Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
منشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئیخواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع دینا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیسرکاری زمینوں پر قبضے اور محکمہ مال میں بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، حسیب شجاعطالبات کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچگہنور خان بجرانی مگسی کو ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ جھل مگسی تعینات کرنے کا مطالبہقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمدالمصطفیٰ آئی ہسپتال – جہاں بجھتی آنکھوں میں پھر سے روشنی اترتی ہےیہ دنیا مکافات عمل ہے مسٹر پتلو!!ملک بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے،سید امان شاہمہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ شعبہ مشکلات کا شکار ہے، ٹرانسپورٹرزمنشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئیخواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع دینا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیسرکاری زمینوں پر قبضے اور محکمہ مال میں بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، حسیب شجاعطالبات کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچگہنور خان بجرانی مگسی کو ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ جھل مگسی تعینات کرنے کا مطالبہقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمدالمصطفیٰ آئی ہسپتال – جہاں بجھتی آنکھوں میں پھر سے روشنی اترتی ہےیہ دنیا مکافات عمل ہے مسٹر پتلو!!ملک بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے،سید امان شاہمہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ شعبہ مشکلات کا شکار ہے، ٹرانسپورٹرز

مہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ شعبہ مشکلات کا شکار ہے، ٹرانسپورٹرز

مہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ شعبہ مشکلات کا شکار ہے، ٹرانسپورٹرز
پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنا عوام اور ٹرانسپورٹرز پر اضافی معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ حبیب اللہ بادیزئی
پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی کے اعتراف ، حکومت کا آئندہ بجٹ تک انتظار کرنے کا عندیہ عوام کے ساتھ مذاق ہے۔میر اکبر لہڑی
کوئٹہ(پ ر) آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے صدر حاجی حبیب اللہ خان بادیزئی، جنرل سیکرٹری میر اکبر لہڑی اور دیگر عہدیداروں نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی جانب سے پٹرول پر فی لیٹر 80 روپے لیوی وصول کرنے کے اعتراف اور اس میں فوری کمی کے بجائے آئندہ بجٹ میں غور کرنے کے بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی عائد کرکے عوام اور ٹرانسپورٹرز کو مسلسل معاشی دباؤ میں رکھنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات، کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کا یہ اعتراف کہ پٹرول پر فی لیٹر 80 روپے لیوی وصول کی جارہی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان سے بھاری ٹیکسز اور لیویز وصول کی جارہی ہیں۔ حکومت اگر خود تسلیم کررہی ہے کہ پٹرول پر اتنی بڑی رقم لیوی کی مد میں وصول کی جارہی ہے تو پھر اس میں کمی کے لیے آئندہ بجٹ تک انتظار کیوں کیا جائے؟مہنگائی اور معاشی مشکلات سے دوچار عوام اور ٹرانسپورٹرز مزید انتظار کے متحمل نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلے ہی ٹرانسپورٹ کا شعبہ مختلف معاشی مسائل، بڑھتے ہوئے اخراجات، ٹیکسز اور دیگر مشکلات کا شکار ہے، ایسے حالات میں پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی کی وصولی اس شعبے کے لیے مزید مشکلات پیدا کررہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غیر ضروری مالی بوجھ کم کرکے ٹرانسپورٹرز کو ریلیف فراہم کرے تاکہ ٹرانسپورٹ کا پہیہ رواں رہ سکے اور عوام کو بھی مہنگائی سے کچھ نجات مل سکے۔ آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے عہدیداروں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں فوری اور نمایاں کمی کی جائے اور عوامی و معاشی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جن سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو فروغ مل سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *