Banner

پاکستان کی سیاسی و تاریخی داستان

Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

پاکستان کی سیاسی و تاریخی داستان

قارئین کرام ۔1947 میں معرضِ وجود میں آنے کے بعد سے پاکستان کی تاریخ مسلسل سیاسی کشمکش، آئینی بحرانوں اور علاقائی و بین الاقوامی دباؤ کا ایک طویل اور پرپیچ سفر ہے۔ پاکستان کی آزادی کے فوراً بعد قائدِ اعظم محمد علی جناح کی وفات اور 1951 میں پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی راولپنڈی میں شہادت نے نوزائیدہ ریاست کو شدید سیاسی عدم استحکام سے دوچار کیا۔ ان ابتدائی سانحات کے بعد ملک میں ایک مستحکم قیادت کا خلا پیدا ہوا، جس نے بیوروکریسی اور فوج کے سیاسی کردار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1954 میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کر دیا، جس کے فیصلے کو عدالت نے سندِ جواز فراہم کیا۔ اس کے نتیجے میں ملک میں طویل آئینی تعطل کا آغاز ہوا، اور 1956 کا پہلا آئین نو سال کی تاخیر کے بعد نافذ کیا گیا۔ 1956 کے اس آئین نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا، لیکن یہ تجربہ زیادہ دیر تک نہ چل سکا کیونکہ 1958 میں جنرل ایوب خان نے ملک میں پہلا مارشل لا نافذ کر دیا، جس کے دورِ حکومت میں بنیادی جمہوری حقوق معطل کر دیے گئے۔ ایوب خان کے دورِ حکومت میں “دہائیِ ترقی” کے دعوے کیے گئے، سبز انقلاب لایا گیا، اور نیا دارالحکومت اسلام آباد تعمیر کیا گیا، لیکن اس دور میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور مشرقی پاکستان میں شدید احساسِ محرومی پیدا ہوا۔ مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعت عوامی لیگ نے اپنے چھ نکات پیش کیے جو کہ صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کرتے تھے۔ ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کے نتیجے میں 1969 میں اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا گیا، جنہوں نے ملک میں دوسرے مارشل لا کا نفاذ کیا۔ یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں 1970 کے عام انتخابات منعقد ہوئے جن میں مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمان کی جماعت نے واضح اکثریت حاصل کی، جبکہ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری۔ سیاسی اور آئینی ڈیڈ لاک کے سبب 1971 کا المناک سانحہ پیش آیا جس میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اس سانحے کے بعد ملک کے باقی ماندہ حصے کی باگ ڈور ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں آئی۔ 1973 کا آئین بھٹو دورِ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہے جس نے ملک کو متفقہ آئین فراہم کیا، اور اس کے تحت پارلیمانی نظام اور وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا۔ بھٹو نے خارجہ پالیسی میں آزادانہ اور اہم تبدیلیاں کیں، اسلامی سربراہی کانفرنس (OIC) کا انعقاد کیا، اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ تاہم، 1977 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان قومی اتحاد (PNA) کی تحریک چلی، جس کے نتیجے میں جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے تیسرا مارشل لا نافذ کر دیا۔ ضیاء الحق کا دورِ حکومت گیارہ سال پر محیط تھا جس نے پاکستانی معاشرے، سیاست اور خارجہ پالیسی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ 1979 میں سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے بعد پاکستان فرنٹ لائن ریاست بن گیا، اور امریکہ کی مدد سے افغان جہاد کی حمایت کی گئی۔ اس کے اثرات پاکستان پر اس قدر گہرے مرتب ہوئے کہ ملک میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر نے جڑ پکڑ لی، اور مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا۔ 1988 میں ضیاء الحق کی طیارے کے حادثے میں ناگہانی موت کے بعد ملک میں جمہوری دور کا آغاز ہوا، لیکن 1990 کی دہائی سیاسی عدم استحکام کی علامت بن گئی۔ اس دوران بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان اقتدار کی کشمکش جاری رہی اور بار بار حکومتیں توڑی گئیں۔ 1998 میں نواز شریف کے دورِ حکومت میں پاکستان نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کیے اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن کر خطے میں توازن قائم کیا۔ 1999 میں ایک بار پھر ملک کا سیاسی نظام اس وقت پٹڑی سے اتر گیا جب جنرل پرویز مشرف نے خونریزی کے بغیر اقتدار سنبھالا اور ملک میں مارشل لا لگا دیا گیا۔ پرویز مشرف کے دور میں معاشی ترقی دیکھنے میں آئی، نجی ٹی وی چینلز کو آزادی ملی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی، لیکن 2001 کے نائن الیون حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن اتحادی بننے کے فیصلے نے ملک کو اندرونی اور بیرونی طور پر شدید بحران سے دوچار کیا۔ اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے 2008 سے 2013 تک پیپلز پارٹی کی قیادت میں جمہوری تسلسل کو برقرار رکھا اور 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو وسیع پیمانے پر مالی اور انتظامی خودمختاری دی گئی۔ 2013 کے انتخابات کے بعد نواز شریف کی حکومت بنی جس نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت بڑے منصوبوں کا آغاز کیا، لیکن 2017 میں پاناما کیس کے فیصلے کے نتیجے میں انہیں نااہل قرار دیا گیا۔ 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی حکومت قائم ہوئی، جس نے کرپشن کے خلاف مہم چلائی اور صحت کارڈ جیسی فلاحی اسکیمیں متعارف کرائیں۔ تاہم، 2022 کے اوائل میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ ہوا، اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کی مخلوط حکومت برسرِ اقتدار آئی جس نے مشکل معاشی فیصلے کیے۔ 2024 کے عام انتخابات کے بعد مخلوط سیاسی حکومت وجود میں آئی جس نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے سخت مالیاتی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاریخ کا ہر دور پاکستان کے لیے سبق آموز رہا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی ترقی، معاشی استحکام اور قومی سلامتی صرف اور صرف آئین کی بالادستی، جمہوریت کے تسلسل اور سیاسی رواداری سے ہی ممکن ہے۔

پاکستان کی سیاسی و تاریخی داستان

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us