Banner

پاکستان سے اثاثوں کی منتقلی

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

پاکستان سے اثاثوں کی منتقلی

محترم قارئین ۔پاکستان کی معاشی تاریخ میں دارالحکومت کی غیر قانونی منتقلی (Capital Flight) ایک انتہائی پیچیدہ اور دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ مختلف تحقیقی جائزوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان سے اب تک اربوں ڈالرز کی خطیر رقم بیرونِ ملک منتقل ہو چکی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ملک سے تقریباً 333 بلین ڈالر کے برابر کا سرمایہ باہر گیا ہے، جو کہ پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس سرمائے کی منتقلی میں ملک کا ہر طبقہ کسی نہ کسی سطح پر شامل رہا ہے۔ پاکستان میں ہر سرمایہ کار اپنی دولت بیرون ملک خاموشی سے منتقل کررہا ہے جس کی بنیادی وجہ ملک میں معاشی پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا اور سیاسی عدم استحکام ہے۔سیاستدانوں، حکمرانوں اور بیوروکریٹس کی بات کی جائے تو پاناما اور پینڈورا لیکس (Pandora Papers) جیسے بین الاقوامی انکشافات نے یہ واضح کیا ہے کہ تقریباً 700 کے قریب پاکستانی شخصیات، جن میں سابق وزرائے اعظم، وزراء، اور اعلیٰ فوجی افسران شامل ہیں، بیرونِ ملک اثاثے اور آف شور کمپنیاں رکھتے ہیں۔ ان کا ہدف ملک میں کمانا اور دولت کو سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے خوف سے باہر محفوظ بنانا رہا ہے۔ ان شخصیات کا یہ ماننا ہے کہ ملک میں ٹیکس کا نظام پیچیدہ ہونے اور حکومتی اداروں کی جانب سے سختیاں ہونے کے باعث ان کی دولت محفوظ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، جب بھی ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے، ان کا رجحان بیرون ملک جائیدادیں خریدنے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کے نجی شعبے اور کاروباری طبقے کا کردار بھی اس میں نمایاں ہے۔ ٹریڈ مس انوائسنگ (Trade Misinvoicing) کے ذریعے ہر سال اربوں روپے کی غیر قانونی ترسیلات کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، اور دیگر پیشہ ور افراد، جو پاکستان کے اندر نجی ہسپتالوں اور منافع بخش شعبوں سے خطیر رقوم کماتے ہیں، وہ بھی اپنے بچوں کی بہتر تعلیم اور مستقبل کے تحفظ کے لیے اپنی دولت کو مغربی ممالک، کینیڈا، اور متحدہ عرب امارات (دبئی) کے رئیل اسٹیٹ اور بینکنگ سیکٹر میں منتقل کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، سالانہ 4 سے 5 بلین ڈالر غیر قانونی طریقوں سے ملک سے باہر جا رہے ہیں، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔اس رحجان کی بنیادی وجوہات میں ملکی معیشت کا عدم استحکام، روپے کی قدر میں مسلسل کمی، اور حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد شامل ہے۔ 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں قومیائے جانے کی پالیسیوں کے خوف سے سرمایہ کاروں نے پہلی بار اپنا سرمایہ بڑے پیمانے پر باہر بھیجنا شروع کیا۔ اس کے بعد سے، جب بھی ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے، سرمایہ کار اور کاروباری طبقہ اپنے اثاثے بیرونِ ملک منتقل کر دیتا ہے تاکہ انہیں کسی بھی قسم کے معاشی نقصان یا زرِ مبادلہ کی قدر میں کمی سے بچایا جا سکے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، اس صورتحال کو روکنے کے لیے ملک میں سرمایہ کاروں کو طویل مدتی پالیسیوں کا یقین دلانا، ٹیکس کے نظام کو شفاف بنانا، اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ جب تک ملک میں پیداواری شعبے کو منافع بخش نہیں بنایا جاتا اور کاروباری ماحول کو سازگار نہیں کیا جاتا، اس وقت تک دولت کی بیرونی منتقلی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔

پاکستان سے اثاثوں کی منتقلی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us