Banner
Daily Sahafat Quetta
September 22, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جماعت اسلامی کا وزیراعظم کی درخواست پر لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلانخضدار باغبانہ تھانے پر مسلح افراد کا حملہ، ایس ایچ او معمولی زخمیچمن بارڈر پر عوام کا معاشی استحصال قبول نہیں، مظلوم تحریک27 ستمبر کے سیلاب کو گرفتاریوں سے نہیں روکا جاسکتا، صادق آغابلوچستان میڈیا فورم نے 10 نکاتی مطالبات پیش کر دیےسیکریٹری صحت بلوچستان پر سنگین الزامات، ڈاکٹر شازیہ کا بڑا انکشافشہری مسائل کے حل کیلئے تمام محکمے مل کر کام کریں، ڈی سی کوئٹہترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ظہور بلیدیشہید پولیس اہلکاروں کی قربانی قابلِ قدر ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستاناساتذہ کے جائز حقوق کیلئے ہر محاذ پر آواز بلند کریں گے، ملگری استادانجماعت اسلامی کا وزیراعظم کی درخواست پر لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلانخضدار باغبانہ تھانے پر مسلح افراد کا حملہ، ایس ایچ او معمولی زخمیچمن بارڈر پر عوام کا معاشی استحصال قبول نہیں، مظلوم تحریک27 ستمبر کے سیلاب کو گرفتاریوں سے نہیں روکا جاسکتا، صادق آغابلوچستان میڈیا فورم نے 10 نکاتی مطالبات پیش کر دیےسیکریٹری صحت بلوچستان پر سنگین الزامات، ڈاکٹر شازیہ کا بڑا انکشافشہری مسائل کے حل کیلئے تمام محکمے مل کر کام کریں، ڈی سی کوئٹہترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ظہور بلیدیشہید پولیس اہلکاروں کی قربانی قابلِ قدر ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستاناساتذہ کے جائز حقوق کیلئے ہر محاذ پر آواز بلند کریں گے، ملگری استادان

لہو سے لکھی داستان پاکستان میں علماء کی شہادت

محمدنسیم رنزوریار

لہو سے لکھی داستان پاکستان میں علماء کی شہادت

قارئین کرام ۔پاکستان کی تاریخ ان بے گناہ اور پرخلوص ہستیوں کے خونِ ناحق سے رنگین ہے جنہوں نے اس دھرتی پر حق کی آواز بلند کی۔ علماء کرام کی شہادت کا یہ المناک سلسلہ محض چند افراد کا قتل نہیں، بلکہ یہ اس خطے کی نظریاتی بنیادوں اور قومی سالمیت پر کاری ضرب ہے۔ آج ہر دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیوں اور کیسے ان عظیم ہستیوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور کیوں آج تک ان کے قاتل قانون کی گرفت سے باہر ہیں؟ یہ دردناک سفر اس وقت شروع ہوا جب ملک کو فرقہ واریت اور بیرونی سازشوں کی آگ میں دھکیلا گیا۔ یہ ایک ایسی گھناؤنی سازش کی کڑی ہے جس کا مقصد معاشرے سے فکری و مذہبی قیادت کا خاتمہ کرنا اور نوجوان نسل کو ان کے حقیقی راہنماؤں سے محروم کرنا ہے۔
علماء کرام کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ کب اور کس کے دورِ حکومت میں شروع ہوا؟ اگر ہم ماضی کے اوراق پلٹیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ستر کی دہائی کے اواخر اور اسی کی دہائی کے اوائل میں اس فتنے نے منظم شکل اختیار کی۔ یہ وہ دور تھا جب خطے میں عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگوں کا آغاز ہوا اور بیرونی امداد سے چلنے والی تنظیموں نے اپنے ہی ملک کے امن کو داؤ پر لگا دیا۔ اس وقت کے حکمرانوں کی چشم پوشی اور ریاستی اداروں کی کمزوریوں کے باعث فرقہ وارانہ نفرتوں کو ہوا دی گئی۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کے تحت ان علماء کو چن چن کر شہید کیا گیا جو اتحادِ امت کی بات کرتے تھے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف ڈٹ جاتے تھے۔ اس دور کے بعد سے لے کر اب تک یہ سلسلہ مختلف شکلیں بدل کر جاری رہا اور ملک کے طول و عرض میں ہزاروں علماء کو شہید کر دیا گیا۔
یہ دردناک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اب تک پاکستان بھر میں کل کتنی علماء کرام شہید ہو چکے ہیں، مختلف ریسرچ رپورٹس اور مذہبی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان میں ہر مکتبہ فکر کے جید علماء، خطیب، اور دینی مدارس کے اساتذہ شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی تبلیغ اور معاشرے کی اصلاح میں گزار دی۔ المیہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں شہادتوں کے باوجود، زیادہ تر واقعات کے اصل محرکات اور قاتل آج بھی انصاف کی گرفت سے دور ہیں۔ ناقص تفتیش، گواہوں کے خوف، اور قانونی نظام کی کمزوریوں نے قاتلوں کو کھلے عام گھومنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان شہداء کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کے انصاف کے منتظر ہیں، لیکن ان کی دہائیوں پر محیط جدوجہد بے سود ثابت ہوئی ہے، جس سے معاشرے میں عدم تحفظ اور مایوسی کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔یہ سوال بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ یہ سلسلہ آخر کس سازش کی کڑی ہے؟ درحقیقت، علماء کرام کا قتلِ عام اس بین الاقوامی اور علاقائی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانا اور اسے کمزور کرنا ہے۔ جب بھی کوئی قوم اپنی فکری اور روحانی قیادت سے محروم ہوتی ہے، تو وہاں اخلاقی زوال کے ساتھ ساتھ فکری انتشار پھیل جاتا ہے۔ نوجوانوں کو انتہاء پسندی کی طرف دھکیلنے کے لیے علماء کی آواز کو خاموش کروانا ایک ناگزیر ہدف سمجھا گیا۔ عالمی طاقتیں اور ان کے مقامی سہولت کار نہیں چاہتے کہ اس خطے میں امن و امان قائم رہے یا لوگ دینی اقدار کے ساتھ جڑے رہیں۔ اس لیے ان علماء کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو لوگوں کو محبت، اخوت اور صبر کا درس دیتے ہیں۔اس تمام تر صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد دل خون کے آنسو روتا ہے کہ جن لوگوں نے اس ملک کی تعمیر و ترقی اور اخلاقی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا، ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف ان کے خاندان اور بچے یتیم ہو جاتے ہیں، اور دوسری طرف ان کی قربانیوں کو فراموش کر کے قاتلوں کو کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں دوبارہ امن قائم ہو اور محبت کی فضا بحال ہو، تو ہمیں ان سازشوں کو سمجھنا ہوگا اور ریاست کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہوگا۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے ان شہداء کے خون کا احترام کریں اور ملک میں ایک ایسا نظامِ عدل قائم کریں جہاں ہر قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔آخری بات یہ ہے کہ علماء کرام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے۔ جب تک ہم اس ناسور کو جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکتے، اس وقت تک پاکستان کے امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے اور آنے والی نسلوں کو ایک پرامن اور محفوظ پاکستان دیا جائے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *