مولانا عبدالواسع، جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر و سینیٹر، نے بلوچستان حکومت کی جانب سے اخبارات سے متعلق مجوزہ پالیسی/بل کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عوام کو بے روزگار کرنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہمیشہ بے روزگاری کے خاتمے اور عوام کو روزگار فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی موجودہ پالیسی لوکل اخبارات اور اس سے وابستہ ہزاروں افراد کے معاشی مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے، جو قابل قبول نہیں یہ بات انہوں نے اخباری مدیران کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی، وفد کی قیادت میر فاروق لانگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ناشناس لہڑی، سردار شاہ زمان پرکانی میر عبدالنبی سمالانی ،ملک بشیر شاہوانی ودیگر موجود تھے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ میڈیا معاشرے کی آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتا ہے، اور خاص طور پر پرنٹ میڈیا نے ہمیشہ ذمہ داری اور اعتماد کے ساتھ رپورٹنگ کی ہیں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بعض اخبارات کے ساتھ ان کے تحفظات موجود ہیں، بالخصوص کوریج کے حوالے سے، تاہم اس بنیاد پر پورے اخباری شعبے کو نقصان پہنچانا کسی طور درست نہیں انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علماء اسلام ایک ملک گیر جماعت ہے لیکن اسے وہ کوریج نہیں ملتی جس کی وہ حقدار ہے، اس کے باوجود وہ کسی ایکشن کے ذریعے اخبارات کے فنڈز بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اس سے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوگا انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پالیسی پر نظرثانی کریں اور اخباری صنعت سے وابستہ افراد کے مسائل حل کریں، نہ کہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جمعیت علماء اسلام اس مسئلے کو ہر فورم پر اٹھائے گی، وزیراعلیٰ سے ملاقات میں بھی اس پر بات ہوگی اور اسمبلی فلور پر بھی بھرپور آواز بلند کی جائے گی تاکہ حکومت کو اس پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کیا جا سکے۔