Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نوڈیرو میں پولیس کے مبینہ ناروا رویے اور امن و امان کی صورتحال کے خلاف 6 نومبر کو احتجاج کا اعلانسیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تکوڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سےدینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہنوڈیرو میں پولیس کے مبینہ ناروا رویے اور امن و امان کی صورتحال کے خلاف 6 نومبر کو احتجاج کا اعلانسیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تکوڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سےدینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

سیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تک

سیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تک
کالم نگار: ایس ایم مرموی

سابق اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی اور مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنما کاظم میثم کو اردو زبان و ادب میں فرسٹ ڈویژن کے ساتھ ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں سیاسی مصروفیات، عوامی ذمہ داریوں اور وقت کی قلت کے باوجود علم و تحقیق سے اپنا تعلق برقرار رکھنا یقیناً قابلِ تحسین ہے پانچویں پوسٹ گریجویشن ڈگری کا حصول ان کی علمی لگن مسلسل جدوجہد اور حصولِ علم سے وابستگی کا مظہر ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں علم و عمل کے اس سفر میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور ان کی علمی و سیاسی صلاحیتوں کو گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت نوجوانوں کی رہنمائی اور علاقے کی ترقی کا وسیلہ بنائے۔ آمین۔
سیاست میں عموماً لوگ اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے کے لیے راستے تلاش کرتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر بھی علم کی تلاش کا سفر جاری رکھتے ہیں وہ عہدوں کو اپنی منزل نہیں سمجھتے بلکہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا ایک حصہ تصور کرتے ہیں گلگت بلتستان کی سیاست میں کاظم میثم کا نام بھی اسی حوالے سے قابلِ ذکر ہے جنہوں نے سیاسی مصروفیات کے باوجود تعلیم کا دامن نہیں چھوڑا اور اب اردو زبان و ادب میں فرسٹ ڈویژن کے ساتھ ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرکے اپنی علمی کامیابیوں میں ایک اور اضافہ کر لیا ہے۔
یہ محض ایک تعلیمی سند کا حصول نہیں بلکہ اس سوچ کی علامت ہے کہ اگر انسان کے اندر سیکھنے کی لگن زندہ ہو تو سیاسی ذمہ داریاں عوامی مصروفیات اور وقت کی قلت بھی اس کے راستے کی حتمی رکاوٹ نہیں بن سکتیں تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر، سابق چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے زراعت لائیو اسٹاک و فشریز اور مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنما کاظم میثم نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے حالیہ امتحانات میں بطور پرائیویٹ طالب علم شرکت کرتے ہوئے اردو زبان و ادب میں فرسٹ ڈویژن کے ساتھ ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی ہے اس سے قبل وہ ایم فل ایجوکیشن، ایم اے پولیٹیکل سائنس، ایم اے اسلامیات اور ایم ایڈ کی اسناد حاصل کر چکے ہیں اردو زبان و ادب میں ماسٹرز کی ڈگری ان کے تعلیمی سفر کی پانچویں پوسٹ گریجویشن سند ہے مزید یہ کہ وہ ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن میں بھی پہلے سال کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں تاہم وقت کی قلت کے باعث فی الحال ان کے سمسٹرز روک دیے گئے ہیں ایک ایسے شخص کے لیے جو سیاسی میدان میں سرگرم رہا ہو اسمبلی کی کارروائیوں عوامی مسائل حلقے کی ضروریات اور تنظیمی ذمہ داریوں میں وقت صرف کرتا ہو تعلیم کے ساتھ یہ مسلسل وابستگی یقیناً توجہ طلب ہے بالخصوص ایسے ماحول میں جہاں سیاست دانوں کی کامیابی کا پیمانہ اکثر جلسوں، نعروں، عہدوں اور انتخابی نتائج تک محدود ہو جاتا ہے وہاں علم کے حصول کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھنا ایک مختلف طرزِ فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔
کاظم میثم صاحب کی سرگرمیاں صرف ڈگریوں کے حصول تک محدود نہیں بتائی جاتیں بلکہ وہ تحقیق کے میدان میں بھی کام کر چکے ہیں ان کے متعدد تحقیقی مقالوں کی بین الاقوامی جرائد میں اشاعت کا ذکر بھی سامنے آیا ہے گزشتہ برس ان کا ایک تحقیقی مقالہ مبینہ طور پر ڈبلیو کیٹیگری کے ایک بین الاقوامی جریدے میں شائع ہوا جسے ان کی علمی سرگرمیوں میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا تحقیق کا میدان محض معلومات جمع کرنے کا نام نہیں یہ سوال اٹھانے شواہد پرکھنے دلائل ترتیب دینے اور کسی نتیجے تک پہنچنے کی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے اگر یہی تحقیقی مزاج سیاست میں بھی بروئے کار آئے تو عوامی مسائل کو جذباتی نعروں کے بجائے حقائق، اعداد و شمار اور قابلِ عمل تجاویز کی روشنی میں سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے تاہم کسی سیاست دان کی علمی قابلیت کا حقیقی فائدہ اسی وقت سامنے آتا ہے جب اس کا اثر قانون سازی پالیسی سازی اور عوامی مسائل کے حل میں بھی دکھائی دے۔
ڈگریاں اعزاز ہیں، مگر اصل امتحان عوامی خدمت ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال بھی اہم ہے کیا کسی سیاست دان کی کامیابی صرف اس کی تعلیمی اسناد سے ناپی جا سکتی ہے؟ یقیناً نہیں ڈگریاں انسان کی علمی محنت کا اعتراف ہوتی ہیں لیکن عوامی نمائندے کی اصل پہچان اس کی کارکردگی دیانت فیصلہ سازی اور عوام کے ساتھ وفاداری سے بنتی ہے کاظم میثم کے تعلیمی سفر کو سراہتے ہوئے ان کی سیاسی کارکردگی اور حلقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی اسی تناظر میں لیا جانا چاہیے دستیاب معلومات کے مطابق ان کے حلقے میں شغرتھنگ پاور پروجیکٹ، شغرتھنگ روڈ اور گرلز ڈگری کالج جیسے منصوبے اہمیت رکھتے ہیں ان منصوبوں کی تکمیل، فعالیت، شفافیت اور عوام کو حاصل ہونے والے فوائد ہی ان کی افادیت کا حقیقی پیمانہ ہیں خصوصاً گرلز ڈگری کالج کا قیام اور اس کا فعال ہونا خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے ایسے ادارے کسی بھی علاقے میں بچیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی آسان بنانے والدین کے اعتماد میں اضافہ کرنے اور سماجی ترقی کی راہیں کھولنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح توانائی اور سڑکوں کے منصوبے بھی محض تعمیراتی سرگرمیاں نہیں ہوتے ان کا اصل مقصد مقامی آبادی کی زندگی آسان بنانا معاشی مواقع پیدا کرنا اور دور افتادہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے سے جوڑنا ہوتا ہے ان منصوبوں کی لاگت اور پیش رفت سے متعلق اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق کے ساتھ ان کے حقیقی ثمرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
نوجوان سیاست دانوں کے لیے ایک پیغام
گلگت بلتستان جیسے خطے میں جہاں تعلیم، روزگار، بنیادی سہولتوں اور ترقیاتی مواقع کی ضرورت مسلسل محسوس کی جاتی ہے وہاں سیاست دانوں کا علم سے رشتہ مضبوط ہونا خوش آئند ہے اسمبلی کے ایوان میں بیٹھنے والا شخص اگر کتاب، تحقیق اور مطالعے سے بھی اپنا تعلق قائم رکھے تو یہ اس کی انفرادی کامیابی کے ساتھ ساتھ سیاسی ماحول کے لیے بھی ایک مثبت مثال بن سکتی ہے کاظم میثم کی نئی تعلیمی کامیابی نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ سیکھنے کا عمل کسی خاص عمر، عہدے یا پیشے کا پابند نہیں انسان چاہے سیاست میں ہو صحافت میں تجارت میں یا کسی اور شعبے میں علم کے دروازے اس کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنی مصروفیات کے باوجود سیکھنے کی خواہش کو زندہ رکھے۔
کاظم میثم کو اردو زبان و ادب میں فرسٹ ڈویژن کے ساتھ ماسٹرز کی ڈگری مکمل کرنے پر مبارک باد پیش خدمت ہے ان کا تعلیمی سفر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سیاست اور علم ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں لیکن یاد رہے ڈگری انسان کے نام کے ساتھ ایک نیا عنوان ضرور جوڑتی ہے جبکہ علم اس کے کردار سوچ اور فیصلوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے سیاست دان کی اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب کتاب سے حاصل ہونے والی۔بصیرت عوام کے مسائل حل کرنے محروم طبقات کو ان کا حق دلانے اور معاشرے میں انصاف و ترقی کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بنے کاظم میثم کی تعلیمی کامیابی قابلِ تحسین ہے اب اس کامیابی کا سب سے خوب صورت اظہار یہ ہوگا کہ علم کی روشنی ان کی سیاسی بصیرت عوامی خدمت اور گلگت بلتستان کی محرومیوں کے خاتمے میں بھی نمایاں نظر آئے کیونکہ ڈگریاں انسان کو تعلیم یافتہ بناتی ہیں مگر علم کا حقیقی کمال انسان کو معاشرے کے لیے مفید بنانا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *