Banner

لہو سے لکھی داستان پاکستان میں علماء کی شہادت

Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

لہو سے لکھی داستان پاکستان میں علماء کی شہادت

قارئین کرام ۔پاکستان کی تاریخ ان بے گناہ اور پرخلوص ہستیوں کے خونِ ناحق سے رنگین ہے جنہوں نے اس دھرتی پر حق کی آواز بلند کی۔ علماء کرام کی شہادت کا یہ المناک سلسلہ محض چند افراد کا قتل نہیں، بلکہ یہ اس خطے کی نظریاتی بنیادوں اور قومی سالمیت پر کاری ضرب ہے۔ آج ہر دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیوں اور کیسے ان عظیم ہستیوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور کیوں آج تک ان کے قاتل قانون کی گرفت سے باہر ہیں؟ یہ دردناک سفر اس وقت شروع ہوا جب ملک کو فرقہ واریت اور بیرونی سازشوں کی آگ میں دھکیلا گیا۔ یہ ایک ایسی گھناؤنی سازش کی کڑی ہے جس کا مقصد معاشرے سے فکری و مذہبی قیادت کا خاتمہ کرنا اور نوجوان نسل کو ان کے حقیقی راہنماؤں سے محروم کرنا ہے۔
علماء کرام کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ کب اور کس کے دورِ حکومت میں شروع ہوا؟ اگر ہم ماضی کے اوراق پلٹیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ستر کی دہائی کے اواخر اور اسی کی دہائی کے اوائل میں اس فتنے نے منظم شکل اختیار کی۔ یہ وہ دور تھا جب خطے میں عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگوں کا آغاز ہوا اور بیرونی امداد سے چلنے والی تنظیموں نے اپنے ہی ملک کے امن کو داؤ پر لگا دیا۔ اس وقت کے حکمرانوں کی چشم پوشی اور ریاستی اداروں کی کمزوریوں کے باعث فرقہ وارانہ نفرتوں کو ہوا دی گئی۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کے تحت ان علماء کو چن چن کر شہید کیا گیا جو اتحادِ امت کی بات کرتے تھے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف ڈٹ جاتے تھے۔ اس دور کے بعد سے لے کر اب تک یہ سلسلہ مختلف شکلیں بدل کر جاری رہا اور ملک کے طول و عرض میں ہزاروں علماء کو شہید کر دیا گیا۔
یہ دردناک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اب تک پاکستان بھر میں کل کتنی علماء کرام شہید ہو چکے ہیں، مختلف ریسرچ رپورٹس اور مذہبی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان میں ہر مکتبہ فکر کے جید علماء، خطیب، اور دینی مدارس کے اساتذہ شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی تبلیغ اور معاشرے کی اصلاح میں گزار دی۔ المیہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں شہادتوں کے باوجود، زیادہ تر واقعات کے اصل محرکات اور قاتل آج بھی انصاف کی گرفت سے دور ہیں۔ ناقص تفتیش، گواہوں کے خوف، اور قانونی نظام کی کمزوریوں نے قاتلوں کو کھلے عام گھومنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان شہداء کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کے انصاف کے منتظر ہیں، لیکن ان کی دہائیوں پر محیط جدوجہد بے سود ثابت ہوئی ہے، جس سے معاشرے میں عدم تحفظ اور مایوسی کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔یہ سوال بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ یہ سلسلہ آخر کس سازش کی کڑی ہے؟ درحقیقت، علماء کرام کا قتلِ عام اس بین الاقوامی اور علاقائی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانا اور اسے کمزور کرنا ہے۔ جب بھی کوئی قوم اپنی فکری اور روحانی قیادت سے محروم ہوتی ہے، تو وہاں اخلاقی زوال کے ساتھ ساتھ فکری انتشار پھیل جاتا ہے۔ نوجوانوں کو انتہاء پسندی کی طرف دھکیلنے کے لیے علماء کی آواز کو خاموش کروانا ایک ناگزیر ہدف سمجھا گیا۔ عالمی طاقتیں اور ان کے مقامی سہولت کار نہیں چاہتے کہ اس خطے میں امن و امان قائم رہے یا لوگ دینی اقدار کے ساتھ جڑے رہیں۔ اس لیے ان علماء کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو لوگوں کو محبت، اخوت اور صبر کا درس دیتے ہیں۔اس تمام تر صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد دل خون کے آنسو روتا ہے کہ جن لوگوں نے اس ملک کی تعمیر و ترقی اور اخلاقی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا، ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف ان کے خاندان اور بچے یتیم ہو جاتے ہیں، اور دوسری طرف ان کی قربانیوں کو فراموش کر کے قاتلوں کو کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں دوبارہ امن قائم ہو اور محبت کی فضا بحال ہو، تو ہمیں ان سازشوں کو سمجھنا ہوگا اور ریاست کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہوگا۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے ان شہداء کے خون کا احترام کریں اور ملک میں ایک ایسا نظامِ عدل قائم کریں جہاں ہر قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔آخری بات یہ ہے کہ علماء کرام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے۔ جب تک ہم اس ناسور کو جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکتے، اس وقت تک پاکستان کے امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے اور آنے والی نسلوں کو ایک پرامن اور محفوظ پاکستان دیا جائے۔

لہو سے لکھی داستان پاکستان میں علماء کی شہادت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us