Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
منشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئیخواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع دینا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیسرکاری زمینوں پر قبضے اور محکمہ مال میں بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، حسیب شجاعطالبات کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچگہنور خان بجرانی مگسی کو ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ جھل مگسی تعینات کرنے کا مطالبہقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمدالمصطفیٰ آئی ہسپتال – جہاں بجھتی آنکھوں میں پھر سے روشنی اترتی ہےیہ دنیا مکافات عمل ہے مسٹر پتلو!!ملک بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے،سید امان شاہمہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ شعبہ مشکلات کا شکار ہے، ٹرانسپورٹرزمنشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئیخواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع دینا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیسرکاری زمینوں پر قبضے اور محکمہ مال میں بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، حسیب شجاعطالبات کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچگہنور خان بجرانی مگسی کو ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ جھل مگسی تعینات کرنے کا مطالبہقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمدالمصطفیٰ آئی ہسپتال – جہاں بجھتی آنکھوں میں پھر سے روشنی اترتی ہےیہ دنیا مکافات عمل ہے مسٹر پتلو!!ملک بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے،سید امان شاہمہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ شعبہ مشکلات کا شکار ہے، ٹرانسپورٹرز

المصطفیٰ آئی ہسپتال – جہاں بجھتی آنکھوں میں پھر سے روشنی اترتی ہے

المصطفیٰ آئی ہسپتال – جہاں بجھتی آنکھوں میں پھر سے روشنی اترتی ہے
خدمتِ انسانیت، جدید طب اور جذبۂ خیر کا روشن استعارہ

منشاقاضی
حسبِ منشا

انسانی زندگی میں روشنی کی اہمیت محض دیکھنے کی صلاحیت تک محدود نہیں، یہ امید، اعتماد، خودمختاری اور زندگی کے حسن کو محسوس کرنے کا نام بھی ہے۔ آنکھوں کی روشنی چھن جانے کا اندیشہ کسی بھی انسان کے لیئے ایک ایسا کرب ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں اگر کوئی ادارہ جدید طبی سہولیات، ماہر معالجین اور بے لوث انسانی جذبے کے ساتھ کسی کی دنیا کو اندھیروں سے بچانے کا اہتمام کرے تو وہ محض ایک ہسپتال نہیں رہتا بلکہ انسانیت کے چہرے پر امید کی ایک روشن لکیر بن جاتا ہے۔ المصطفیٰ آئی ہسپتال بھی ایسا ہی ایک قابلِ قدر ادارہ ہے، جہاں آنکھوں کے امراض کے علاج کو جدید سائنسی تقاضوں اور خدمتِ خلق کے جذبے سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ عبدالرزاق ساجد کا تذکرہ کیا جائے تو خدمتِ انسانیت کے حوالے سے ان کی شخصیت کے کئی روشن پہلو سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کو محض فلاحی سرگرمیوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی، انسانی وقار کے تحفظ اور ضرورت مند افراد کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کو اپنا مقصد بنایا ہے۔ ان کی قیادت میں المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کا یہ سفر اس حقیقت کی عملی تصویر ہے کہ جب نیت میں اخلاص، فکر میں وسعت اور عمل میں استقامت شامل ہو جائے تو وسائل کی محدودیت بھی بڑے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

المصطفیٰ آئی ہسپتال اسی عزم و عمل کا ایک نمایاں مظہر ہے، جہاں آنکھوں کے پیچیدہ امراض کی تشخیص اور علاج کے لیئے جدید ترین مشینری، اعلیٰ معیار کے طبی آلات اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ بالخصوص شوگر اور بلند فشارِ خون کے باعث آنکھوں کو لاحق ہونے والی پیچیدگیوں کے علاج کے لیئے جدید لیزر مشینوں کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے نتیجے میں بینائی متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر یہ سہولت نہایت اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج بہت سے مریضوں کو مستقل بصری معذوری سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ہسپتال کی ایک قابلِ تحسین خصوصیت یہ ہے کہ یہاں مستحق مریضوں کے لیئے علاج کا پورا نظام حتی الامکان مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ ابتدائی پرچی سے لے کر آپریشن تک سہولیات کی فراہمی اس عزم کی عکاس ہے کہ غربت کسی انسان کے علاج اور صحت یابی کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہیئے۔ جدید ترین آلات سے آراستہ تشخیصی شعبہ اور معیاری لیبارٹری مریضوں کو ضروری ٹیسٹوں کی سہولت فراہم کرتے ہیں، تاکہ مرض کی درست تشخیص اور علاج کے مؤثر مراحل کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہاں سفید موتیا کے مریضوں کے لیے ہر منگل اور بدھ کو مفت آپریشنز کا خصوصی اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ جدید مشینوں سے مزین اسٹیٹ آف دی آرٹ آپریشن تھیٹر میں تجربہ کار ماہرینِ امراضِ چشم کی نگرانی میں جراحی کے مراحل انجام دیے جاتے ہیں۔ یہ سہولت بالخصوص ان افراد کے لیئے امید کی کرن ہے جو مالی مشکلات کے باعث مہنگے علاج اور آپریشن کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ضرورت مند کی آنکھوں میں دوبارہ روشنی لوٹانا محض ایک طبی کامیابی نہیں بلکہ اسے زندگی کی خوشیوں، رشتوں کے چہروں اور دنیا کے رنگوں سے دوبارہ روشناس کرانے کا عمل ہے۔

المصطفیٰ آئی ہسپتال کی خدمات کا دائرہ صرف ہسپتال کی چار دیواری تک محدود نہیں۔ لاہور شہر اور اس کے گرد و نواح میں روزانہ کی بنیاد پر او پی ڈی کیمپس کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ مریضوں کو اپنی دہلیز تک بلانے کے بجائے خود ان تک پہنچنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ یہ طرزِ خدمت بالخصوص ان علاقوں کے غریب اور پسماندہ طبقات کے لیئے اہمیت رکھتا ہے جہاں آنکھوں کے ماہر معالجین اور جدید طبی سہولیات تک رسائی آسان نہیں۔ طبی کیمپوں کے ذریعے ابتدائی معائنہ، رہنمائی اور علاج کی سہولت فراہم کرنا صحتِ عامہ کے فروغ میں ایک مؤثر قدم ہے۔

اس ہسپتال کا ایک اور منفرد اور قابلِ ستائش پہلو مریضوں اور ان کے لواحقین کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا ہے۔ یہاں آنے والے مریضوں اور ان کے ساتھ موجود اہلِ خانہ کے لیئے دوپہر اور شام کے کھانے کا معیاری اور مفت انتظام کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک اضافی سہولت محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ اس وسیع انسانی سوچ کا اظہار ہے جس کے تحت مریض کو صرف ایک بیماری یا طبی کیس نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی معاشی، معاشرتی اور جذباتی مشکلات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو کسی ادارے کو محض علاج گاہ سے ایک حقیقی مرکزِ خدمت میں تبدیل کرتا ہے۔

کسی بھی معیاری ہسپتال کی اصل قوت صرف اس کی جدید مشینری یا وسیع عمارت نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کام کرنے والی انسانی ٹیم ہوتی ہے۔ المصطفیٰ آئی ہسپتال میں سینئر سرجنز، تجربہ کار ماہرینِ امراضِ چشم، کوالیفائیڈ ڈاکٹرز اور خوش اخلاق و تربیت یافتہ عملہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔ ان کی فرض شناسی، مریضوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور خدمت کے جذبے کو نظرانداز کرنا یقیناً ناانصافی ہوگی۔ طب کا شعبہ محض علم و مہارت کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ اس میں صبر، ہمدردی، احساسِ ذمہ داری اور انسانی درد کو سمجھنے کی صلاحیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ المصطفیٰ آئی ہسپتال کی ٹیم اسی انسانی قدر کو اپنے عملی کردار سے نمایاں کرتی دکھائی دیتی ہے۔

اس پورے نظام کو منظم انداز میں آگے بڑھانے میں مینجنگ ڈائریکٹر محترمہ نصرت سلیم کی انتظامی صلاحیتیں اور خدمات بھی خصوصی تحسین کی مستحق ہیں۔ اسی طرح میڈیا ایڈوائزر ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ محمد نواز کھرل ادارے کی سرگرمیوں، فلاحی منصوبوں اور انسانی خدمات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی بھی فلاحی ادارے کی کامیابی کے لیے مضبوط قیادت کے ساتھ مؤثر انتظامی حکمتِ عملی، ٹیم ورک اور عوامی رابطہ ناگزیر ہوتے ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کا امتزاج ہی کسی نیک مقصد کو ایک منظم اور دیرپا تحریک میں تبدیل کرتا ہے۔

عبدالرزاق ساجد کی قیادت میں المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کا یہ کارواں دراصل اس تصور کی عملی تعبیر ہے کہ معاشرے کی حقیقی ترقی کا پیمانہ صرف بلند عمارتیں، وسیع شاہراہیں اور معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کے کمزور ترین شہری کی زندگی میں پیدا ہونے والی آسانی بھی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں غریب شخص اپنی آنکھوں کا علاج کروا سکے، جہاں مستحق مریض کو آپریشن کے لیے اپنی جمع پونجی فروخت نہ کرنا پڑے اور جہاں علاج کے لیے آنے والے کسی مجبور انسان کو بھوک اور بے بسی کا سامنا نہ کرنا پڑے، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں فلاحی معاشرہ کہلانے کا مستحق ہے۔

بلاشبہ المصطفیٰ آئی ہسپتال کی خدمات کو محض طبی سہولیات کی فراہمی کے تناظر میں دیکھنا اس کے وسیع تر انسانی مقصد کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ یہ ادارہ اس فلسفے کی ترجمانی کرتا ہے کہ انسانیت کی خدمت کے لیے ضروری نہیں کہ انسان کے پاس بے پناہ دولت ہو، بلکہ ایک سچا جذبہ، مضبوط ارادہ اور دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا دل بھی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

عبدالرزاق ساجد کی سرپرستی اور قیادت میں خدمتِ خلق کا یہ قافلہ جس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، وہ امید دلاتا ہے کہ آنے والے وقت میں اس کی روشنی مزید علاقوں اور مزید ضرورت مند انسانوں تک پہنچے گی۔ نصرت سلیم، محمد نواز کھرل ، آمنہ سویرا اور ان کے تمام رفقائے کار کی محنت اس اجتماعی جدوجہد کا اہم حصہ ہے۔ ایسے ادارے قوموں کے اجتماعی ضمیر کو زندہ رکھتے ہیں اور یہ احساس دلاتے ہیں کہ زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اپنے لیئے روشنی جمع کرنا نہیں بلکہ دوسروں کے حصے کے اندھیروں کو کم کرنا ہے۔

المصطفیٰ آئی ہسپتال کی اصل پہچان اس کی جدید مشینری، شاندار عمارت یا طبی سہولیات ہی نہیں بلکہ وہ روشن آنکھیں ہیں جن میں علاج کے بعد امید لوٹ آتی ہے۔ یہ وہ چراغ ہیں جو کسی ایک گھر نہیں بلکہ پورے معاشرے کو منور کرتے ہیں۔ جس طرح رحمٰن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز گردوں کی صفائی کے گیارہ مرکز چلا رہے ہیں ، میں نے عجوبہ ء روزگار معالج ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی طبی تحقیق کے بارے میں بتایا تو جناب عبدالرزاق ساجد بہت خوش ہوئے ۔ یقیناً خدمت کا یہی جذبہ اخلاص کے ساتھ ہم سفر ہو تو انسانیت کے افق پر صحت، شفا اور امید کا سورج طلوع ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ آمنہ سویرا نے بھی اس اندھیرے کو سویرے میں بدلنے کا تہیہ کر لیا ہے ۔ ہمارے رفیقِ شفیق احمد سلمان ربانی کی آنکھ کا کامیاب آپریشن ہو گیا ہے ۔ احمد سلمان ربانی کی زبانی سنیئے کہ وہ کیا فرماتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قاضی صاحب امریکہ کا بھی کوئی بھی ہسپتال اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ وہ آج ممتاز صحافی جواں سال عبدالمتین سے المصطفیٰ ہسپتال کے پاکیزہ ماحول کے بارے میں بات کر رہے تھے ۔ اللہ تعالی عبدالرزاق ساجد صاحب کو صحت اور ایمان کے ساتھ لمبی زندگی دے ہم ان کی کامرانیوں کے لیے رفتارِ کُن کی دعا دیتے ہیں۔

عبدالرزاق ساجد صاحب آپ سلامت رہیں ہزار برس

ہر برس کے دن ہوں پچاس ہزار

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *