Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
منشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئیخواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع دینا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیسرکاری زمینوں پر قبضے اور محکمہ مال میں بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، حسیب شجاعطالبات کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچگہنور خان بجرانی مگسی کو ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ جھل مگسی تعینات کرنے کا مطالبہقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمدالمصطفیٰ آئی ہسپتال – جہاں بجھتی آنکھوں میں پھر سے روشنی اترتی ہےیہ دنیا مکافات عمل ہے مسٹر پتلو!!ملک بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے،سید امان شاہمہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ شعبہ مشکلات کا شکار ہے، ٹرانسپورٹرزمنشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئیخواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع دینا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیسرکاری زمینوں پر قبضے اور محکمہ مال میں بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، حسیب شجاعطالبات کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچگہنور خان بجرانی مگسی کو ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ جھل مگسی تعینات کرنے کا مطالبہقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمدالمصطفیٰ آئی ہسپتال – جہاں بجھتی آنکھوں میں پھر سے روشنی اترتی ہےیہ دنیا مکافات عمل ہے مسٹر پتلو!!ملک بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے،سید امان شاہمہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ شعبہ مشکلات کا شکار ہے، ٹرانسپورٹرز

تاج بچاؤ جھوٹ،تاریخ کے بھیانک فریب

تاج بچاؤ جھوٹ،تاریخ کے بھیانک فریب
محمدنسیم رنزوریار
قارئین کرام، تاریخِ عالم کے اوراقِ سیاہ پر جب نظر دوڑائی جائے تو ایک ہیبت ناک حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ فرعونِ مصر کا وہ لرزہ خیز جھوٹ کہ میں ہی تمہارا سب سے بڑا رب ہوں دراصل کرسی کے تحفظ کا پہلا اور قدیم ترین حربہ تھا، اسی جھوٹ کی بنیاد پر ہزاروں سال تک نیل کے کنارے معصوم شیر خوار بچوں کا گلا گھونٹ کر اقتدار کو دوام بخشا گیا، پھر یونان و روم کے نیرو جیسے مجنوں حکمرانوں نے روما کو آگ میں جھونک کر بنسری بجائی اور جھوٹ بولا کہ تماشہ ہی اصل تہذیب ہے۔وسطی ایشیا کی وحشی آندھی چنگیز خان اور ہلاکو خان نے بغداد کی گلیوں میں لاکھوں سروں کے منار بنا کر یہ فریب پھیلایا کہ ہم خدا کا بھیجا ہوا عذاب ہیں ہمارے سامنے جھک جاؤ تو نجات ہے ورنہ فنا ہو جاؤ گے، اسی نفسیاتی جھوٹ پر بڑے بڑے قلعے بغیر تلوار اٹھائے فتح ہوتے چلے گئے اور دجلہ و فرات کا پانی کتابوں کی سیاہی اور شہیدوں کے خون سے سرخ و سیاہ ہو گیا۔جدید تاریخ کا سب سے سفاک جھوٹ ہٹلر نے 1933 میں ریخسٹاگ کو خود آگ لگا کر بولا کہ یہ یہودیوں اور کمیونسٹوں کی سازش ہے، اسی ایک جھوٹ پر ایمرجنسی نافذ کر کے اپوزیشن کو زنداں میں ڈالا گیا اور پھر آریہ نسل کی برتری کا وہ زہریلا فریب گھڑا گیا جس نے ہولوکاسٹ کے گیس چیمبرز میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو بھسم کر دیا اور دنیا کو دوسری جنگِ عظیم کی ہولناک آگ میں جھونک دیا، اسی طرز پر سٹالن نے جھوٹ گھڑا کہ قحط کا ذمہ دار کسان ہے جو اناج چھپا رہا ہے اور اسی بہانے 60 لاکھ کسانوں کو سائبیریا کی برف میں دفن کر کے یوکرین میں 40 لاکھ انسانوں کو بھوک سے تڑپا تڑپا کر مارا گیا۔برطانوی سامراج نے اس سے بھی بڑا تہذیبی جھوٹ بولا کہ ہم ایشیا اور افریقہ کو مہذب بنانے اور وحشیوں کو انسان بنانے آئے ہیں، اسی سفید جھوٹ کی آڑ میں 200 سال تک برصغیر سمیت آدھی دنیا کو لوٹا گیا، زنجیروں میں جکڑا گیا اور اس کی دولت لندن و پیرس لے جائی گئی۔اکیسویں صدی میں جارج بش اور ٹونی بلیئر نے اقوامِ متحدہ کے ایوان میں کھڑے ہو کر وہ تاریخی جھوٹ بولا کہ عراق کے پاس تباہی کے ہتھیار WMD ہیں، اسی جھوٹ پر عراق کو تاراج کیا گیا، دس لاکھ سے زائد عراقی خون میں نہلائے گئے اور بعد میں امریکی کانگریس نے خود اعتراف کیا کہ وہاں ایسا کچھ تھا ہی نہیں، یہ تیل اور اقتدار کی ہوس کا صدی کا سب سے مہنگا جھوٹ تھا، اس سے پہلے 1964 میں امریکی صدر لنڈن جانسن نے خلیج ٹونکن کا وہ من گھڑت جھوٹ ایجاد کیا کہ شمالی ویتنام نے ہمارے جہازوں پر حملہ کیا ہے حالانکہ ایسا کوئی حملہ ہوا ہی نہیں تھا، اسی جھوٹ پر 20 سالہ ویتنام جنگ مسلط کی گئی جس میں 30 لاکھ نفوس لقمہ اجل بنے اور 2005 میں خفیہ دستاویزات نے ثابت کیا کہ یہ سب فریب تھا۔آج بھی ہر شکست خوردہ بادشاہ اور ہر کرسی پرست سیاستدان کا آخری حربہ وہی پرانا جھوٹ ہے کہ الیکشن چوری ہو گیا ہے، بیرونی سازش ہو گئی ہے، ووٹ پر ڈاکہ پڑا ہے، نیرو سے لے کر آج تک تاج بچاؤ مہم کا یہی نسخہ ہے کہ سچ کو دفن کر دو اور جھوٹ کا تاج پہن لو، مگر کائنات کا اٹل قانون یہی ہے کہ ہر فرعون کے لیے موسیٰ ہے، ہر یزید کے لیے حسینیت کی للکار ہے، جھوٹ پر کھڑا تخت چاہے فرعون کا ہو، نمرود کا، ہٹلر کا، چنگیز کا، سٹالن کا یا بش کا، وہ ریت کا محل ہے جو مظلوموں کے لہو کی گرمی سے ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے، تازیانے ٹوٹ جاتے ہیں اور تاج خاک میں مل جاتے ہیں، یہی قضا ہے، یہی انجام ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *