Banner

رموزِ بیخودی لفظوں کے آئینے میں خودی کی جستجو

Share

Share This Post

or copy the link

رموزِ بیخودی
لفظوں کے آئینے میں خودی کی جستجو

تحریر: منشا قاضی

لاہور کی علمی فضا میں ایک بار پھر فکر و دانش کے چراغ روشن ہوئے جب چغتائی لیب، ہیڈ آفس جیل روڈ پر فارسی ادب اور اقبالیات کے متوالوں کے لیے ایک بامعنی اور روح پرور ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ یہ نشست محض ایک تعلیمی سرگرمی نہ تھی بلکہ روح کی گہرائیوں میں اتر کر خودی کے اسرار کو سمجھنے کی ایک خاموش مگر پُراثر کاوش تھی، جسے “رموزِ بیخودی” کے عنوان سے مزین کیا گیا۔
یہ محفل دراصل اس فکری سفر کا آغاز تھی جس کا مقصد علامہ اقبال کے فارسی کلام کو محض پڑھنا نہیں بلکہ اس کے باطن میں پوشیدہ معنویت کو دریافت کرنا ہے۔ اقبال کا فارسی کلام ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنی ذات کے عکس کو پہچان سکتا ہے، بشرطیکہ وہ دیکھنے کی بصیرت رکھتا ہو۔
نشست کی علمی رہنمائی معروف ماہرِ اقبالیات، محترم برگیڈیئر ڈاکٹر وحیدالزماں طارق نے نہایت مہارت اور شائستگی کے ساتھ انجام دی۔ ان کا اندازِ تدریس محض معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ ایک فکری مکالمہ تھا، جس میں ہر لفظ ایک دروازہ اور ہر خیال ایک نئی دنیا کی طرف اشارہ کرتا محسوس ہوا۔ انہوں نے اقبال کے فارسی کلام کو اس انداز میں پیش کیا کہ سامعین نہ صرف اشعار کو سمجھ سکے بلکہ ان کے اندر چھپی ہوئی روحانی حرارت کو بھی محسوس کر سکے۔
محفل میں شریک افراد کی تعداد اس بات کی غماز تھی کہ آج بھی اقبال کا پیغام زندہ ہے اور فارسی زبان سے محبت رکھنے والے دل اس کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔ طلبہ، اساتذہ، ادیب اور عام شائقینِ اقبال سبھی ایک ہی فکری دھارے میں بہتے نظر آئے، جیسے سب ایک ہی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہوں: “میں کون ہوں؟”
اس ادبی نشست کا اہتمام چغتائی پبلک لائبریری کی جانب سے کیا گیا، جو علمی و ادبی سرگرمیوں کے فروغ میں ایک خاموش مگر مضبوط کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف کتابوں کا گھر ہے بلکہ فکر کی آبیاری کا ایک ایسا مرکز بھی ہے جہاں علم کو زندگی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
“رموزِ بیخودی” دراصل خودی کی نفی نہیں بلکہ اس کی تکمیل کا راستہ ہے—یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی ذات سے نکل کر ایک وسیع تر حقیقت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس نشست نے اسی فلسفے کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا اور حاضرین کو ایک ایسے فکری سفر پر روانہ کیا جس کی منزل شاید کہیں باہر نہیں بلکہ خود ان کے اندر ہی پوشیدہ ہے۔
یہ محفل اپنے اختتام پر بھی ایک سوال چھوڑ گئی—کیا ہم واقعی خود کو جاننے کے لیئے تیار ہیں، یا ابھی ہمیں مزید “رموز” سمجھنے باقی ہیں؟ اس گئے گزرے دور میں برگیڈیئر وحید الزماں طارق کا وجود غنیمت ہے جو نوجوانوں کو حوصلہ دیتا ہے بوڑھوں کو جوان کرتا ہے ۔ ڈاکٹر عابدہ بتول حصولِ علم کی شہزادی ، موٹیویشنل سپیکر راؤ محمد اسلم خان اور پیروں کے استاد زید حسین کے کانوں کو میں نے ہمیشہ ڈاکٹر وحید الزماں طارق کی بولنے والی زبان کا محتاج پایا ہے ۔ برگیڈیر ڈاکٹر وحید الزماں طارق کی کتاب خرابات فرنگ کی تقریب رونمائی آفاق ادب پاکستان کے زیر اہتمام آج شام انعقاد پذیر ہو رہی ہے ۔ جس کی صدارت ڈاکٹر مظفر عباس اور مہمانِ خصوصی مجیب الرحمن شامی ہوں گے ۔ دیگر مقررین میں ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی ، ڈاکٹر نجیب جمال، ڈاکٹر سعادت سعید ، ڈاکٹر اقبال شاہ، ڈاکٹر زاہد منیر عامر، ڈاکٹر وحید الرحمن، سینٹر زرقاسہروردی، اداکار نور الحسن، ہوں گے ۔ نظامت کے فرائض نوجوان اقبال سکالر زید حسین اور ڈاکٹر عابدہ بتول جو آفاقِ ادب پاکستان کی سربراہ ہیں نقابت کے فرائض جزوی طور پر ادا فرمائیں گی ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کی آمد بھی متوقع ہے ۔وہ بولتی نہیں موتی رولتی ہے ۔ ہمارے ملک کا سرمایہ ء ادب ہیں ۔ڈاکٹر عابدہ بتول ہمیشہ ان کی علمی وجاہت کی بات کرتیں ہیں ۔ ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب نے آج اسلام آباد سے میرے ایک کالم پر جو برگیڈیئر وحید الزماں پر لکھا گیا تھا اس پر تعریفی کلمات لکھے ہیں جو میرے لیئے بہت بڑے اعزاز سے کم نہیں ہیں ۔ ڈاکٹر مقصود جعفری بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب ، شاعر ، نقاد ، محقق مؤرخ ، مصنف ، صحافی اور بے شمار محاسن کا مجموعہ ہیں میں آپ کے چمنستانِ علم کا خوشہ چین ہوں وہ لکھتے نہیں قرطاس پر انمول موتیوں کی لڑیاں پرو دیتے ہیں ۔ انہوں نے انگلش میں جو لکھا ہے میں اسے آئندہ اردو میں ترجمہ کے ساتھ نذرِ قارئین کروں گا ۔

رموزِ بیخودی لفظوں کے آئینے میں خودی کی جستجو

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us