Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تکوڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سےدینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہےسیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تکوڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سےدینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہے

وڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سے

وڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سے
تحریر، مولوی عبد الوھاب شاکر

حال ہی میں کوئٹہ کے دھرتی پر ایک پروگرام کا انعقاد ہوا تھا، جس میں مشہور ومعروف لیڈیز (عورت) ” وڑانگی لونی” نے بھی بیان دیا، جس کا ترجمہ میں اپنی قلم سے کچھ اس انداز سے قلمبند کرنے جارہا ہوں ۔
موصوفہ کہہ رہی تھی کہ اب ہمارے اس دھرتی پر شوہر کے شکل میں فرعون ہی فرعون نظر آرہے ہیں، وہ اس طرح کہ فرعون آج سے کئی صدیاں پہلے اپنے ظلم میں ضرب المثل رہا ہے، بعینہٖ اسی طرح شوہر بھی آج اپنے مظلوم زوجہ محترمہ پر ظلم میں فرعون کے نقش وقدم پر گامزن نظر آرہا ہے ۔
مجھے (راقم السطور) وڑانگی لونی کے اس بیان سے یورپی فیشن کی اتباع کی بوہ آرہی ہے، جبکہ آج میں اپنے اس تحریر میں وڑانگی لونی کو اس زبان سے جواب دینا چاہتا ہوں جس کے نقش و قدم پر وڑانگی لونی نے خود کو بھی اور ہمارے معاشرے کے سادہ لوح عورتوں کو ساتھ لے جانے کا عزم کیا ہے، آئے پڑھئیے ۔

(انگریزی سے اردو ترجمہ)
فیشن پرست عورتوں کے لئے موجدین فیشن کا فتویٰ ۔
یورپ عورت کے آزادی اور فیشن نوازی سے تنگ آ رہا ہے

اسلامی تعلیم نے عورتوں کو جس طرح گھر کی زینت قرار دیا اس سے زیادہ اس کا اہتمام کیا ہے کہ وہ گھر کے ملکہ، اولاد کی مربی اور خانگی کی منتظم وسلیقہ شعار بنے ، قرآن وحدیث کے نصوص وارشادات امہات الامہ کے مرقعات عمل سبھی کچھ اس کے لئے پیش فرماتے لیکن یورپ زدہ قلب ودماغ افسوس کہ اس سے متاثر نہیں ہوئے، لیجیے آج خود یورپ کا ہی فتویٰ ملاحظہ کیجیے ، ایک یورپین مضمون نگار کا مقالہ پڑھے:
میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ یورپ کے عورت کیا سے کیا بن گئے، اس نے تمام نسوانی خصوصیات کو ترک کردیا جو گزشتہ دور میں عورتوں کے لئے طرہ امتیاز تھیں، نہ عورت میں پہلے سے سادگی رہی نہ محبت نہ اطاعت، عورت زمانے کے ساتھ بدل چکے ہیں، بیوی کے خصوصیات کو ترک کرنے کے بعد عورتوں نے محبوبہ کی خصوصیات اختیار کرلئے ہیں ۔
محبوبہ کی خصوصیات بلاشبہ دل کش ہے، یہ خصوصیات ہمارے دل چسپی کا باعث تو بن سکتی ہے، لیکن ان خصوصیات کے ذریعہ ہم معاشرتی سکون کبھی حاصل نہیں کرسکتی، اگر ہم معاشرتی سکون چاہتے ہیں تو ہم کو باوقار بیوی کی ضرورت ہے، محبوبہ کا وجود ہمارے لئے بے کار ہے ۔
موجودہ دور کی بیوی کی زندگی کے جس شعبہ پر بھی نظر ڈالے، صرف بناوٹ اور ظاہر واری ہی ظاہر واری ہے ۔
موجودہ دور کی بیوی آپ سے غیر معمولی محبت کرے گی لیکن یہ محبت درحقیقت محبت نہیں ہے بلکہ ایک آرٹ ہے جس کے ذریعہ شوہروں کو احمق بنایا جاتا ہے، اگر بیویاں درحقیقت اتنے ہی محبت کیا کریں جتنی کہ وہ ظاہر کرتے ہیں تو یورپ میں سو شادیوں کا نتیجہ طلاق نہیں کرتا واقعہ ہے کہ ان کو محبت کرنے کا فن آگیا ہے یہ ایک ایکٹریس کی طرح اپنا فارٹ آدا کرتی ہے ۔اور بس اس سے زیادہ ان کی محبت کی اور کچھ وقعت نہیں ہے۔
میں نے ایک دو نہیں ہزاروں عورتوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی شوہروں پر والہ وشید نظر آتی ہے، لیکن میں نے جب ان کے پراویٹ زندگی کا مطالعہ کیا تو مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کی محبت کا سب سے بڑا حق دار ایک غیر شخص ہے جو بظاہر تو دوست بنا ہوا ہے، لیکن درحقیقت وہ ان اظہار محبت کرنے والی عورتوں کی دلچسپی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، کیا یہ حالات صاف طور پر یہ ظاہر نہیں کررہی ہے کہ یورپ کی بیوی ایک پیشہ ور محبوبہ بن گئی ہے، موجودہ دور کی بیویوں کے لباس پر نظر ڈالی ہے تو آپ کو یہ اندازہ ہوگا کہ اس لباس کا مقصد جسم کی پوشی نہیں ہے بلکہ جسم کو خوش نما بن کر اور جسم کے بعض حصوں کو عریاں کرکے مردوں کی سنسان جذبات کو ابھارنا ہے، ایک نیک بیوی جو صرف اپنے شوہر سے غرض رکھتی ہے، اس سے بھلا نفسانی جذبات کو ابھارنے والی لباس کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے یہ سب کچھ جس مقصد کے ماتحت ہورہاہے وہ ظاہر ہے، اور یہ مقصد اس قدر تاریک ہے کہ عورت کی ہستی کو اس مقصد سے مٹا دیا ہے ۔
تمدن معاشرت اور تفریحات کے لحاظ سے بھی آپ کو شکل ہی کے لحاظ سے کوئی بیوی نظر آئے گی، ہر بیوی محبوبہ بنی ہوئی ہے اور ہر بیوی کی یہ خواہش ہے کہ شوہر اس سے بچے پیدا کرنے کے لئے مجبور نہ کرے، ذرا غور کیجئے اگر عورت بچے پیدا کرنے سے گھبراتی ہے تو اس کی وجود کی ضرورت ہی کیا ہے،اور اگر پھر بھی اس کی ضرورت مان لی جائے تو آخر وہ کون سا سبب ہے جو اس سے بچے پیدا کرنے سے متنفر کئے ہوئے ہے، بچے پیدا کرنے سے نفرت کا باعث اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ موجودہ دور کی بیوی ایک محبوبہ کی خوش جمال رہنا چاہتی ہے، حالانکہ بیوی کا حقیقی حسن اس کی اولاد ہے یورپ کی اس بڑھتی ہوئی رَو کو روکنا ہر معقولیت پسند انسان کا فرض ہے، ممکن ہے کہ عورتوں کا محبوبہ پن جوانی میں اچھا معلوم ہوسکے لیکن جوانی کے چند محدود سال گزرنے کے بعد ہم کو محبوبہ کی ضرورت نہیں ہوگی ہم کو ایک سچا دوست کی ضرورت ہوگی، ہم کو ایک اچھی ساتھی کی ضرورت ہوگی ہم ایک بہترین شریک زندگی کی ضرورت ہوگی مگر وہ اس زمانے میں مفقود ہے، اس عصر میں حشرات الارض کی طرح محبوبہ پن رکھنے والی عورتیں مل سکتی ہے مگر شریف اور نیک بیوی کا ملنا ناممکن ہوگی
(کشکول صفحہ 81)

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *