Banner

مشرقِ وسطیٰ اور نئی صف بندیاں

Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظرنامہ
مشرقِ وسطیٰ اور نئی صف بندیاں

صحافت قارئین ۔ مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں دہائیوں پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئے سیاسی و دفاعی بلاکس جنم لے رہے ہیں۔ طاقت کا روایتی توازن، جو کبھی عرب قوم پرستی اور اسرائیل دشمنی کے گرد گھومتا تھا، اب مکمل طور پر “تزویراتی مفادات” اور “حفاظتی خدشات” کی بنیاد پر ازسرنو ترتیب پا رہا ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلو اسرائیل اور بعض اہم عرب ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ہے، جسے ابراہیمی معاہدات نے ایک نئی جہت عطاء کی۔ یہ محض سفارتی تعلقات کا قیام نہیں تھا بلکہ ایک مشترکہ معاشی اور دفاعی نیٹ ورک کی بنیاد تھی جس کا مقصد خطے میں ایک نیا اسٹیٹس کو پیدا کرنا تھا۔ تاہم، غزہ کی حالیہ صورتحال نے ان تمام تر صف بندیوں کو ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ غزہ میں جاری انسانی المیے اور فوجی کشیدگی نے جہاں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا ہے، وہاں عرب ریاستوں کے لیے بھی اپنے عوامی ردعمل اور ریاستی مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ غزہ کی لہروں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کو نظرانداز کر کے خطے میں کوئی بھی پائیدار امن یا نئی صف بندی ادھوری رہے گی۔
ایران کا علاقائی کردار اس پوری بساط پر ایک کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ تہران نے اپنی “مزاحمتی محور” (Axis of Resistance) کی پالیسی کے ذریعے لبنان، یمن، عراق اور شام میں اپنے اثر و رسوخ کو اس طرح منظم کیا ہے کہ اب وہ خطے کی کسی بھی بڑی سیاسی تبدیلی میں ایک ناگزیر فریق بن چکا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ سمجھوتے نے اگرچہ تناؤ میں عارضی کمی کی ہے، لیکن تزویراتی مقابلہ اب بھی برقرار ہے۔ ایک طرف جہاں امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل اور بعض عرب ریاستیں ایک دفاعی ڈھال تشکیل دینے کی کوشش میں ہیں، وہیں دوسری طرف ایران اور اس کے اتحادی اس اثر کو زائل کرنے کے لیے اپنی عسکری اور سیاسی موجودگی کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ غزہ کی جنگ نے اس کشمکش کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جہاں حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں کارروائیاں اور حزب اللہ کی سرحدوں پر سرگرمیوں نے عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔عالمی طاقتوں کا کردار بھی اس نئی صف بندی میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امریکہ، جو روایتی طور پر اس خطے کا واحد پاور بروکر رہا ہے، اب اپنی توجہ ایشیا بحرالکاہل کی طرف منتقل کر رہا ہے، جس سے پیدا ہونے والے خلا کو چین اور روس پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین کا معاشی اثر و رسوخ اور روس کی فوجی مداخلت نے عرب ممالک کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع لائیں اور محض ایک بلاک پر انحصار کرنے کے بجائے “کثیر الجہتی سفارت کاری” اپنائیں۔ اس صورتحال میں ترکیہ اور قطر جیسے ممالک بھی اپنے تئیں ایک ثالث اور معتدل قوت کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایک طرف تو حماس جیسے گروہوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور دوسری طرف مغرب کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات رکھتے ہیں۔مستقبل کا مشرقِ وسطیٰ اب محض نقشوں کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ یہ نظریات اور مفادات کی ایک ایسی جنگ ہے جہاں ٹیکنالوجی، توانائی کے ذرائع اور انسانی حقوق کے مسائل ایک دوسرے میں پیوست ہو چکے ہیں۔ غزہ کی صورتحال نے جو سیاسی شعور پیدا کیا ہے، اس نے خطے کے نوجوانوں میں ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے جو اب پرانی طرز کی مصلحت پسندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انسانی بنیادوں پر اٹھنے والی یہ آوازیں مستقبل میں عرب حکومتوں کی پالیسی سازی پر اثر انداز ہوں گی۔ خلاصہ یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کی نئی صف بندی ایک طرف تو اسرائیل اور ایران کے مابین براہِ راست ٹکراؤ کے خدشات کو جنم دے رہی ہے، تو دوسری طرف معاشی استحکام کے لیے علاقائی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دے رہی ہے۔ یہ تضادات سے بھرپور دور ہے جہاں ہر ریاست اپنی بقا اور برتری کے لیے نئی بساط بچھا رہی ہے، اور اس بساط کا حتمی نتیجہ آنے والی کئی دہائیوں تک عالمی سیاست کے رخ کا تعین کرے گا۔

مشرقِ وسطیٰ اور نئی صف بندیاں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us