Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تکوڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سےدینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہےسیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تکوڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سےدینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہے

دینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیق

دینی مدارس ہماری دینی ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں جنہیں کسی دباؤ یا سازش کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ علماء و مدارس نے نسلِ نو کو علم و شعور سے روشناس کرانے اور اخلاق و تہذیب کے زیور سے آراستہ کرنے میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ مدارس کے بغیر معاشرہ نامکمل اور تہذیبی و اخلاقی بنیادوں سے محروم ہے۔مولانا عبدالرحمن رفیق
کوئٹہ ( )جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق نے مختلف دینی مدارس کی دستارِ فضیلت کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی مدارس نے نسلِ نو کو علم و شعور سے روشناس کرانے اور اخلاق و تہذیب کے زیور سے آراستہ کرنے میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ دینی مدارس کے بغیر معاشرہ نامکمل اور تہذیبی و اخلاقی بنیادوں سے محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ انگریز سامراج نے برصغیر میں علماء، دینی مدارس اور اسلامی تعلیمات کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن سازش کی مگر اسے ذلت و رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ آج انگریز سامراج کے زرخرید غلام حکمران اسی استعماری ایجنڈے کی پیروی کرکے اپنی رسوائی کا سامان کر رہے ہیں۔ دینی مدارس کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصر یاد رکھیں کہ یہ ادارے ہماری دینی ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں جنہیں کسی دباؤ یا سازش کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ علماء مدارس اور مساجد سے نوجوان نسل کی دوری کے باعث وہ مختلف فکری اخلاقی اور سماجی سازشوں کا شکار ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیتطدینی رہنمائی اور کردار سازی کے لیے اپنی جدوجہد تیز کریں تاکہ انہیں باطل نظریات اور غیروں کے فکری تسلط سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کی تعلیمات کے فروغ معاشرتی اصلاح اور امت کی فکری و نظریاتی رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان کی سرپرستی تحفظ اور استحکام پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *