Banner
Daily Sahafat Quetta
November 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
چوکی انچارج علی گل کی تعیناتی کے بعد علیوان میں امن و امان کی صورتحال بہتر، شہریوں کا اظہارِ اطمینانتعلیمی اداروں کی بحالی اور معیارِ تعلیم میں بہتری اولین ترجیح ہے، طارق عزیز مگسیتمام محکمے اپنی ذمہ داریاں بروقت اور بہتر انداز میں انجام دیں، ڈپٹی کمشنر کوئٹہمولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کی ڈرون سے تصاویر بنانے کی مذمت، نجی زندگی کے تقدس کا احترام کیا جائے، مولانا محمد ادریس رندڈی ایس پی گنداخہ کی مذہبی رہنماؤں سے ملاقات، امن و امان اور جرائم کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاقگنداخہ شاخ کی بھل صفائی تیزی سے جاری، زمینداروں کا فیصل خان جمالی کے ذاتی تعاون پر اظہارِ تشکربلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ کیسکو لیبر یونین کی تاریخی کامیابی10 ہزار ملازمتوں سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ھوگا، پروفیسر حلیم صادقگورنمنٹ بوائز ڈگری کالج نوڈیرو میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس، طلباء کی تقاریر اور نعت خوانیکرسی، گالی، بیرونی ایجنٹ، لندن کا فلیٹ اورپاکستان کی سیاستچوکی انچارج علی گل کی تعیناتی کے بعد علیوان میں امن و امان کی صورتحال بہتر، شہریوں کا اظہارِ اطمینانتعلیمی اداروں کی بحالی اور معیارِ تعلیم میں بہتری اولین ترجیح ہے، طارق عزیز مگسیتمام محکمے اپنی ذمہ داریاں بروقت اور بہتر انداز میں انجام دیں، ڈپٹی کمشنر کوئٹہمولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کی ڈرون سے تصاویر بنانے کی مذمت، نجی زندگی کے تقدس کا احترام کیا جائے، مولانا محمد ادریس رندڈی ایس پی گنداخہ کی مذہبی رہنماؤں سے ملاقات، امن و امان اور جرائم کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاقگنداخہ شاخ کی بھل صفائی تیزی سے جاری، زمینداروں کا فیصل خان جمالی کے ذاتی تعاون پر اظہارِ تشکربلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ کیسکو لیبر یونین کی تاریخی کامیابی10 ہزار ملازمتوں سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ھوگا، پروفیسر حلیم صادقگورنمنٹ بوائز ڈگری کالج نوڈیرو میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس، طلباء کی تقاریر اور نعت خوانیکرسی، گالی، بیرونی ایجنٹ، لندن کا فلیٹ اورپاکستان کی سیاست

یہ دنیا مکافات عمل ہے مسٹر پتلو!!

یہ دنیا مکافات عمل ہے مسٹر پتلو!!
تحریر،رخسانہ رخشی

آج آپ کی گریہ زاری، رونا دھونا، بےبسی اور تہےدست ہونامکافات عمل کا شاخسانہ ہے، کیونکہ آپ نے غرباء کی مجبوری اور کسمپرسی سے حظ اٹھایا ، انکے لئے شادی کا پنڈال قتل گاہ میں بدلہ ، اپنی مقبولیت چیک کرنے کے عوض انکی غربت کا تمسخر اڑایا ، جبکہ آپ جانتے ہیں کہ غرباء کی کیا مجبوری ہوتی ہے انکے کون کون سے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ آپ بھی تو اسی کسمپرسی کے حالات سے گزرے ہیں تو کیوں نا اپنے علاقے کی بہنوں بیٹیوں کی شادی خاموشی سے کرائی ، غرباء کی مدد پوشیدہ طریقے سے کیوں نا کی؟؟
ارے بھائی، جسقدر خدا نے آپ کو نوازا تھا اس کے بعد آپ کو ہر قسم کی خرافات سے دور ہوجانا چاہئے تھا، اپنے میں عاجزی و انکساری والے تمام عناصر پیدا کرلینا چاہئیں تھے ، سجدہء شکر بجالانے میں جھکنا چاہئے تھا ، اپنے اخلاق کو بہتر سے بہتر کرتے اور جسقدر پیسہ آپ کو چھپڑ پھاڑ کے خدا نے دیا تھا وہ فضول کے گلچھڑوں میں نہیں اڑانا چاہئے تھا بلکہ اپنی بستی کے غرباء کی مالی پوزیشن شروع ہی سے مستحکم کرنے کاجذبہ آپ کو ایمان کیطرح موجزن رکھنا چاہئے تھا ۔
اگر یہ سب نو دولتیئے وقت پر کسی کے کام آجائیں اور اپنے اپنے علاقے مسائل و دلدر دور کردیں تو جرائم اور قتل و غارتگری نا ہو! وہ بےچاری دلہن جو خواب سجائے آپ کے آنگن میں اتری تو وہاں پھولوں کی سیج کی بجائے اسے ایک بھگدڑ اور مقتل کا میدان سجا ملا! یقین کیجیئے اگر نیکیاں پہلے کرلی جائیں تو وہ آپ کیلئے آئیندہ آنے والی زندگی کیلئے صدقہء جاریہ ثابت ہوتی ہیں ۔
اب آپ فرمارہے ہیں کچھ سے کچھ اور مدد مانگ رہے ہیں مختلف حیلوں وسیلوں سے تو بھائی اگر خدا کے بندوں کی مدد اپنے عروج پر کی ہوتی تو آپ پر زوال کا سوال ہی پیدا نا ہونا تھا !!! مگر کیا کیا جائے کہ پاکستان میں گمراہی ، شوخ پن، ایک دوسرے کو نیچا دکھا نا لوگوں کی بری عادت بن چکی ہے ۔
جو خاندانی امیر لوگ ہوتے ہیں وہ اپنے کاروبار ، اچھے گھر اور بہترین گاڑیاں رکھنے کے بعد جو کچھ بھی بچ رہتا ہے وہ راہ خدا اور انسانوں کی بہبود پر خرچ کرتے ہیں انہیں پھر زوال خال خال ہی آتا ہے آخر اسقدر پیسہ انسانیت پر خرچ نا کیا جائے تو وہ کھانا تو ہے نہیں اور ناہی قبر میں لے جانے کے کوئی زرائع ہیں ! اور مسٹر پتلو! جو انسانیت کی خدمات پر خرچ کرتے ہیں مختلف زرائع سے تو وہ دنیا میں ایک شان سے جیتے ہیں انہیں کبھی کسی بھی مشکل وقت میں خدا سے علاوہ بھی کسی کی مدد چاہئے ہوتی ہے ، نا ہی دنیا کے آگے ناک رگڑ کر جھکنا ہوتا ہے اور ناہی بری طرح گڑگڑانا پڑتا ہے ! سینہ تان کر جیتے ہیں ایسے لوگ ! انہیں دنیا کا چھچھورا پن ، دکھاوا، شوبازی، چول بازی ، حسد جلن سے رتی برابر فرق نہیں پڑتا ! انکی زندگی میں جسقدر سکون اور خوبصورت دنیا میسر ہوتی ہے وہ اسے دنیا پر ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتے کیونکہ انکا سکون و اطمنان تو انکا اپنا ہوتاہے ۔
لہٰذا ان تمام اعلیٰ اوصاف کیلئے خاندانی پن اور سکون قلب ضروری ہے جو بہت سے لوگوں میں ناپید ہے اگر آپ خاندانی ، جدی پشتی امیر نہیں ہیں کہ آپ میں اچھی عادات کا ہونا ممکن نا ہو مگر آپ نہایت غریب گھر کے ان پڑھ جاہل بھی ہوں تو غربت آپ کو تعلیم یافتہ لوگوں سے بھی بڑی تعلیم اور سبق سمجھا دیتی ہے کہ ہم کس کسمپرسی میں زندگی گزار چکے ہیں لہٰذا ہمارے اردگرد کے لوگ آسودہ حال ہونا چاہئیں ، پھر نا تو آپ پر جانی حملوں کا ڈر ہوتا اور نا ہی آپ پر مجرمانہ غفلت کا اطلاق ہوتا اور ناہی آپ اسقدر بےچین اور خوفزدہ ہوتے اپنی خوشی کے موقع پر اور نا ہی یہ شب خون پڑنے جیسے آج آپ کے حالات ہوتے آپ بھی قابل تعریف ہرجگہ گردانے جاتے اور آپکی زندگی میں راوی چین ہی چین لکھتا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *