Banner

عالمی منشیات اور اس کے اثرات

Share

Share This Post

or copy the link


قارئین صحافت ۔عالمی سطح پر منشیات کا استعمال ایک انتہائی پیچیدہ اور سنگین سماجی، معاشی اور صحت عامہ کا مسئلہ بن چکا ہے جس نے دنیا کے تمام خطوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کی عالمی منشیات رپورٹ کے مطابق، دنیا میں منشیات کا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف افراد کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ قومی معیشتیں اور معاشرتی ڈھانچے بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ عالمی سطح پر منشیات کی کئی اقسام موجود ہیں جنہیں بنیادی طور پر قدرتی، نیم مصنوعی اور مکمل مصنوعی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ قدرتی منشیات میں افیون، چرس اور کوکین شامل ہیں جو مختلف پودوں سے حاصل کی جاتی ہیں، جبکہ مصنوعی منشیات جیسے کہ ایمفیتامینز، میتھامفیٹامائن اور فینٹینائل لیبارٹریوں میں تیار کی جاتی ہیں اور ان کے اثرات انسانی اعصابی نظام پر انتہائی تباہ کن ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ، فارماسیوٹیکل ادویات کا غیر طبی استعمال بھی ایک بڑی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، جہاں درد کش اور سکون آور ادویات کا غلط استعمال عام ہو چکا ہے۔ عالمی آبادی کی بات کی جائے تو UNODC کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں تقریباً 316 ملین افراد منشیات استعمال کرتے ہیں، جو کہ پندرہ سے چونسٹھ سال کی کل عالمی آبادی کا تقریباً چھ فیصد حصہ بنتے ہیں۔ اس متاثرہ آبادی میں مردوں کی شرح خواتین کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، تاہم حالیہ برسوں میں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی جانب سے نشہ آور ادویات کے استعمال، خاص طور پر مصنوعی گولیوں اور فارماسیوٹیکل مصنوعات کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نوجوان اور کم عمر افراد اس وبا کے سب سے بڑے ہدف ہیں، کیونکہ بے روزگاری، ذہنی دباؤ اور معلومات کی کمی کی وجہ سے وہ آسانی سے منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے مختلف خطے اس کے مختلف اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شمالی امریکہ میں فینٹینائل اور دیگر مصنوعی اوپیئٹس نے صحت کا ایک بہت بڑا بحران پیدا کر رکھا ہے، جس سے ہر سال ہزاروں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ مغربی اور وسطی یورپ میں کوکین کا استعمال اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور یہاں منشیات کی اسمگلنگ کے نئے روٹس بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایشیا اور افریقہ کے خطوں میں روایتی افیون اور کینابس کی کھپت کے ساتھ ساتھ سستی اور خطرناک مصنوعی منشیات کی پیداوار میں تیزی آئی ہے۔ اس کے علاوہ، ترقی پذیر ممالک میں علاج کی سہولیات کا فقدان اور منشیات کے عادی افراد کے ساتھ سماجی رویہ ان کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس عالمی بحران پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششوں، بہتر قوانین اور آگاہی مہمات کی اشد ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

عالمی منشیات اور اس کے اثرات

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us