Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مدارس کو رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، مولانا عبدالواسع’جے یو آئی سینیٹر کے گھر پر 40 افراد کا حملہ، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا‘الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات روکنے کافیصلہماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، نسیم الرحمٰن خان ملاخیلنوڈیرو میں پولیس کے مبینہ ناروا رویے اور امن و امان کی صورتحال کے خلاف 6 نومبر کو احتجاج کا اعلانسیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تکوڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سےدینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریمدارس کو رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، مولانا عبدالواسع’جے یو آئی سینیٹر کے گھر پر 40 افراد کا حملہ، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا‘الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات روکنے کافیصلہماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، نسیم الرحمٰن خان ملاخیلنوڈیرو میں پولیس کے مبینہ ناروا رویے اور امن و امان کی صورتحال کے خلاف 6 نومبر کو احتجاج کا اعلانسیاست کے ایوان سے علم و تحقیق کی دنیا تکوڑانگی لونی کو دانت توڑ جواب یورپ کے فیشن کے مؤجدین کی جانب سےدینی مدارس ہماری دینی، ملی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں، انہیں کسی دباؤ یا سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

’جے یو آئی سینیٹر کے گھر پر 40 افراد کا حملہ، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا‘

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اپنے گھر پر تقریباً 40 نامعلوم افراد کے حملے اور اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کے واقعے پر سینیٹ کی استحقاق کمیٹی میں تحریکِ استحقاق جمع کرا دی۔

تحریکِ استحقاق کے مطابق 4 نومبر کو تقریباً 40 افراد نے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر کا گھیراؤ کیا، مرکزی دروازے پر لاتیں ماریں اور دیواروں پر چڑھ کر گھر کے اندر کی تصاویر بنائیں۔ اس دوران گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو بھی ہراساں کیا گیا۔

کامران مرتضیٰ کے مطابق شور شرابے پر محلے کے افراد جمع ہوگئے جبکہ بعض طلبہ نے اپنے موبائل فون سے واقعے کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے انہیں روک دیا۔

تحریک میں مزید کہا گیا ہے کہ نامعلوم افراد نے ان کے آبائی گھر کو بھی گھیرے میں لے کر دروازوں پر دستک دینے کے بجائے لاتیں ماریں اور چھت پر چڑھ گئے۔ اس وقت گھر میں ان کے چھوٹے بھائی عدنان، خواتین اور بچے موجود تھے۔

سینیٹر کے مطابق جب ان کے بھائی نے مذکورہ افراد سے شناخت اور گھر آنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے اپنی شناخت بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کہنے پر آئے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے کے بعد یہ افراد وہاں سے چلے گئے۔

کامران مرتضیٰ نے تحریکِ استحقاق میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سینیٹ کے رکن اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہونے کے باوجود ان کے گھر پر ایسا واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک متعلقہ کمیٹی کو بھجوائی جائے تاکہ واقعے کا جائزہ لے کر رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *