Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہےتاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تکبولان: بجلی کا کرنٹ لگنے سے 9 سالہ بچہ جاں بحقسیوی: لونی روڈ پر ٹھیکیدار کے گھر کے قریب دستی بم حملہ، جانی نقصان نہیں ہوابلوچستان کے کئی اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان، شمالی علاقوں میں سردی برقرار9 نومبر کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہےتاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تکبولان: بجلی کا کرنٹ لگنے سے 9 سالہ بچہ جاں بحقسیوی: لونی روڈ پر ٹھیکیدار کے گھر کے قریب دستی بم حملہ، جانی نقصان نہیں ہوابلوچستان کے کئی اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان، شمالی علاقوں میں سردی برقرار9 نومبر کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

تاریخ رو رہی ہے

تاریخ رو رہی ہے
محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام، تاریخ کے خون آلود صفحوں پر جب بھی مظلومیت کی داستانیں لکھی گئیں، قلم نے خون کے آنسو روئے اور زمین سسک اٹھى۔ تاریخ کوئی خاموش تماشائی نہیں بلکہ ایک ایسا دکھتی ہوئی روح کا نام ہے جو ہر دور کے ہلاک خیز مظالم، بے گناہ انسانوں کے دم توڑتے خوابوں اور ظلم و ناانصافی کی چکی میں پستی زندگیوں کو اپنے سینے میں محفوظ رکھتی ہے۔ افغانستان کی پہاڑیوں سے لے کر عراق کی ویران گلیوں تک، فلسطین کے ملبے تلے دبے اجسام سے کشمیر کی وادیوں کے ماتم تک، اور خیبر پختونخوا کے بم دھماکوں کی دہکتی آگ سے لے کر بلوچستان کے بے نام درد اور سسکتی خاموشی تک انسانی تاریخ مسلسل ماتم کناں ہے۔ یہ وہ عالمگیر المیے ہیں جہاں معصومیت کو بارود کی بو میں چھپا دیا گیا اور ہر عہد میں اقتدار، جبر اور غصب کی بھوک نے کروڑوں انسانوں کا چین، امن اور مسکراہٹیں چھین لیں۔ افغانستان کی زمین پر دھول اور دھماکوں کے سوائے شاید ہی کسی نسل نے سکون کی سانس لی ہو۔ دہائیوں پر محیط غیر ملکی مداخلتوں، ڈرون حملوں، اور مسلسل جنگ و جدل نے اس پرامن پہاڑی خطے کو بارود کا ڈھیر بنا دیا۔ کتنی مائیں اپنے شاداب بچوں کو سکول بھیج کر ان کی واپسی کی منتظر رہیں لیکن بدلے میں صرف خون آلود بستے اور کٹے پھٹے وجود ان کے آغوش میں آئے۔ طاقتور ممالک کی سامراجی ہوس اور اندرونی کشمکش کے سنگین ملبے تلے دبے اس خطے کے باسیوں نے جس صدمے کو سہا ہے، وہ انسانی یادداشت کے لیے ایک نہ مٹنے والا تازیانہ ہے۔ افغان گلیوں میں پھیلی خوف کی سائیں اور اجڑے ہوئے دیہات اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہیں کہ طاقت کا غرور ہمیشہ بے گناہوں کے خون کی ندیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔عراق کا ذکر کیجیے تو دجلہ و فرات کا پانی انسانی خون کی سرخی سے سرخ نظر آتا ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں اور تباہ کن بمباری نے اس قدیم تہذیب کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا، جہاں ایک ہنستا مسکراتا ملک راتوں رات بربادی اور افراتفری کی علامت بن گیا۔ سڑکوں پر بکھری لاشیں، شفا خانوں میں دم توڑتے نوائیدہ بچوں کی سسکیاں اور بے آسرا بیواؤں کی آہ و زاری تاریخ کے دامن پر وہ داغ ہیں جو کبھی دھوئے نہیں جا سکتے۔ بغداد کی لائبریریوں اور تاریخی عمارتوں کی راکھ نے انسانی تہذیب کی شکست کا اعلان کیا، جہاں جمہوریت اور آزادی کے دلکش نعروں کی آڑ میں پوری قوم کا شیرازہ بکھیر دیا گیا اور کروڑوں ذی روح بغیر کسی جرم کے موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔فلسطین کا نام آتے ہی دل تار تار ہو جاتا ہے اور روح کانپ اٹھتی ہے۔ زیتون کے درختوں کی چھاؤں میں پلنے والی نسلیں اپنی ہی زمین پر بے وطن اور بے گھر کر دی گئیں۔ ہر روز گرتے بم، تباہ ہوتے مکانات، ملبے کے نیچے دبے معصوم بچے اور ہسپتالوں کی تباہی انسان اور انسانیت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔فلسطینی بچے جو کھلونوں سے کھیلنے کی عمر میں بمباری کی خوفناک آوازوں سے کانپتے ہیں، ان کے آنسو اور خون سے تاریخ کا صفحہ صفحہ تر ہے۔ غزہ کی ویرانیاں، خان یونس کے جلے ہوئے خیمے اور القدس کے منبر و محراب سے اٹھتی ہوئی سسکیاں عالمی ضمیر کی مٹتی ہوئی حس کی گواہی دے رہی ہیں، جہاں طاقتور کے ظلم کے سامنے بے بسوں کی چیخیں صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہیں۔دوسری طرف کشمیر کی حسین وادیاں جو کبھی جنت نظیر کہلاتی تھیں، آج ایک کھلے قید خانے کی تصویر بن چکی ہیں۔ پیلٹ گنوں سے بینائی کھوتے نوجوان، اپنوں کی تلاش میں سرگرداں مائیں اور خاردار تاروں کے پیچھے گھٹتی ہوئی سانسیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ سیاسی کھیل کے پیچھے انسانی حقوق کس طرح بے رحمی سے پامال کیے جاتے ہیں۔ برفیلی چوٹیوں اور بہتے آبشاروں کے درمیان مسلسل خوف کا راج ہے، جہاں جنازوں کو اٹھانا معمول بن چکا ہے اور وادی کے گھنے چناروں نے اپنے پتوں پر خون کی سرخی سجالی ہے۔ بے جس دنیا کی خاموشی اس جابرانہ سلوک کو مزید دوام بخشتی ہے، جس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ بسترِ مرگ پر پڑی انسانیت کا دم گھٹتا جا رہا ہے۔خیبر پختونخوا کے غیرت مند اور مہمان نواز پختونوں نے پچھلی چند دہائیوں میں جو آگ اور خون کا کھیل دیکھا ہے، وہ انسانی برداشت سے باہر ہے۔ دہشت گردی کی بھیانک لہر، خودکش دھماکے، اور امن کی تلاش میں در بدر ہوتے لاکھوں بے گھر افراد کی داستانیں وہ زخم ہیں جو اب بھی رسا کرتے ہیں۔ مساجد، بازار اور سکول تک اس بربریت کی زد میں آئے اور معصوم پختون خون میں نہلا دیے گئے۔ آرمی پبلک سکول کی وہ بھیانک صبح کون بھول سکتا ہے جب معصوم پھولوں کو بے دردی سے مسل دیا گیا؟ خیبر پختونخوا کا ہر قریہ اور ہر بستی ایسے المیوں کی شاہد ہے جہاں خوشیوں کے نغمے ماتمی نوحوں میں بدل گئے اور ہر گھر سے جنازے اٹھے۔اور اب بلوچستان کے بکھرے ہوئے ساحلوں اور وسیع صحراؤں پر جو دبا ہوا درد، خوف اور غیر یقینی کا بادل چھایا ہوا ہے، وہ دل کو دہلا دینے والا ہے۔ وسیع وسائل کی مالکانہ سرزمین کے باسی جب اپنے پیاروں کے سائے کو ڈھونڈتے ہیں اور سڑکوں پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہیں، تو خاموشی بھی چیخ اٹھتی ہے۔ بلوچستان کا ہر پتھر اور ہر صحرا اس بات کا شاہد ہے کہ جب ناانصافی، محرومی اور بے حسی حد سے بڑھ جاتی ہے تو تاریخ کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لیتے۔ مائیں، بہنیں اور بزرگ اپنے پیاروں کی تصاویر ہاتھوں میں تھامے سڑکوں پر گرد آلود قدموں سے سفر کر رہے ہیں، اور ان کی ویران آنکھوں میں چھپا سوال پوری کائنات کی عدالت سے جواب مانگ رہا ہے۔تاریخ کا یہ المیہ صرف ماضی یا حال کے واقعات تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی ضمیر کی اجتماعی موت کی ایک ایسی دردناک پکار ہے جو دنیا کے ہر کونے میں گونج رہی ہے۔ اقتدار، سرمائے اور جیو پولیٹیکل مفادات کے حریص شطرنجی کھیل میں عام انسانوں کو ایندھن بنایا جا رہا ہے۔ جیو اور جینے دو کے تمام بین الاقوامی معاہدے اور منشور محض کاغذ کے بے روح ٹکڑے بن کر رہ گئے ہیں، جن کے سائے تلے بے گناہوں کے گلے کاٹے جاتے ہیں۔ جب تک ظالم کے ہاتھ کو نہیں روکا جائے گا اور مظلوم کے بہتے آنسوؤں کو پونچھنے کا حقیقی جذبہ پیدا نہیں ہوگا، تاریخ یونہی اپنے چہرے پر خون کے دھبے سجائے راتی رہے گی اور آیندہ نسلیں ہماری بے حسی کا ماتم کرتی رہیں گی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *