Banner
Daily Sahafat Quetta
September 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں جناح پیپلز ٹرین کا افتتاح، سریاب سے کچلاک تک سروس شروعصوبائی وزیر تعلیم کا گرلز ڈگری کالج کواری روڈ کا دورہخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی لہر، صوبائی حکومت کی گورننس پر سنگین سوالاتملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی آڈٹ رپورٹ؛ 86 لوڈر رکشوں میں 48 ہزار لیٹر پیٹرول کے استعمال کا انکشافوطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے1945 کے بعد عالمی اثر و رسوخ: طاقت، قرض اور اداروں کا نظام۔قسط1گورنر راج لگانے کیلئے جتنے عناصر درکار ہوتے ہیں وہ کے پی حکومت مہیا کر چکی، اختیار ولیگیس صارفین کیلئے بڑی خبر، یکساں ٹیرف لانے کا فیصلہسول اور فوجداری مقدمات بیک وقت چل سکتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکتہ طے کر دیاافغان سرزمین سے دہشتگردی کی ہر کوشش کا جواب دیا جائے گا، وزیر اطلاعاتکوئٹہ میں جناح پیپلز ٹرین کا افتتاح، سریاب سے کچلاک تک سروس شروعصوبائی وزیر تعلیم کا گرلز ڈگری کالج کواری روڈ کا دورہخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی لہر، صوبائی حکومت کی گورننس پر سنگین سوالاتملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی آڈٹ رپورٹ؛ 86 لوڈر رکشوں میں 48 ہزار لیٹر پیٹرول کے استعمال کا انکشافوطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے1945 کے بعد عالمی اثر و رسوخ: طاقت، قرض اور اداروں کا نظام۔قسط1گورنر راج لگانے کیلئے جتنے عناصر درکار ہوتے ہیں وہ کے پی حکومت مہیا کر چکی، اختیار ولیگیس صارفین کیلئے بڑی خبر، یکساں ٹیرف لانے کا فیصلہسول اور فوجداری مقدمات بیک وقت چل سکتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکتہ طے کر دیاافغان سرزمین سے دہشتگردی کی ہر کوشش کا جواب دیا جائے گا، وزیر اطلاعات

وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے

محمدنسیم رنزوریار

وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے

قارئین کرام، وطن سے محبت محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ یہ انسان کی فطرت، اس کی غیرت، اس کی شناخت اور اس کے ایمان کی کسوٹی ہے۔ انسان جس مٹی میں آنکھ کھولتا ہے، جس ہوا میں سانس لیتا ہے، جس زمین پر اس کے آباؤ اجداد نے پسینہ بہایا اور قربانیاں دیں، اس سے لاتعلقی دراصل اپنی جڑوں سے انکار کے مترادف ہے۔ اسلام نے اس فطری محبت کو نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ اسے ایمان کی حرارت اور عبادت کی روح سے جوڑ دیا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سچا مومن کبھی اپنے وطن کا غدار، اس کا سوداگر یا اس سے بے وفائی کرنے والا نہیں ہو سکتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے اپنی دھرتی سے محبت کو ایمان بنایا وہ سربلند ہوئیں اور جنہوں نے اسے فراموش کیا وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں تو ہجرت کا واقعہ اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما رہے تھے تو بار بار مڑ کر مکہ کی طرف دیکھتے اور فرماتے اے مکہ تو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اگر میری قوم نے مجھے نہ نکالا ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چھوڑتا۔ یہ آنسو، یہ تڑپ، یہ محبت اس بات کا ثبوت ہے کہ اپنے وطن سے محبت کرنا سنت نبوی ہے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے وہاں کی مٹی سے ایسی محبت کی کہ اسے امن کا گہوارہ بنا دیا۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے مہاجرین و انصار کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ اسلامی تاریخ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی مثال لازوال ہے جنہوں نے بیت المقدس کی آزادی کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور وطن کی حرمت کے لیے صلیبیوں کے خلاف مسلسل جہاد کیا۔ برصغیر میں ٹیپو سلطان شہید نے انگریز سامراج کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا اور فرمایا تھا کہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ یہی وطن سے محبت کا وہ ایمانی جذبہ تھا جس نے انہیں شہادت کے رتبے پر فائز کیا۔ 1857 کی جنگ آزادی میں ہمارے علماء، صوفیاء اور عوام نے اسی جذبے کے تحت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ قیام پاکستان کی تاریخ بھی اسی محبت کی عظیم داستان ہے۔ لاکھوں مسلمانوں نے اپنے گھر بار، جائیدادیں اور جانیں قربان کر دیں تاکہ ایک ایسی مملکت حاصل ہو جہاں وہ آزادانہ اپنے دین پر عمل کر سکیں۔ یہ قربانی کسی لالچ کے لیے نہیں بلکہ وطن سے عشق کا نتیجہ تھی۔ آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو وطن سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کی سرحدوں کی حفاظت کریں، اس کے قانون کا احترام کریں، اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک ڈاکٹر جب ایمانداری سے مریض کا علاج کرتا ہے، ایک استاد جب اخلاص سے بچوں کو پڑھاتا ہے، ایک سپاہی جب سردی گرمی میں سرحد پر پہرہ دیتا ہے، ایک کسان جب محنت سے فصل اگاتا ہے، ایک طالب علم جب دل لگا کر تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ دراصل وطن سے محبت کا حق ادا کر رہا ہوتا ہےبدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اسی وطن کی مٹی سے رزق کھا کر اسی کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ وہ بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بن کر اپنے ہی ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹنا نہ صرف غداری ہے بلکہ ایمان کی کمزوری بھی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے وطن سے نکالے جانے کو قتل کے برابر قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اور اگر ہم ان پر فرض کر دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو بہت کم لوگ اس پر عمل کرتے۔ اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنا گھر اور وطن چھوڑنا کتنا کٹھن اور تکلیف دہ عمل ہے۔ اس لیے وطن کی قدر ان سے پوچھیں جو ہجرت کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں، جو بے وطن ہیں۔ ایک سچے محب وطن کی پہچان یہ ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے ملک کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ وہ مہنگائی، بے روزگاری یا سیاسی انتشار کا رونا رو کر ملک سے فرار نہیں ہوتا بلکہ انہی حالات میں رہ کر اسے بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کرپشن نہیں کرتا، وہ ملاوٹ نہیں کرتا، وہ ٹیکس چوری نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سب وطن سے خیانت ہے۔ وطن سے محبت کا سب سے بڑا مظہر اتحاد اور اتفاق ہے۔ جب قوم لسانیت، قومیت اور فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر ایک پرچم تلے جمع ہوتی ہے تو دشمن کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوتی۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے جسے دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، وطن سے محبت آکسیجن کی مانند ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کے دلوں میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرنا ہوگا کہ یہ وطن لاکھوں شہیدوں کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔ یہ صرف فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا دینی، اخلاقی اور ایمانی فریضہ ہے۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ وطن کی مٹی گواہ رہنا، ہم نے اس سے وفا کی ہے اور آخری سانس تک کرتے رہیں گے۔ یہ محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، ہماری پہچان ہے اور ہماری بقا کی ضمانت ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *