Banner
Daily Sahafat Quetta
September 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، گورنر بلوچستانکوئٹہ: گھر میں افسوسناک واقعہ، دو کمسن بچے جاں بحقپی ٹی آئی کی لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز، اچکزئی کا صاف انکارملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور ممکنہ سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاریمعصوم طالبعلم کی ہلاکت پر سوالات اٹھ گئے، مولانا عبدالرحمن رفیقایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس نصیرآباد کی اہم کارروائی، موٹر سائیکل کی سیٹ سے 6 کلو آئس برآمد، ملزم گرفتارانکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے، کاشف حیدریانتظام و احتساب سے ادب و مزاح تک محمد جمیل بھٹی کی ہمہ جہت شخصیتتحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اہم اجلاس، لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویزپی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کےلیے بڑے اقدامات، شہر اقتدار میں کنٹینر ہی کنٹینر، پہاڑی راستے بھی بندغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، گورنر بلوچستانکوئٹہ: گھر میں افسوسناک واقعہ، دو کمسن بچے جاں بحقپی ٹی آئی کی لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز، اچکزئی کا صاف انکارملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور ممکنہ سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاریمعصوم طالبعلم کی ہلاکت پر سوالات اٹھ گئے، مولانا عبدالرحمن رفیقایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس نصیرآباد کی اہم کارروائی، موٹر سائیکل کی سیٹ سے 6 کلو آئس برآمد، ملزم گرفتارانکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے، کاشف حیدریانتظام و احتساب سے ادب و مزاح تک محمد جمیل بھٹی کی ہمہ جہت شخصیتتحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اہم اجلاس، لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویزپی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کےلیے بڑے اقدامات، شہر اقتدار میں کنٹینر ہی کنٹینر، پہاڑی راستے بھی بند

آہ شیخ مولانا محمد ادریس شہیدؒ.علم و عرفان کا ایک روشن چراغ،


شہادتِ عظمیٰ کا دردناک باب اور علمی و تصنیفی خدمات

قارئینِ کرام! شیخ مولانا محمد ادریس شہیدؒ کی ذاتِ گرامی علم و عمل، تقویٰ اور جہدِ مسلسل کا ایک ایسا درخشاں مینار تھی جس کی روشنی نے ظلمتِ شب کے اندھیروں میں حق و صداقت کی شمع جلائے رکھی۔ آپ کا شمار ان جید اور مخلص علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ متین کی سربلندی، قرآن و حدیث کی اشاعت اور امتِ مسلمہ کی اصلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ کی سوانح حیات صرف ایک فرد کی داستانِ حیات نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کی ترجمان ہے جس میں اسلام کی خاطر ہر قسم کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کا جذبہ کارفرما تھا۔ آپ کا علمی اور دعوتی کام اس قدر وسیع تھا کہ اس نے ہر خاص و عام کو متاثر کیا اور دلوں میں عشقِ رسول اور محبتِ الٰہی کی جوت جگائی۔ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے دین کی نصرت کے لیے وقف تھا اور آپ کی گفتگو میں وہ تاثیر تھی جو پتھر دلوں کو بھی موم کر دیتی تھی۔ آپ کی زندگی کا یہ سفر انتہائی صبر آزما تھا اور آپ نے ہر قدم پر مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے حق کا دامن نہیں چھوڑا۔ آپ کا کردار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ نے کبھی بھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا اور ہمیشہ دینِ اسلام کی سچی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔ آپ کی یہ جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے اور آپ کی یادیں ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر: شیخ مولانا محمد ادریس شہیدؒ کی ابتدائی زندگی انتہائی سادہ اور دینی ماحول میں گزری۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے کے مکاتب اور مدارس سے حاصل کی اور اس کے بعد دینی علوم کی تکمیل کے لیے ملک کے نامور مدارس کا رخ کیا۔ آپ نے دورۂ حدیث اور فقہ کی تعلیم جید علماء اور اساتذہ سے حاصل کی، جہاں آپ کی ذہانت اور لگن نے آپ کے اساتذہ کو بے حد متاثر کیا۔ آپ بچپن ہی سے نہایت سنجیدہ، ذہین اور غورو فکر کرنے والے تھے۔ علم کے ساتھ ساتھ آپ کو اپنے بزرگوں اور اساتذہ سے والہانہ عقیدت تھی۔ دورانِ تعلیم ہی آپ میں یہ احساس پیدا ہو گیا تھا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش فکری اور نظریاتی چیلنجز کا مقابلہ صرف اور صرف خالص علمی اور دینی بنیادوں پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے اپنی محنت اور شبانہ روز مطالعے سے علومِ اسلامیہ میں اس قدر مہارت حاصل کی کہ بہت جلد آپ کا شمار اپنے علاقے کے ممتاز ترین علماء میں ہونے لگا۔درس و تدریس اور جمعیت علماء اسلام میں خدمات مولانا محمد ادریس شہیدؒ کی علمی خدمات کا دائرہ کار انتہائی وسیع اور ہمہ جہت تھا، جس میں تدریسِ قرآن، فقہی مسائل کی تشریح اور عصری فتنوں کے خلاف علمی اور فکری محاذ آرائی شامل تھی۔ آپ باقاعدہ طور پر درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ آپ ایک معروف دینی مدرسے میں حدیث اور تفسیر کا درس دیا کرتے تھے، جہاں سے آپ نے ایسے نوجوانوں کی کھیپ تیار کی جو دینِ اسلام کے سچے سپاہی بن کر ابھرے اور معاشرے میں پھیلی ہوئی گمراہیوں کا علمی بنیادوں پر مقابلہ کیا۔ آپ کی تصنیفات اور تقاریر میں دلائل کی پختگی اور بیان کی سادگی کا ایک انوکھا امتزاج تھا، جو قاری اور سامع کو براہِ راست متاثر کرتا تھا۔ آپ نے نہ صرف مدارس کے نظام کو مستحکم کیا بلکہ عوام الناس تک دین کی بنیادی تعلیمات کو انتہائی آسان اور فہم انداز میں پہنچایا۔
آپ کا سیاسی اور تنظیمی میدان میں بھی گہرا کردار تھا۔ آپ ‘جمعیت علماء اسلام’ کے ایک متحرک اور مرکزی رہنماء کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ آپ جے یو آئی کی ضلعی یا صوبائی مجلسِ شوریٰ اور تنظیمی عہدوں پر فائز رہ کر دینی اور ملی جدوجہد میں پیش پیش رہے۔ آپ نے جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ حق بات کہی اور کبھی بھی مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہوئے۔ علمی اور تصنیفی خدمات آپ کی علمی کاوشیں اس بات کی گواہ ہیں کہ آپ نے دینِ متین کی خدمت کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنایا۔ آپ کا علمی اور تصنیفی کام اس قدر ہمہ گیر ہے جس میں مختلف موضوعات پر کتابیں اور علمی مقالات شامل ہیں۔ آپ کی نمایاں اور معروف تصنیفات میں درج ذیل کتب شامل ہیں انوارِ قرآن قرآن پاک کی تفسیر اور فہمِ آیات پر مشتمل ایک جامع تصنیف، جس میں مشکل اور پیچیدہ قرآنی نکات کو عام فہم انداز میں سمجھایا گیا ہے۔الحدیث اور عصری تقاضے حدیثِ نبوی کی اہمیت اور جدید دور میں اس کی مطابقت پر لکھی گئی ایک تحقیقی کتاب۔فقہِ اسلامی اور فکری مباحث فقہی مسائل اور ان کے عصری اطلاق پر مبنی ایک گراں قدر علمی کام۔خطباتِ ادریس آپ کی دعوتی، اصلاحی اور سیاسی تقاریر کا مجموعہ جو مختلف فورمز پر امت کی رہنمائی کے لیے پیش کیا گیا۔ اصلاحِ معاشرہ معاشرتی برائیوں کے سدباب اور اخلاقی اقدار کی بحالی کے لیے لکھی گئی کتاب۔آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے کبھی بھی حق بات کہنے میں مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا، بلکہ ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی میں امت کو سیدھا راستہ دکھایا۔ آپ کے شاگرد آج بھی آپ کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں اور آپ کی علمی میراث کی حفاظت کر رہے ہیں۔شہادتِ عظمیٰ اور سانحۂ ارتحال آپ کی زندگی کا سب سے درخشاں اور تابناک پہلو آپ کی شہادت کا واقعہ ہے، جس نے آپ کی پوری زندگی کے مشن پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ آپ نے دینِ حق کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ایک سچے عالمِ دین کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا بلکہ وہ حق کی تحریک کو مزید تقویت بخشتا ہے۔ آپ کا یہ عظیم کارنامہ رہتی دنیا تک ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا جو راہِ حق پر چلتے ہوئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ یہ آپ کی موت نہیں بلکہ ایک ایسی حیاتِ جاودانی ہے جو آج بھی ہزاروں دلوں کو گرما رہی ہے اور امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ حق کی راہ میں قربانی ہی اصل کامیابی ہے۔
آپ کا یہ خونِ ناحق ظالموں کے لیے ایک بہت بڑا عذاب اور مظلوموں کے لیے ہمت کا سامان بن چکا ہے۔ اس سانحے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور ہر آنکھ اشکبار ہے، لیکن یہ آنسو اس بات کی علامت ہیں کہ آپ کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ آپ کا مشن ہمیشہ زندہ رہے گا اور آپ کی شہادت کے یہ دردناک لمحات تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ محفوظ رہیں گے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کی فکر، تصنیفات اور مشن کو آگے بڑھائیں تاکہ ان کا خون رائیگاں نہ جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *