Banner
Daily Sahafat Quetta
November 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر حاجی محمد ندیم شیخ کے صاحبزادے کے اعزاز میں تقریب، پھولوں کے ہار پہنائے گئےگنداخہ شاخ میں بھل صفائی کا کام جاری، زمینداروں اور آبادگاروں کا صوبائی وزیر فیصل خان جمالی سے اظہارِ تشکرکیچ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات مکمل، رستم جان گچکی صدر منتخبلہتراڑ روڈ کے طلبہ کا جرگہ، بنیادی حقوق اور شہری سہولیات کے لیے اہم مطالبات پیشآئس کا نشہ، عالمی سیاست کا خاموش ہتھیارٹرمپ نے امریکی انتخابات میں شکست تسلیم کرلی، ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلانسیف سٹی منصوبے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی بنیاد ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستانلکی مروت: پولیس کے ساتھ جھڑپ میں خودکش بمبار سمیت 2 خارجی دہشتگرد ہلاکعمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس سے متعلق اپیلوں میں بڑی پیش رفتوفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہعمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر حاجی محمد ندیم شیخ کے صاحبزادے کے اعزاز میں تقریب، پھولوں کے ہار پہنائے گئےگنداخہ شاخ میں بھل صفائی کا کام جاری، زمینداروں اور آبادگاروں کا صوبائی وزیر فیصل خان جمالی سے اظہارِ تشکرکیچ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات مکمل، رستم جان گچکی صدر منتخبلہتراڑ روڈ کے طلبہ کا جرگہ، بنیادی حقوق اور شہری سہولیات کے لیے اہم مطالبات پیشآئس کا نشہ، عالمی سیاست کا خاموش ہتھیارٹرمپ نے امریکی انتخابات میں شکست تسلیم کرلی، ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلانسیف سٹی منصوبے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی بنیاد ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستانلکی مروت: پولیس کے ساتھ جھڑپ میں خودکش بمبار سمیت 2 خارجی دہشتگرد ہلاکعمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس سے متعلق اپیلوں میں بڑی پیش رفتوفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہ

آئس کا نشہ، عالمی سیاست کا خاموش ہتھیار

آئس کا نشہ، عالمی سیاست کا خاموش ہتھیار
رپورٹ اے کے میڈیا ٹیم

نوٹ۔(واشنگٹن سے بیجنگ تک کتاب سے اقتباس)

قارئین، اگر میں یہ کہوں کہ ہمارے شہروں کی گلیوں اور محلوں میں جو تیزی سے پھیلتا ہوا آئس کا نشہ ہے، یہ محض پولیس کی ناکامی نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی ایک نوجوان کی انفرادی کمزوری ہے، تو یہ ہضم کرنا تھوڑا مشکل لگتا ہے کہ یہ دراصل ایک صدی پرانے ہتھیار کی جدید شکل ہے۔ عام طور پر ہم نشے کو بس ایک سماجی برائی یا پھر صحت کا ایک معمولی مسئلہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن آج کے اس گہرے جائزے کی بنیاد ایک ایسی تحریر پر ہے جو واقعی اس روایتی سوچ کو پوری طرح جھنجھوڑ دیتی ہے۔ ہم آج نامور مصنف اور مفکر احمد خان اچکزئی کی انتہائی تہلکہ خیز کتاب “واشنگٹن سے بیجنگ تک (دی گریٹ گیم کا خاتمہ)” کے چنیدہ حصوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جسے ہم محض ایک طبی مسئلہ سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل عالمی سیاست، معیشت اور گریٹ گیم کا ایک انتہائی خطرناک اور خاموش مہرہ ہے۔ اس پوری صورتحال کا سب سے حیران کن پہلو اس کا گہرا تاریخی تسلسل ہے، کیونکہ منشیات کو کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لیے ایک باقاعدہ ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی جڑیں اس دور میں ملتی ہیں جب ایشیاء اور افغانستان کے خطے میں برطانیہ اور روس کے درمیان زبردست کشمکش جاری تھی جسے ہم تاریخی اصطلاح میں گریٹ گیم کہتے ہیں۔ کتاب کی یہ تفصیلات واقعی چونکا دینے والی ہیں کہ سلطنتوں کا مقصد صرف فوج کے زور پر علاقہ فتح کرنا نہیں تھا، بلکہ خطے کی جغرافیائی اہمیت اور تجارتی راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے معاشرتی توڑ پھوڑ اور معاشی ہائی جیکنگ کا سہارا لیا گیا تاکہ مقامی آبادی کو روایتی زراعت سے ہٹا کر ایک ایسی معیشت کا عادی بنایا جائے جو بلیک مارکیٹ پر مبنی ہو اور جس سے معاشرے کی خود مختاری ہمیشہ کے لیے چھن جائے۔بیسویں صدی کے اوائل کے اس گریٹ گیم سے نکل کر جب ہم سرد جنگ کے دور کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حکمت عملی ایک نیا اور زیادہ خوفناک رخ اختیار کرتی ہے جہاں امریکہ اور سوویت یونین کی بالادستی کی جنگ کے دوران افغانستان اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہیروئن کی پیداوار محض مقامی جرائم پیشہ گروہوں کا کام نہیں رہی تھی بلکہ یہ ایک عالمی سپلائی چین کا لازمی حصہ بن چکی تھی۔ اس خطے میں پراکسی جنگیں لڑنے والے مختلف گروہوں کی مالی معاونت کے لیے اس کاروبار کو باقاعدہ ایک سیلف فنڈنگ مکینزم کے طور پر استعمال کیا گیا جہاں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے مفادات کی خاطر آنکھیں بند رکھیں تاکہ کالے دھن سے جنگ کا ایندھن خریدا جا سکے، اور آج اسی تسلسل میں ہیروئن کی جگہ انتہائی مہلک کیمیائی زہر یعنی آئس یا کرسٹل میتھ نے لے لی ہے۔ آئس کوئی قدرتی پودا نہیں ہے جو کھیتوں میں اگتا ہو بلکہ یہ مکمل طور پر ایک لیبارٹری پروڈکٹ ہے جسے کاربائیڈ، چیل اور دیگر انتہائی زہریلے اور تیزابی کیمیکلز سے بند کمروں یا تہہ خانوں میں تیار کیا جاتا ہے، اور جب یہ زہر انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے تو یہ براہ راست دماغ کے اس حصے پر حملہ کرتا ہے جو خوشی اور انعام کا احساس پیدا کرنے والا کیمیکل یعنی ڈوپامین خارج کرتا ہے۔ یہ خطرناک کیمیکلز دماغ کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی جھٹکے میں زندگی بھر کی جمع پونجی یعنی ڈوپامین کا ایک بہت بڑا اور غیر فطری سیلاب چند گھنٹوں میں خرچ کروا دے جس سے وقتی طور پر بے پناہ چستی اور توانائی کا جھوٹا احساس ہوتا ہے، لیکن اس کے فوراً بعد دماغ کے وہ ریسیپٹرز بری طرح جل جاتے ہیں کہ انسان عام روزمرہ کی زندگی سے خوشی محسوس کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ اب اس شخص کو وہ وقتی سراب نہیں بلکہ صرف نارمل حالت میں رہنے یا شدید ڈپریشن سے بچنے کے لیے اس صنعتی فضلے کو بار بار اپنے جسم میں اتارنا پڑتاہے، جس سے اس کے گردے، جگر اور دل گل جاتے ہیں اور وہ محض ایک فرد کی جسمانی موت نہیں بلکہ مکمل سماجی، اخلاقی اور ذہنی موت کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔جب یہ تباہی کسی پورے محلے، شہر یا ملک کے نوجوانوں میں سرایت کرتی ہے تو یہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے قیمتی انسانی سرمائے یا ہیومن کیپتال کے زوال کا سبب بنتی ہے کیونکہ افغانستان اور سرحدی علاقوں میں قائم غیر قانونی کارخانے اب ایک منظم سمگلنگ نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو چونکہ حجم میں چھوٹا اور چھپانے میں آسان ہے اس لیے پورے خطے میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ طلب بڑھنے سے سٹریٹ کرائمز، چوریاں اور ڈکیتیاں عام ہو جاتی ہیں، تحفظ کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور وہ ہنر مند نوجوان جو کل تک معیشت کا پہیہ چلا رہے تھے اب سڑکوں پر بے سہاراپڑے ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف ریاست کی افرادی قوت ختم ہو جاتی ہے بلکہ حکومتوں کو امن و امان اور صحت عامہ پر اپنا خطیر بجٹ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی طاقت کسی قوم کو عالمی سطح پر مفلوج کرنا چاہتی ہے تو اسے اربوں ڈالر خرچ کر کے فوج بھیجنے یا تعلیمی ادارے تباہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ بس اس سستے کیمیکل کے ذریعے بغیر ایک بھی گولی چلے دس پندرہ سالوں میں اس پوری نسل کی سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتی ہے، جو کہ جدید دور کی ایک انتہائی سمارٹ، خاموش اور مہلک جنگ ہے۔ اگرچہ مقامی سطح پر کارخانوں کے خلاف کریک ڈاؤن، شعور اجاگر کرنے کی مہمات اور مذہبی و سماجی قیادت کی طرف سے اس کاروبار کو حرام قرار دینے جیسے اقدامات ابتدائی طبی امداد یا فرسٹ ایڈ کی حیثیت ضرور رکھتے ہیں، لیکن بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ محض وقتی کامیابیاں ہیں کیونکہ اس بیماری کی اصل جڑیں بین الاقوامی مالیاتی مفادات، سمگلنگ کے عالمی روٹس اور ریاستوں کے مابین کھینچا تانی میں پیوست ہیں۔ اس ناسور کا مستقل اور پائیدار حل صرف مقامی پولیس کی کارروائیوں میں نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ریاستوں کو معاشی طور پر خود مختار بنانا ہوگا، سرحدوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈرونز کا استعمال کرنا ہوگا اور بین الاقوامی سطح پر مافیاز کی عالمی فنڈنگ کو روکنے کے لیے ایک سچی اور مربوط سفارتی شراکت داری قائم کرنا ہوگی۔
احمد خان اچکزئی کا یہ بصیرت افروز پیغام ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ جب تک ہم اس عالمی جال کے تمام محرکات کا احاطہ کر کے ریاستی سطح پر ایک جامع، سنجیدہ اور طویل مدتی حکمت عملی نہیں اپنائیں گے، تب تک اس خطرے سے نکلنا انتہائی کٹھن مرحلہ رہے گا کیونکہ آئس محض چند کیمیکلز کا مرکب نہیں بلکہ ایک ایسا گھنائونا معاشی و سیاسی ہتھیار ہے جس کا بنیادی ہدف ایک قوم کے مستقبل، طاقت اور استحکام کو مفلوج کرنا ہے۔ آج کی اس تفصیلی گفتگو سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ علم، آگاہی اور بیداری ہی وہ واحد ڈھال ہے جو ہمیں اس غیر اعلانیہ جنگ میں محفوظ رکھ سکتی ہے کیونکہ دنیا میں اس سطح پر کچھ بھی اتفاق سے نہیں ہوتا اور مسائل کی اصل شکل کو پہچاننا ہی ان کے حل کی طرف پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے اس تیز ترین اور ڈیجیٹل دور میں وہ کون سے دوسرے عام سماجی مسائل یا نت نئے ٹیکنالوجیکل ٹرینڈز ہو سکتے ہیں جو بظاہر ہمیں محض تفریح یا وقت گزاری کا ذریعہ لگتے ہوں لیکن درحقیقت اسی عالمی گریٹ گیم کے نئے سمارٹ اور غیر اعلانیہ ہتھیار ہوں؟ کیا ہم آج بھی جانے انجانے میں کسی نئے قسم کے زہر کو اپنے سماج اور نسلوں کی رگوں میں تو نہیں اتار رہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو ہم سب کو ایک گہری اور سنجیدہ فکری سوچ میں مبتلا کر دیتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *