Banner

پسینے کی خوشبو اور تہذیب کا قرض یومِ مزدور کی فکری بازگشت

Share

Share This Post

or copy the link


پسینے کی خوشبو اور تہذیب کا قرض
یومِ مزدور کی فکری بازگشت

منشا قاضی
حسبِ منشا

دنیا کی تمام تر چکاچوند، بلند و بالا عمارتیں، روشن سڑکیں اور ترقی کے دعوے دراصل ایک خاموش حقیقت کے مرہونِ منت ہیں— شہزادہ عالمگیر کا دل محنت کشوں کی فاقہ کشی اور روزانہ کنواں کھود کر پانی پینے والوں کے لیئے غم سے بھرا ہوا ہے ۔ یومِ مئی کے تقاضے بیان کرتے ہوئے شہزادہ عالمگیر نے مزدور کے اوزاروں سے لیکر اس کی آزردگی تک کی حقیقت بیان کر دی اور کہا یہ وہ حقیقت جو کسی مزدور کے ماتھے پر چمکتے پسینے کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ یومِ مزدور ہمیں اسی خاموش مگر عظیم کردار کی یاد دلاتا ہے، جو تاریخ کے ہر موڑ پر موجود رہا، مگر اکثر نظر انداز کر دیا گیا۔
فلسفے کی زبان میں اگر دیکھا جائے تو محنت محض جسمانی عمل نہیں بلکہ ایک تخلیقی قوت ہے۔ انسان اپنی محنت کے ذریعے نہ صرف دنیا کو بدلتا ہے بلکہ خود کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ یہ محنت ہی ہے جو مٹی کو اینٹ، اینٹ کو دیوار، اور دیوار کو ایک خواب کی تعبیر میں بدل دیتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جس ہاتھ نے خوابوں کو حقیقت بنایا، وہی ہاتھ اکثر محرومی کی زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے۔
یومِ مزدور کی اصل روح اس شعور میں پوشیدہ ہے کہ محنت کش محض ایک معاشی اکائی نہیں بلکہ ایک مکمل انسان ہے، جس کے جذبات، خواہشات اور حقوق ہیں۔ جب ہم مزدور کو صرف ایک “وسیلہ” سمجھتے ہیں تو دراصل ہم انسانیت کی نفی کرتے ہیں۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں انسان کو اس کی محنت کے ساتھ ساتھ اس کی عزت بھی دی جائے۔ شہزادہ عالمگیر کے دل کی دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں جو پیغام دیتی ہیں کہ
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے۔ ہم ترقی کے خواب تو دیکھتے ہیں، مگر اس خواب کی تعبیر کرنے والے مزدور کو فراموش کر دیتے ہیں۔ ہم بلند عمارتوں پر فخر کرتے ہیں، مگر ان اینٹوں کو جوڑنے والے ہاتھوں کی تھکن کو محسوس نہیں کرتے۔ یہ وہ اخلاقی خلا ہے جو ہماری اجتماعی سوچ کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ شہزادہ عالمگیر نے ادبی طرزِ اسلوب سے اربابِ حکومت کی توجہ دلائی ہے ۔ اس میں ذرہ برابر شک نہیں ہے کہ
ادب نے ہمیشہ اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاعروں اور ادیبوں نے مزدور کے دکھ، اس کی امید اور اس کی خاموش جدوجہد کو لفظوں میں ڈھالا ہے۔ کیونکہ ادب کا اصل کام ہی یہ ہے کہ وہ ان آوازوں کو سنائے جو شور میں دب جاتی ہیں۔ یومِ مزدور دراصل اسی دبے ہوئے احساس کو بیدار کرنے کا دن ہے۔
اگر ہم اس دن کو محض ایک تعطیل یا رسمی تقاریب تک محدود رکھیں تو یہ اس کی روح کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ کیا ہم اپنے اردگرد کام کرنے والے افراد کو وہ عزت دیتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں؟ کیا ہم ان کے حقوق کے لیئے آواز اٹھاتے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں انصاف صرف ایک نعرہ نہ ہو بلکہ ایک عملی حقیقت ہو۔۔؟
فلسفیانہ طور پر دیکھا جائے تو معاشرے کی اصل قدر اس کے کمزور ترین طبقے کے ساتھ برتاؤ سے معلوم ہوتی ہے۔ اگر مزدور مطمئن ہے، محفوظ ہے اور باعزت زندگی گزار رہا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ صحیح سمت میں گامزن ہے۔ لیکن اگر وہ محرومی، استحصال اور بے یقینی کا شکار ہے تو یہ ترقی کے تمام دعووں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہی بات شہزادہ عالمگیر کی دل گیر آواز کی باز گشت ہے۔
یومِ مزدور ہمیں ایک اجتماعی احتساب کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیب کا ہر سنگِ میل کسی مزدور کے پسینے سے تراشا گیا ہے۔ لہٰذا یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم اس پسینے کی حرمت کو پہچانیں، اس کا احترام کریں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں محنت صرف بقا کا ذریعہ نہ ہو بلکہ وقار کی علامت بھی بنے۔ مزدور کو عزت دینے والے شہزادہ عالمگیر کا میں ممنونِ احسان ہوں جنہوں نے یومِ مزدور کے تقاضوں سے روشناس کیا اور مجھے تحریک دی کہ میں صرف شخصیات کے قصیدے ہی نہ لکھوں ، مزدور کی محنت کی عظمت کے سامنے اپنے دیدہ و دل جھکا دوں کیونکہ محنت ہی وہ کنجی ہے جو دولت کے دروازے کھولتی ہےایڈیسن نک ہاتھوں کی میرا کوئی اہم کام اتفاقی یا حادثاتی نہیں اور میری کوئی ایک دریافت بھی ایسی نہیں جو حادثاتی طور پر ظہور میں اگئی ہو میری تمام ہی جادیں ان تھک محنت کا نتیجہ ہے محنتی کے سامنے پہاڑ کنکر اور سست کے سامنے کنکر پہاڑ ہے محنت کے بغیر کامیابی حاصل کرنے کی تمنا رکھنا ایسا ہی ہے کہ کاش کیے بغیر ہی فصل کاٹنے اور سمیٹنے کی دھن میں رہنا محنت وہ سنہری سکہ ہے جس کے ذریعے سے ہمیں ہر شے جو ہمارے لیے ضروری ہے حاصل ہو سکتی ہے بیتا پانی کبھی باسی نہیں ہوتا وہ دروازے کے گلابے کو کبھی دیمک نہیں لگتی یہ ضرب المثل بڑی مشہور ہے

محنت ہو تو سدا سہاگن کیا مٹی کیا ریت

خون پسینہ ایک کریں تو ہرا بھرا ہو کیھت

آخرکار، یہ کہنا بجا ہوگا کہ مزدور صرف معیشت کا پہیہ نہیں بلکہ انسانیت کا چہرہ ہے۔ جب یہ چہرہ مسکراتا ہے تو تہذیب روشن ہوتی ہے، اور جب یہ اداس ہوتا ہے تو ترقی کی تمام روشنیاں مدھم پڑ جاتی ہیں۔ یومِ مزدور ہمیں اسی مسکراہٹ کو واپس لانے کا عہد یاد دلاتا ہے—ایک ایسا عہد جو صرف الفاظ نہیں بلکہ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ ۔ میں ایک بار پھر شہزادہ عالمگیر کا ممنون ہوں جنہوں نے میرے قلم کارخ ، رخِ مزدور کی طرف موڑ دیا اور بندہ ء مزدور کے تلخ ایام اور اوقات کا پیغام دنیا بھر کے مزدوروں تک پہنچا دیا ۔ ۔۔۔۔شہزادہ عالمگیر قول کے نہیں عمل کے انسان ہیں اور وہ مزدوروں کی فلاح اور بہبود کے لیے عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں ۔ شہزادہ عالمگیر کی قیادت میں یہ قافلہ ء نوبہار اپنی منزل مراد پر پہنچ کر دم لے گا اور دنیا جان لے گی کہ مزدوروں کے آسمان کے افق پر خوشحالی کا سورج کیوں کر طلوع ہوتا ہے ۔

یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں

ابھی چاند تیری یاد کے ڈھلے بھی نہیں

پسینے کی خوشبو اور تہذیب کا قرض یومِ مزدور کی فکری بازگشت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us