Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
صنعتی پولٹری فارمنگ: انسانی صحت کے لیے خاموش خطرہاسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیصنعتی پولٹری فارمنگ: انسانی صحت کے لیے خاموش خطرہاسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشی

صنعتی پولٹری فارمنگ: انسانی صحت کے لیے خاموش خطرہ

تحریر:۔ یاسر دانیال صابری
دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ آبادی بڑھ رہی ہے، خوراک کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس طلب کو پورا کرنے کے لیے زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی اختیار کی جا رہی ہے۔ پولٹری فارمنگ بھی انہی شعبوں میں شامل ہے جہاں گزشتہ چند دہائیوں میں حیران کن ترقی دیکھنے میں آئی۔ آج دنیا بھر میں اربوں مرغیاں صنعتی پیمانے پر پالی جا رہی ہیں تاکہ گوشت اور انڈوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ لیکن ترقی کا ہر قدم اگر احتیاط کے بغیر اٹھایا جائے تو اس کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک اہم سائنسی تحقیق نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ صنعتی پیمانے پر پولٹری فارمنگ نے ایک خطرناک بیکٹیریا کیمپائلو بیکٹر (Campylobacter) کے پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ بیکٹیریا دنیا بھر میں فوڈ پوائزننگ اور شدید دست کی سب سے بڑی وجوہات میں شمار ہوتا ہے۔ تحقیق نے نہ صرف اس جراثیم کے تیزی سے پھیلنے کی نشاندہی کی بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ یہ بیکٹیریا مسلسل اپنی جینیاتی ساخت تبدیل کر رہا ہے، جس سے اس کے خلاف علاج مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔یہ تحقیق محض سائنس دانوں کے لیے تشویش کا باعث نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے جو روزمرہ زندگی میں مرغی کا گوشت یا انڈے استعمال کرتا ہے۔ خوراک کی حفاظت، عوامی صحت اور اینٹی بائیوٹکس کے بے جا استعمال جیسے مسائل اب صرف طبی موضوعات نہیں رہے بلکہ قومی اور عالمی سلامتی کا مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے 1979 سے 2024 تک تیس مختلف ممالک سے حاصل کیے گئے تقریباً آٹھ ہزار سے زائد کیمپائلو بیکٹر کے جینومز کا تجزیہ کیا۔ ان میں تجارتی پولٹری فارموں کی مرغیوں اور جنگلی پرندوں دونوں سے حاصل کیے گئے نمونے شامل تھے۔ اس وسیع تحقیق سے معلوم ہوا کہ صنعتی پولٹری فارمنگ نے اس بیکٹیریا کو ایسی نئی جینیاتی خصوصیات اختیار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جو اسے زیادہ تیزی سے پھیلنے اور زیادہ دیر تک زندہ رہنے میں مدد دیتی ہیں۔تحقیق کے مطابق 1960 کی دہائی سے اب تک دنیا میں مرغیوں کی تعداد تقریباً سات گنا بڑھ کر اکتیس ارب تک پہنچ چکی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں پرندوں کو محدود جگہوں پر رکھنے سے جراثیم کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے جہاں وہ نہ صرف آسانی سے منتقل ہوتے ہیں بلکہ مسلسل ارتقا بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہی ارتقائی عمل مستقبل میں انسانوں کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔کیمپائلو بیکٹر ایک ایسا بیکٹیریا ہے جو عموماً آلودہ یا اچھی طرح نہ پکے ہوئے مرغی کے گوشت، آلودہ پانی یا کچی خوراک کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس سے متاثرہ افراد کو شدید اسہال، بخار، پیٹ میں درد، قے اور کمزوری جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر مریض چند دنوں میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد، بچوں اور بزرگوں کے لیے یہ انفیکشن جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔تحقیق کا ایک نہایت تشویشناک پہلو اینٹی بائیوٹک مزاحمت ہے۔ دنیا بھر میں پولٹری فارموں میں بیماریوں کی روک تھام اور پیداوار بڑھانے کے لیے اینٹی بائیوٹکس کا استعمال عام ہے۔ جب یہ ادویات ضرورت سے زیادہ یا غیر محتاط انداز میں استعمال کی جاتی ہیں تو بیکٹیریا ان کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں۔ نتیجتاً وہ ادویات جو پہلے مؤثر تھیں، مستقبل میں بے اثر ہو سکتی ہیں۔آج عالمی ادارۂ صحت بھی اینٹی بائیوٹک مزاحمت کو انسانی صحت کے لیے سب سے بڑے خطرات میں شمار کرتا ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں معمولی انفیکشن بھی ایسے بن سکتے ہیں جن کا علاج ممکن نہیں رہے گا۔ اس لیے پولٹری انڈسٹری میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کو سخت ضابطوں کے تحت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پروفیسر سام شیپرڈ، جو اس تحقیق کے مرکزی مصنف ہیں، کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے ماحول میں آنے والی تبدیلیاں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو تیز کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہمیں صرف بیماریوں کا علاج کرنے پر توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ ان عوامل کو بھی سمجھنا ہوگا جو ان بیماریوں کو جنم دیتے ہیں۔ اگر جراثیم کے ارتقائی عمل کو بہتر طور پر نہ سمجھا گیا تو مستقبل میں نئی وبائیں جنم لے سکتی ہیں۔یہ تحقیق ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتی ہے کہ جانوروں، انسانوں اور ماحول کی صحت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر فارموں میں صفائی کا مناسب انتظام نہ ہو، جانوروں کو غیر صحت مند ماحول میں رکھا جائے یا حیاتیاتی تحفظ کے اصول نظر انداز کیے جائیں تو اس کے اثرات بالآخر انسانوں تک ضرور پہنچتے ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ مزید حساس ہے۔ یہاں پولٹری کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، مگر بہت سے فارموں میں بائیو سیکیورٹی کے بین الاقوامی اصولوں پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو پاتا۔ بعض مقامات پر صفائی کے ناقص انتظامات، ادویات کا غیر ذمہ دارانہ استعمال، بیماریوں کی بروقت تشخیص کا فقدان اور نگرانی کے کمزور نظام خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔یہاں صرف فارم مالکان ہی ذمہ دار نہیں بلکہ صارفین کی بھی اہم ذمہ داری بنتی ہے۔ مرغی کے گوشت کو ہمیشہ اچھی طرح پکانا، کچے گوشت کو دیگر غذاؤں سے الگ رکھنا، گوشت کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ کرنا، ہاتھوں اور باورچی خانے کے برتنوں کی صفائی کا خیال رکھنا اور آلودہ پانی سے پرہیز کرنا ایسے آسان اقدامات ہیں جو انفیکشن کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔حکومتوں کو بھی اس تحقیق کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ پولٹری فارموں کی باقاعدہ نگرانی، اینٹی بائیوٹکس کے استعمال پر مؤثر قوانین، لیبارٹری ٹیسٹنگ کے جدید نظام، خوراک کے معیار کی مسلسل جانچ اور عوام میں آگاہی مہمات ناگزیر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ویٹرنری سائنس، مائیکرو بایولوجی اور عوامی صحت کے شعبوں کے درمیان بہتر تعاون بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔جامعات اور تحقیقی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ مقامی سطح پر اس نوعیت کی تحقیق کو فروغ دیں۔ ہر ملک کے موسمی، جغرافیائی اور زرعی حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے مقامی تحقیق ہی ایسے مسائل کا دیرپا حل پیش کر سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی پولٹری فارمنگ سے وابستہ جراثیمی بیماریوں پر جامع مطالعات کی اشد ضرورت ہے تاکہ بروقت مؤثر پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پولٹری انڈسٹری لاکھوں افراد کے روزگار اور قومی معیشت کا اہم ستون ہے۔ اس لیے مقصد اس صنعت کی حوصلہ شکنی نہیں بلکہ اسے زیادہ محفوظ، جدید اور ذمہ دار بنانا ہے۔ جدید بائیو سیکیورٹی، معیاری ویکسینیشن، سائنسی نگرانی اور ذمہ دارانہ اینٹی بائیوٹک پالیسی ہی اس شعبے کی پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔انسان نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے فطرت میں بے شمار تبدیلیاں کی ہیں، مگر ہر تبدیلی کے نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ اگر ترقی اور احتیاط کے درمیان توازن قائم نہ رکھا جائے تو یہی ترقی نئے بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی یہ تحقیق ہمیں بروقت متنبہ کر رہی ہے کہ خوراک کی پیداوار میں صرف مقدار نہیں بلکہ معیار اور حفاظت کو بھی اولین ترجیح دینی ہوگی۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں، سائنس دان، پولٹری انڈسٹری، طبی ماہرین اور عام شہری سب مل کر ایک ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس میں انسانی صحت کو ہر قیمت پر مقدم رکھا جائے۔ محفوظ خوراک، ذمہ دارانہ پیداوار، اینٹی بائیوٹکس کا محتاط استعمال اور مؤثر بائیو سیکیورٹی ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں مستقبل کے بڑے صحتی بحرانوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔اگر ہم نے اس سائنسی انتباہ کو نظرانداز کیا تو آنے والے برسوں میں نہ صرف فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں اضافہ ہوگا بلکہ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والے جراثیم پوری دنیا کے لیے ایک ایسا چیلنج بن جائیں گے جس پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگا۔ لیکن اگر آج ہی دانشمندانہ فیصلے کیے جائیں، تحقیق کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے اور احتیاط کو معمول بنایا جائے تو ہم آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صحت مند اور بیماریوں سے زیادہ محفوظ مستقبل دے سکتے ہیں۔ یہی اس تحقیق کا سب سے اہم پیغام ہے، اور یہی ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی۔۔۔
تحریر یاسر دانیال صابری

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *