Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
’جے یو آئی سینیٹر کے گھر پر 40 افراد کا حملہ، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا‘الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات روکنے کافیصلہماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، نسیم الرحمٰن خان ملاخیلنوڈیرو میں پولیس کے مبینہ ناروا رویے اور امن و امان کی صورتحال کے خلاف 6 نومبر کو احتجاج کا اعلانسیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تکوڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سےدینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکست’جے یو آئی سینیٹر کے گھر پر 40 افراد کا حملہ، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا‘الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات روکنے کافیصلہماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، نسیم الرحمٰن خان ملاخیلنوڈیرو میں پولیس کے مبینہ ناروا رویے اور امن و امان کی صورتحال کے خلاف 6 نومبر کو احتجاج کا اعلانسیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تکوڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سےدینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکست

شدتِ گرمی


شدتِ گرمی*
تحریر خالد سرور کھوسہ
مئی کا مہینہ اب بہار کا نہیں، قہر کا پیغام لے کر آتا ہے۔ کراچی کی سڑکوں پر تارکول پگھل رہا ہے اور جیکب آباد کا پارہ 50°C کو چھو رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کی زبان میں یہ “ہیٹ ویو” ہے، مگر ماں کی زبان میں یہ “اولاد کے ہونٹوں پر پیاس” ہے۔
گرمی اب موسم نہیں، مستقل آفت بن چکی ہے۔
اعداد جو جھلسا دیتے ہیں:
رواں ہفتے کراچی میں درجہ حرارت 47°C ریکارڈ ہوا، لیکن نمی کے باعث “محسوس ہونے والا درجہ حرارت” 54°C تک جا پہنچا۔ اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ ہیٹ اسٹروک کے مریضوں سے بھرے ہیں۔ صرف گزشتہ 3 دن میں سندھ بھر سے 200 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ سب سے زیادہ متاثر مزدور، ٹریفک پولیس اہلکار، بزرگ اور بچے ہیں۔اب سوال پیدا ہوتا ہیں کہ
ہم یہاں تک کیسے پہنچے؟
1. کنکریٹ کا جہنم: ہم نے درخت کاٹ کر پلازے کھڑے کر دیے۔ کراچی میں 1970 کے مقابلے میں 60% سبزہ کم ہو چکا ہے۔ درخت ہوتا تو سایہ ہوتا، سایہ ہوتا تو درجہ حرارت 5 ڈگری کم ہوتا۔
2. بجلی کا بحران: 45°C گرمی میں 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ۔ پنکھا بند، پانی غائب، اور غریب کے پاس اے سی کا خواب۔ یہ گرمی نہیں، طبقاتی قتل ہے۔
3. عالمی تغیرِ آب و ہوا: پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جو کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، حالانکہ ہمارا حصہ عالمی آلودگی میں 1% سے بھی کم ہے۔

تو اب کیا کریں؟ احتجاج یا احتیاط؟

حکومت کے لیے 3 فوری کام:
1. ہیٹ ویو ایمرجنسی نافذ ہو: تمام شہروں کے چوراہوں پر سبیلیں، ٹھنڈے پانی کے کولر اور عارضی “کولنگ سینٹرز” قائم کیے جائیں۔
2. اوقاتِ کار بدلیں: مزدوروں اور تعمیراتی کام کے اوقات صبح 6 سے 11 بجے تک محدود کیے جائیں۔
3. شجرکاری جنگی بنیادوں پر: “ایک فرد، ایک درخت” مہم صرف نعروں میں نہیں، عملی طور پر۔ پیپلز پارک جیسے اربن فاریسٹ ہر ضلعے میں چاہییں۔

عوام کے لیے 5 اصولِ زندگی:
1. 11 سے 4: غیر ضروری طور پر گھر سے نہ نکلیں۔ یہ وقت جان لیوا ہے۔
2. پانی پیئیں، لسی پیئیں: پیاس لگے نہ لگے، ہر آدھے گھنٹے بعد پانی۔ ORS کا پیکٹ گھر میں رکھیں۔
3. سر ڈھانپیں: باہر نکلیں تو گیلا رومال، ٹوپی یا چھتری لازمی۔
4. لباس بدلیں: کالے، بھاری کپڑوں کو خدا حافظ۔ ہلکے رنگ، سوتی لباس پہنیں۔
5. پڑوسی کا خیال: اکیلے رہنے والے بزرگوں کا دن میں ایک بار حال پوچھ لیں۔ یہ صدقہ ہے۔

گرمی کا یہ عذاب ہمیں بتا رہا ہے کہ ہم نے فطرت سے جو سلوک کیا، اب فطرت اس کا حساب لے رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اے سی کے آگے بیٹھ کر کام کرنے والے اور جھگی میں سسکتے بچے کا درجہ حرارت ایک جیسا نہیں۔

آخری بات: سورج کو برا کہنے سے دھوپ کم نہیں ہوگی۔ سایہ خود بنانا پڑے گا۔ آج ایک درخت لگائیں، کل آپ کی اولاد اس کے سائے میں جی سکے گی۔ ورنہ تاریخ لکھے گی کہ ایک قوم تھی جو اپنے ہی ہاتھوں سے جہنم بنا کر اس میں جل گئی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *