Banner
Daily Sahafat Quetta
September 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں جناح پیپلز ٹرین کا افتتاح، سریاب سے کچلاک تک سروس شروعصوبائی وزیر تعلیم کا گرلز ڈگری کالج کواری روڈ کا دورہخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی لہر، صوبائی حکومت کی گورننس پر سنگین سوالاتملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی آڈٹ رپورٹ؛ 86 لوڈر رکشوں میں 48 ہزار لیٹر پیٹرول کے استعمال کا انکشافوطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے1945 کے بعد عالمی اثر و رسوخ: طاقت، قرض اور اداروں کا نظام۔قسط1گورنر راج لگانے کیلئے جتنے عناصر درکار ہوتے ہیں وہ کے پی حکومت مہیا کر چکی، اختیار ولیگیس صارفین کیلئے بڑی خبر، یکساں ٹیرف لانے کا فیصلہسول اور فوجداری مقدمات بیک وقت چل سکتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکتہ طے کر دیاافغان سرزمین سے دہشتگردی کی ہر کوشش کا جواب دیا جائے گا، وزیر اطلاعاتکوئٹہ میں جناح پیپلز ٹرین کا افتتاح، سریاب سے کچلاک تک سروس شروعصوبائی وزیر تعلیم کا گرلز ڈگری کالج کواری روڈ کا دورہخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی لہر، صوبائی حکومت کی گورننس پر سنگین سوالاتملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی آڈٹ رپورٹ؛ 86 لوڈر رکشوں میں 48 ہزار لیٹر پیٹرول کے استعمال کا انکشافوطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے1945 کے بعد عالمی اثر و رسوخ: طاقت، قرض اور اداروں کا نظام۔قسط1گورنر راج لگانے کیلئے جتنے عناصر درکار ہوتے ہیں وہ کے پی حکومت مہیا کر چکی، اختیار ولیگیس صارفین کیلئے بڑی خبر، یکساں ٹیرف لانے کا فیصلہسول اور فوجداری مقدمات بیک وقت چل سکتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکتہ طے کر دیاافغان سرزمین سے دہشتگردی کی ہر کوشش کا جواب دیا جائے گا، وزیر اطلاعات

1945 کے بعد عالمی اثر و رسوخ: طاقت، قرض اور اداروں کا نظام۔قسط1

1945 کے بعد عالمی اثر و رسوخ: طاقت، قرض اور اداروں کا نظام۔قسط1

محترم قارئین، دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ، سوویت یونین اور ریاستوں نے عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے نظام پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ اسی پس منظر میں یہ دعویٰ سامنے آتا ہے کہ امریکہ نے فوج، سیاسی اشرافیہ، عالمی مالیاتی اداروں اور شہری قرضوں کے ذریعے پوری دنیا پر غیر اعلانیہ تسلط قائم کیا۔ اس دعوے میں بعض تاریخی واقعات موجود ہیں، لیکن اسے ثابت شدہ عالمی منصوبہ قرار دینا درست نہیں۔ زیادہ محتاط تصویر یہ ہے کہ طاقت، مفادات اور مقامی فیصلوں نے ایک پیچیدہ اور باہم مربوط عالمی نظام تشکیل دیا۔فوجی طاقت ایک پہلو رہی۔ سرد جنگ کے ابتدائی برسوں میں امریکہ نے ترکی، پاکستان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کو فوجی تربیت، سازوسامان اور دفاعی معاونت دی۔ امریکی تاریخی دستاویزات سے ثابت ہے کہ ترکی کے لیے 1947 میں فوجی جدیدکاری اور تربیتی پروگرام شروع ہوا، جبکہ پاکستان کو بھی 1950 کی دہائی میں فوجی امداد ملی۔ ان اقدامات کا سرکاری جواز سوویت دباؤ، علاقائی دفاع اور اتحادی سلامتی تھا؛ یہ کہنا کہ ہر ملک کی فوج بنیادی طور پر اپنی عوام کو قابو کرنے کے لیے بنائی گئی، تاریخی شواہد سے عمومی طور پر ثابت نہیں ہوتا۔ البتہ بعض ممالک میں فوج کا سیاسی کردار اور فوجی حکومتوں کا قیام الگ حقیقت ہے۔یہ تصور بھی قابلِ احتیاط ہے کہ ہر ملک میں ایک ہزار یا تین ہزار سیاسی افراد کا کوئی خفیہ عالمی نیٹ ورک حکومتیں چلاتا ہے۔ سیاسی خاندان، کاروباری مفادات، بیوروکریسی اور بااثر طبقات ضرور موجود ہیں، مگر انہیں ایک واحد عالمی منصوبے کے تحت کام کرنے والا گروہ قرار دینے کے لیے ثبوت درکار ہیں۔ سیاسی اثر و رسوخ کا بہتر مطالعہ انتخابات، قانون سازی، مالی اعانت اور ادارہ جاتی طاقت کے شواہد سے کیا جاتا ہے۔
آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے کردار پر بحث دستاویزی بنیاد رکھتی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق قرض پروگراموں کے ساتھ معاشی پالیسیوں میں تبدیلی کی شرائط منسلک ہوسکتی ہیں، جن میں مالیاتی نظم، قرض کی حدود، ٹیکس، سرکاری اخراجات اور ادارہ جاتی اصلاحات شامل ہیں۔ بیرونی قرض لینے والے ممالک کو بعض پالیسی شرائط قبول کرنا پڑتی ہیں۔ تاہم یہ کہنا کہ ان اداروں کا مقصد لازماً کرپٹ حکمرانوں کی عیاشیوں کے لیے رقم فراہم کرنا ہے، ان کے مینڈیٹ اور پروگرام دستاویزات سے ثابت نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف کے موجودہ ریکارڈ کے مطابق مارچ 2026 تک پاکستان کے 25 انتظامات ہوچکے ہیں اور 1980 کی دہائی کے اواخر سے پروگراموں پر انحصار ایک معروف حقیقت ہے۔ اس لیے 23 پروگراموں اور 120 ارب ڈالر کا دعویٰ سرکاری اعدادوشمار کے بغیر درست نہیں۔پاکستان کے پروگرام کے بارے میں آئی ایم ایف نے 2025 میں واضح کیا کہ پروگرام کی رقوم مرکزی بینک کے ذخائر میں رہتی ہیں اور براہِ راست بجٹ کی مالی اعانت کے لیے حکومت کو منتقل نہیں کی جاتیں۔ اس لیے ہر آئی ایم ایف قرض کو حکمرانوں کی عیاشی یا اسلحہ خریدنے سے جوڑ دینا درست مالیاتی تصویر نہیں۔ یہ بھی درست نہیں کہ بیرونی مالیاتی اداروں کا سرمایہ ترقیاتی منصوبوں تک نہیں پہنچتا؛ آئی ایم ایف بنیادی طور پر ادائیگیوں کے توازن کے لیے قرض دیتا ہے، جبکہ دیگر اداروں کا ترقیاتی کردار مختلف ہے۔
شہری قرضوں کا پھیلاؤ جدید معیشت کا مسئلہ ہے، مگر اسے عالمی غلامی کے واحد منصوبے کا ثبوت کہنا مناسب نہیں۔ کریڈٹ کارڈ، ہاؤسنگ فنانس اور کار فنانس سہولت دیتے ہیں، لیکن بلند شرحِ سود، غیر ذمہ دارانہ قرض گیری اور آمدنی میں عدمِ استحکام گھریلو مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ گھریلو قرض اہم معاشی موضوع ہے، مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ شہری صرف قرض کی وجہ سے سیاسی مزاحمت سے گریز کرتے ہیں۔عالمی نظام کو سمجھنے کے لیے کسی ایک خفیہ منصوبے کے بجائے طاقت کے متعدد مراکز کا مطالعہ ضروری ہے۔ امریکہ کی فوجی، مالیاتی، تکنیکی اور سفارتی طاقت نے عالمی اداروں پر گہرا اثر ڈالا، لیکن چین، روس، یورپ، جاپان، علاقائی طاقتوں اور ریاستوں کے مفادات بھی نظام کو تشکیل دیتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کیسے تقسیم ہوتی ہے، قرض کی شرائط معیشتوں پر کیا اثر ڈالتی ہیں، اشرافیہ کیسے جواب دہ بنتی ہے، اور ریاستیں خودمختاری کیسے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ اس بحث کا مضبوط راستہ جذباتی دعووں کے بجائے سرکاری دستاویزات، اعدادوشمار اور قابلِ تصدیق شواہد ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *