Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
قلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہےتاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تکبولان: بجلی کا کرنٹ لگنے سے 9 سالہ بچہ جاں بحقسیوی: لونی روڈ پر ٹھیکیدار کے گھر کے قریب دستی بم حملہ، جانی نقصان نہیں ہوابلوچستان کے کئی اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان، شمالی علاقوں میں سردی برقرار9 نومبر کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاریحکومتی اعلان کے باوجود کوئٹہ کے نجی اسکولوں میں ڈبل فیس کی وصولی جاری، والدین پریشانقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہےتاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تکبولان: بجلی کا کرنٹ لگنے سے 9 سالہ بچہ جاں بحقسیوی: لونی روڈ پر ٹھیکیدار کے گھر کے قریب دستی بم حملہ، جانی نقصان نہیں ہوابلوچستان کے کئی اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان، شمالی علاقوں میں سردی برقرار9 نومبر کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاریحکومتی اعلان کے باوجود کوئٹہ کے نجی اسکولوں میں ڈبل فیس کی وصولی جاری، والدین پریشان

تاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تک

اتاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تک
حمدخان اچکزئی

محترم قارئین، تاریخ کبھی مرتی نہیں، وہ صرف لباس بدل کر واپس آتی ہے۔ جو کچھ آج بلوچستان کی شاہراہوں پر ہو رہا ہے، جو کچھ کل خیبرپختونخوا کے پہاڑوں میں ہوا، وہی کچھ کل افغانستان کے بازاروں، مسجدوں اور اسکولوں میں ہو چکا ہے۔ فرق صرف ناموں کا ہے، کردار وہی ہیں، مقصد وہی ہے، اور نتیجہ بھی وہی نکل رہا ہے: ریاست کو اندر سے کھوکھلا کرنا، عوام کو خوفزدہ کرنا، نوجوان کو مایوس کرنا، اور پھر بڑے عالمی منصوبوں کو ناکام بنانا۔ اگر آپ اس تسلسل کو نہیں سمجھیں گے تو آپ آج کی ہر خبر کو ایک الگ حادثہ سمجھیں گے، حالانکہ یہ حادثے نہیں ہیں، یہ ایک طویل، سوچی سمجھی اور پروف شدہ تاریخی سازش کی کڑیاں ہیں۔افغانستان کی تباہی کا آغاز اپریل 1978 کے ثور انقلاب سے ہوا جب سردار محمد داؤد خان کو ان کے اہل خانہ سمیت قتل کر دیا گیا اور خلق و پرچم کی خونریز کشمکش نے پورے ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔ دسمبر 1979 میں سوویت یونین کی فوج افغانستان میں داخل ہوئی تو یہ جنگ عالمی جنگ بن گئی۔ امریکہ، پاکستان، سعودی عرب اور مغربی طاقتوں نے پاکستان میں سات بڑی مجاہد تنظیموں کو منظم کیا، اسلحہ دیا، پیسہ دیا اور تربیت دی۔ بظاہر مقصد سوویت قبضے کو روکنا تھا، لیکن اندرونی حقیقت یہ تھی کہ ان سات تنظیموں کے درمیان پہلے دن سے لسانی، مسلکی اور تنظیمی نفرت موجود تھی۔ اس تقسیم کو جان بوجھ کر زندہ رکھا گیا تاکہ جنگ کے بعد کوئی ایک مضبوط، متحد اور خودمختار افغان ریاست نہ بن سکے۔ 1989 میں سوویت فوج نکلی تو افغانستان آزاد نہیں ہوا، بلکہ ایک نئی، زیادہ خوفناک جنگ میں داخل ہو گیا۔ 1992 میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت گری تو کابل میں مجاہدین گروہوں نے ایک دوسرے کے خلاف توپیں چلانی شروع کر دیں۔ شہر کا 70 فیصد حصہ تباہ ہوا، ہزاروں شہری مارے گئے، سڑکیں چیک پوسٹوں، لوٹ مار، اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کا مرکز بن گئیں۔ عام افغان شہری نے اس وقت یہ نہیں پوچھا کہ کون حق پر ہے، اس نے صرف یہ پوچھا کہ مجھے امن کون دے گا؟ یہی وہ مجبوری تھی جس نے 1994 میں قندھار سے اٹھنے والی طالبان تحریک کو قبولیت دی۔ 1995 میں ہرات، 1996 میں کابل فتح ہوا تو عوام نے نظریے کی وجہ سے نہیں، بلکہ تھکاوٹ، خوف اور امن کی پیاس کی وجہ سے اس کا ساتھ دیا۔ تاریخ کا سب سے تلخ سچ یہی ہے کہ جب ریاست امن نہیں دیتی تو عوام مجبوری میں کسی بھی متبادل کو قبول کر لیتا ہے، چاہے وہ متبادل کل کو خود ایک نیا عذاب بن جائے۔یہی فارمولا 2006 کے بعد خیبرپختونخوا میں دہرایا گیا۔ 2001 کے بعد افغانستان کی جنگ کا بوجھ، نقل مکانی، ڈرون حملے، عسکریت پسندی اور معاشی تباہی سب سے پہلے فاٹا اور پھر سوات، وزیرستان، باجوڑ اور پشاور تک پہنچی۔ سڑکوں پر گاڑیاں جلنا، اسکول جلنا، بازار بند ہونا اور ٹارگٹ کلنگ کا مطلب صرف دہشت گردی نہیں تھا، اس کا اصل مقصد آبادی کو شاہراہوں، تجارتی راستوں اور ریاستی اداروں سے دور کرنا تھا۔ جب کاروبار بند ہو، اسکول بند ہو، نوجوان کے پاس روزگار نہ ہو تو وہ آسانی سے بندوق، نشے یا انتہا پسندی کی طرف جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کی بدقسمتی یہ رہی کہ وہاں تعلیم کی کمی، روزگار کی کمی اور سیاسی قیادت کی تقسیم نے اس سازش کو آسان بنا دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی سمیت پشتون قوم پرست جماعتیں ایک متحد معاشی و تعلیمی ایجنڈے پر متفق نہ ہو سکیں، اور اس خلا میں عسکریت پسندوں اور بیرونی مفادات نے جگہ بنا لی۔ فاٹا کے عوام کی جنگی روایت کو اسی طرح استعمال کیا گیا جیسے 1980 کی دہائی میں مجاہدین کو استعمال کیا گیا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس بار دشمن باہر نہیں، اندر تھا۔اب یہی تاریخ 2016 کے بعد ژوب اور لورالائی کے راستے بلوچستان میں داخل ہوئی اور آج جنگل، سرانان، قلعہ عبداللہ، چمن اور کوئٹہ کے اطراف کی مین شاہراہوں پر دھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ لیکن بلوچستان کا معاملہ افغانستان سے زیادہ پیچیدہ اور زیادہ خطرناک ہے۔ یہاں دو سازشیں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ پہلی وہی افغان طرز کی سازش ہے: سڑک غیر محفوظ کرو، ٹارگٹ کلنگ کرو، خوف پھیلاؤ، تاکہ عوام شاہراہ سے دور ہو جائے اور ریاست کمزور لگے۔ دوسری سازش سی پیک کو ناکام بنانا ہے۔ سی پیک صرف ایک سڑک نہیں، یہ چین کو گوادر کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی دینے والا منصوبہ ہے، یہ پاکستان کی معیشت کو بدلنے والا منصوبہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ، بھارت اور دیگر علاقائی طاقتیں اسے اپنے عالمی مفادات کے خلاف سمجھتی ہیں۔ وہ براہ راست چین سے نہیں لڑ سکتیں، اس لیے وہ بلوچستان میں بدامنی کے ذریعے سرمایہ کار کو ڈراتی ہیں۔ جب سرمایہ کا…

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *