیلئے اہم معاہدہ طے پاگیا بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ نظام مزید مستحکم کیا جائے گا، میر سرفراز بگٹینوشکی میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر حملہ، وزیر داخلہ کی شدید مذمتوزیراعظم کا حافظ نعیم سے رابطہ، جماعت اسلامی نے لانگ مارچ ملتان میں روک دیابلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ نظام مزید مستحکم کیا جائے گا، میر سرفراز بگٹیدہشت گرد بلوچستان میں امن اور بیماریوں کا خاتمہ نہیں چاہتے، بابر یوسفزئیخاموش واقعات، بلند صدائیںبیلفور اعلامیہ اور پہلی جنگِ عظیم: برطانوی سامراجی پالیسی اور عربوں سے فریبپی ٹی آئی کو کسی صورت اسلام آباد میں امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، عطا تارڑپاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزے سے متعلق مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کا امکاننوشکی میں پولیو ٹیم پر فائرنگ، 2 پولیس اہلکار جاں بحقبلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کیلئے اہم معاہدہ طے پاگیا بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ نظام مزید مستحکم کیا جائے گا، میر سرفراز بگٹی

بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف
مقامی بڈرز کو نظرانداز، قواعد کے برعکس تقرریوں اور ٹینڈرز پر عوامی حلقوں کے سنگین سوالات
تعلیم کے شعبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے والوں کا فوری احتساب کیا جائے۔عوامی حلقوں کا مطالبہ
کوئٹہ: بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ سے متعلق باخبر ذرائع نے انتہائی تشویشناک انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ادارے میں بڑے پیمانے پر مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیاں جاری ہیں، جن کے باعث صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی راہ میں سنگین رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بورڈ کے بعض بااثر افسران اور عناصر نے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ادارے کے شفاف نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ذرائع کے مطابق جن مقامی بڈرز کو درسی کتب کی اشاعت اور فراہمی کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، انہوں نے اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کیں، تاہم اس کے باوجود انہیں مختلف انتظامی اور تکنیکی جواز پیش کرکے غیر ضروری طور پر تنگ کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بلوچستان کے مقامی اور تجربہ کار بڈرز کو آئندہ مراحل سے باہر کرنے کی مبینہ کوششیں جاری ہیں، جبکہ ان کی جگہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے چند من پسند بڈرز کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ان بڈرز کے بارے میں ماضی میں بھی مختلف نوعیت کے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں اور ان پر جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور کٹ پیسٹ مواد کے استعمال کے ذریعے غیر معیاری کام کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایک اور اہم معاملہ مختلف ٹینڈرز کی مبینہ غیر قانونی منظوری کا ہے، جہاں قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح بورڈ میں بھرتیوں کے عمل پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعدد اہم آسامیوں، خصوصاً ریسرچ آفیسر جیسے تکنیکی عہدوں پر ایسے افراد کو تعینات کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کا متعلقہ شعبے سے مطلوبہ تعلیمی یا پیشہ ورانہ تعلق نہیں۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پبلک اکاؤنٹس کے سامنے بھی مبینہ طور پر ایسے دستاویزی ریکارڈ اور اعداد و شمار پیش کیے گئے جن کے ذریعے اصل صورتحال کو چھپانے اور کمیٹی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف مالی نظم و نسق بلکہ پارلیمانی نگرانی کے نظام پر بھی ایک سنگین سوال ہوگا۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال درسی کتب کی چھپائی اور دیگر منصوبوں میں کروڑوں روپے کی بچت کے دعوے کیے گئے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے مختص تمام فنڈز جاری کیے گئے، بلکہ اضافی فنڈز بھی حاصل کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق ان دعوؤں اور مالی ریکارڈ کے درمیان موجود فرق کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم بلوچستان کے صوبائی وزیر اور سیکرٹری کو ان تمام معاملات سے آگاہ کیا جا چکا ہے، تاہم تاحال کسی مؤثر کارروائی یا واضح مؤقف کا سامنے نہ آنا کئی نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی فوری اور شفاف تحقیقات نہ کرائی گئیں تو بلوچستان میں پہلے سے مشکلات کا شکار تعلیمی نظام مزید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *