Banner

صلح کی بیٹھک انصاف کا ذریعہ یا طاقتور کا ہتھیار؟

Share

Share This Post

or copy the link

صلح کی بیٹھک انصاف کا ذریعہ یا طاقتور کا ہتھیار؟

تحریر محمد عبیدلله میرانی

بطور صحافی میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایسی کئی بیٹھکیں اور فیصلے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں جہاں صلح کے نام پر انصاف کا قتل کیا گیا یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ کمزور کو حق چھوڑنے پر مجبور کرنے والی صلح کی بیٹھک کسی ایک قوم زبان علاقے یا برادری کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے معاشرے میں موجود ایک اجتماعی بیماری ہے اسے صرف دیہات قبائل یا کسی مخصوص قوم سے جوڑنا حقیقت سے انکار ہوگا پنجاب کے دیہات ہوں سندھ کی برادریاں ہوں بلوچستان کے قبائلی علاقے ہوں خیبرپختونخوا کے جرگے ہوں یا شہری علاقوں کی سیاسی و کاروباری بیٹھکیں ہر جگہ طاقتور طبقہ اکثر صلح کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتا نظر آتا ہے پاکستان کے مختلف علاقوں میں نام الگ ہیں کہیں جرگہ کہیں پنچایت کہیں بیٹھک کہیں برادری فیصلہ کہیں کمیٹی کہیں سیاسی مصالحت مگر طریقہ اکثر ایک جیسا ہوتا ہے۔ طاقتور فریق میز کے ایک طرف بااعتماد بیٹھا ہوتا ہے اور کمزور فریق کو صبر عزت خاندان روایت اور برداشت کے نام پر خاموش کرایا جاتا ہے الفاظ بدل جاتے ہیں مگر نتیجہ ایک ہی رہتا ہے حق دار اپنے حق سے محروم ہو جاتا ہے یہ نظام دراصل قرآن کے اس سنہری اصول کی نفی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے صلح کو عدل کے ساتھ جوڑا ہے سورہ الحجرات میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ پس تم ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے قرآن واضح کرتا ہے کہ صلح کا مقصد ظلم کو دبانا نہیں بلکہ عدل قائم کرنا ہے مگر ہماری بیٹھکوں میں صلح اکثر انصاف کا متبادل بن جاتی ہے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قرآن صرف صلح کا درس نہیں دیتا بلکہ وہ ظلم کے خلاف مزاحمت کا حکم بھی دیتا ہے اسلام خاموشی سے ظلم سہنے کا نام نہیں بلکہ یہ تو وہ دین ہے جو مظلوم کو حق دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائے سورہ النساء میں ارشاد ہے کہ اللہ اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ کوئی کسی کی برائی کا اعلان کرے مگر اس کی طرف سے جس پر ظلم ہوا ہو یہ آیت مظلوم کو احتجاج اور مزاحمت کا اخلاقی و قانونی جواز فراہم کرتی ہے لہٰذا صلح کی میز پر بیٹھ کر اپنے حق سے دستبردار ہو جانا ہر بار نیکی نہیں ہوتا بلکہ ظلم کے نظام کے سامنے ڈٹ جانا ہی اصل ایمان ہے یہ مسئلہ قومیت کا نہیں بلکہ طاقت کے غیر مساوی نظام کا ہے جہاں دولت چند ہاتھوں میں ہو پولیس اثرورسوخ دیکھتی ہو اور عدالتی نظام سست ہو وہاں صلح انصاف نہیں بلکہ طاقتور کے لیے بچ نکلنے کا آسان راستہ بن جاتی ہے اسلام تو وہ دین ہے جو کہتا ہے کہ تمہارے درمیان سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے مگر ہماری صلح کی بیٹھکوں میں عزت تقویٰ کو نہیں بلکہ صرف مادی طاقت کو دی جاتی ہے شہری علاقوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں کراچی لاہور فیصل آباد کوئٹہ اور پشاور جیسے شہروں میں بھی سیاسی سفارش تھانے کی ثالثی یا برادری دباؤ کے ذریعے کئی تنازعات ایسے حل کیے جاتے ہیں جہاں اصل انصاف پس منظر میں چلا جاتا ہے لہٰذا کسی ایک قوم کو مورد الزام ٹھہرانا مسئلے کا حل نہیں اصل مسئلہ وہ طاقتور ذہنیت اور سماجی منافقت ہے جو صلح کے نام پر مظلوم کا گلہ گھونٹتی ہے پاکستان کو ایسی صلح نہیں چاہیے جس میں طاقتور خوش ہو اور مظلوم مجبوراً خاموش پاکستان کو ایسا نظام چاہیے جہاں حق حق دار کو ملے چاہے وہ کسی بھی قوم یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو صلح تب ہی معتبر ہے جب وہ ظالم کا ہاتھ روک کر اور مظلوم کا حق دلا کر کی جائے

صلح کی بیٹھک انصاف کا ذریعہ یا طاقتور کا ہتھیار؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us