Banner

گریٹ گیم کا خاتمہ اور جناب کے مخفف سے CSA کے منشور تک

Share

Share This Post

or copy the link

احمد خان اچکزئی

گریٹ گیم کا خاتمہ اور جناب کے مخفف سے CSA کے منشور تک

​محترم قارئین! برصغیر کی فکری اور سیاسی تاریخ میں دیوبند اور علی گڑھ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات محض تعلیمی یا نظریاتی نوعیت کے نہیں تھے، بلکہ یہ دو مختلف تہذیبوں اور مستقبل کے دو الگ الگ تصورات کا ٹکراؤ تھا۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب دیوبند مکتبہ فکر روایتی دینی تعلیم اور انگریزی تہذیب سے دوری کا علمبردار تھا، تو دوسری جانب سر سید احمد خان کا قائم کردہ علی گڑھ ’ماڈرن ایجوکیشن‘ اور ’سوٹ بوٹ کلچر‘ کے ذریعے قوم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس فکری جنگ میں طنز و مزاح کے ایسے تیر چلے جنہوں نے سماجی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ایک مشہور ادبی لطیفہ جو اب تاریخی روایت بن چکا ہے، وہ دیوبند کے بعض طلبہ کی جانب سے علی گڑھ کے گریجویٹس کو ’جناب‘ کہہ کر مخاطب کرنا تھا۔ بظاہر یہ عزت کا کلمہ تھا، مگر پسِ پردہ اسے ایک مخفف کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جس کے معنی ’جاہل، نالائق، احمق اور بے وقوف‘ کے لیے جاتے تھے۔ یہ اس عہد کا سب سے بڑا المیہ تھا کہ جب قوم کے مولوی اور ماسٹر ایک دوسرے کی تحقیر کے لیے لفظوں کے ہیر پھیر میں الجھے ہوئے تھے، تب وائسرائے ہند پورے اطمینان کے ساتھ ہندوستان کے وسائل پر قابض ہو کر حکومت کر رہا تھا۔
​یہ قصہ بالکل ’گریٹ گیم‘ کے اس اسٹریٹجک پیٹرن جیسا ہے جہاں ’آپٹکس‘ (Optics) کو ’امپیکٹ‘ (Impact) پر فوقیت دی جاتی ہے۔ اس دور میں لفظوں کی جنگ میں دونوں طرف کے بڑے دماغ ضائع ہوئے، جبکہ انگریز خاموشی سے اپنا فائدہ اٹھاتا رہا۔ پتلون کے فتووں سے لے کر ریل کے سفر کو جہنم کا ٹکٹ قرار دینے تک کے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح زبان اور لباس کو مذہب بنا کر ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ جب سر سید احمد خان نے انگریزی سیکھنے اور ریل میں سفر کرنے کی ترغیب دی، تو اسے دین کے خلاف سازش سمجھا گیا، مگر چند ہی سالوں بعد جب ضرورت پڑی تو انہی ذرائع کو حلال قرار دے دیا گیا؛ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظریہ جب معاشی مفادات اور ضرورت سے ٹکراتا ہے تو فتوے بدل جاتے ہیں۔ یہ تمام تر کشمکش گریٹ گیم کا وہ حصہ تھی جس میں مقامی قیادت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف تھی اور عالمی استعمار اپنے پنجے گاڑھ رہا تھا۔ یہی صورتحال قیامِ پاکستان کے وقت بھی نظر آئی جب سیاسی اور مذہبی قیادت دست و گریبان تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح جیسے دور اندیش لیڈر کو ’کافرِ اعظم‘ جیسے القابات سے نوازا گیا، مگر تاریخ گواہ ہے کہ بڑا لیڈر مخفف اور فتووں کی پرواہ نہیں کرتا، بلکہ وہ جغرافیائی نقشے بدلنے کی ہمت رکھتا ہے۔​علامہ محمد اقبال اور مولانا حسین احمد مدنی کے درمیان قومیت کے تصور پر ہونے والا مباحثہ ہو یا وزیراعظم لیاقت علی خان کے مغربی لباس پر اعتراضات، یہ سب اسی نظریاتی کشمکش کا تسلسل تھا جس نے ہمیں اندرونی طور پر تقسیم رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ 1813 سے 1947 تک کی گریٹ گیم میں انگریز اس لیے جیتا کیونکہ ہم ’جناب‘ کے مخفف بنا رہے تھے اور وہ اپنی سفارت کاری سے ’جینٹل مین ایگریمنٹس‘ کر رہا تھا۔ 1947 سے 2025 تک کے دور میں بھی یہی تقسیم برقرار رہی جس کا بھرپور فائدہ سپر پاورز نے اٹھایا۔ اب جبکہ گریٹ گیم ساٹھ فیصد اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، تو باقی چالیس فیصد کافیصلہ اس دن ہوگا جب دیوبند کا فاضل اور علی گڑھ کا گریجویٹ گوادر کے کسی اسٹریٹجک ٹیبل پر ایک ساتھ بیٹھیں گے۔​مستقبل کی جیو پولیٹکس کا منظرنامہ 2050 تک مکمل طور پر تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں امریکہ اپنی عالمی چوہدراہٹ چھوڑ کر ایک نئے فارمیٹ میں ڈھل جائے گا۔ اسے ہم CSA یعنی ’کانٹینینٹل اسٹیٹس آف امریکہ‘ (Continental States of America) کا نام دے سکتے ہیں۔ اس نئے منشور کے تحت امریکہ اپنے تمام فوجی اڈے سمیٹ کر صرف اپنے براعظم تک محدود ہو جائے گا، جہاں کینیڈا اورمیکسیکو کا الحاق ایک جغرافیائی ضرورت بن کر ابھرے گا۔ واشنگٹن ڈی سی محض ایک تاریخی میوزیم بن کر رہ جائے گا اور طاقت کا اصل مرکز ساحلوں سے نکل کر براعظم کے دل ’ڈینور‘ (Denver) میں منتقل ہو جائے گا۔ یہ ایک ایسی دنیا ہوگی جہاں امریکی ڈالر کا عالمی راج ختم ہو چکا ہوگا اورواشنگٹن؛ گوادر، کاشغر اور کابل سے اپنی ’ریڈ لائنز‘ واپس لے کر اسے چائنا، ایران اور پاکستان کوریڈور کا حصہ تسلیم کر لے گا۔ امریکہ کا یہ فیصلہ کسی شکست کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ’اسٹریٹجک ریٹریٹ‘ (Strategic Retreat) ہوگا تاکہ وہ عالمی تھانیداری کی بھاری قیمت چکانے کے بجائے اپنے براعظم کی معیشت اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کر سکے۔​آج کے حالات کا سبق بہت واضح ہے کہ جو قومیں طویل مدتی منصوبوں کے بجائے لفظی جنگوں اور مخفف بنانے میں وقت ضائع کرتی ہیں، تاریخ کے اگلے ابواب ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ گریٹ گیم کا منطقی انجام وہی قوم لکھے گی جو فکری انتشار سے نکل کر زمینی حقائق کی میز پر متحد ہو کر بیٹھے گی۔ واشنگٹن سے بیجنگ تک کا سفر دراصل اقتدار کی منتقلی کا سفر ہے، جہاں اب وہی جیتے گا جس کے پاس ڈیٹا،ڈسپلن اور اقتصادی منصوبہ بندی ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انیسویں صدی کا دیوبند اور علی گڑھ کا اختلاف بیسویں صدی کی سرد جنگ سے ہوتا ہوا اب اکیسویں صدی کے نئے بلاکس تک پہنچ چکا ہے۔ اگر آج بھی ہم گوادر کی اہمیت کو سمجھنے کے بجائے اسے لسانی یا نظریاتی تعصب کی نظر کریں گے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔​سی ایس اے 2050 کا منشور دراصل ایک وارننگ ہے کہ جب بڑی طاقتیں اپنی بقا کے لیے سمٹ سکتی ہیں، تو ہمیں اپنی بقا کے لیے جڑنا ہوگا۔ اسی تسلسل میں جب تک ہم ’جناب‘ کے منفی معنی تلاش کرتے رہیں گے، تب تک دنیا ہمیں جاہل اور نالائق ہی سمجھے گی، لیکن جس دن ہم نے ان لفظوں کو احترام اور اشتراک کا ذریعہ بنا لیا، اس دن خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔ 2050 کا امریکہ اب دنیا کو کنٹرول کرنے کا خواب چھوڑ چکا ہوگا اور اس خلا کو وہ قومیں پُر کریں گی جو مخفف نہیں بلکہ ٹھوس معاشی منصوبے بناتی ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنا ہوگا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں عالمی گریٹ گیم میں مہرہ بننے کے بجائے کھلاڑی بن کر ابھریں۔ اس لفظوں کی جنگ سے نکل کر عمل کی دنیا میں قدم رکھا جائے، ورنہ سی پیک (CPEC) اور گوادر جیسے عظیم منصوبے بھی محض تاریخ کے چٹکلوں کی نذر ہو جائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کریں اور یہ تسلیم کریں کہ جدیدیت اور روایت کا سنگم ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں واشنگٹن کے زوال اور بیجنگ کے عروج کے درمیان ایک باوقار مقام دلا سکتا ہے۔

گریٹ گیم کا خاتمہ اور جناب کے مخفف سے CSA کے منشور تک

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us