Banner

مہنگائی کے طوفان میں ڈوبتی زندگی

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

مہنگائی کے طوفان میں ڈوبتی زندگی

قارئین کرام! مہنگائی کا طوفان اس وقت پاکستان کے ہر گھر کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے بلکہ یوں کہنا بجا ہوگا کہ یہ طوفان اب گھروں کے اندر داخل ہو کر غریب اور متوسط طبقے کی خوشیوں کو بہا کر لے گیا ہے، ملک کی معاشی صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں ایک عام انسان کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں رہا، وفاقی سطح پر معاشی پالیسیوں کا عدم تسلسل اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہ راست عوام کی جیب پر اثر انداز ہو رہا ہے، ڈالر کی اڑان نے جہاں صنعتوں کو تالے لگوائے وہیں درآمدی اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ گئے جس کا سارا بوجھ بلاآخر اس غریب کسان اور مزدور پر پڑا جو پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھا، ملکی معیشت کی بدحالی نے عام آدمی کو ذہنی مریض بنا دیا ہے کیونکہ جب آمدن کم اور اخراجات ہمالیہ جیسے بلند ہوں تو انسانی اعصاب جواب دے جاتے ہیں، صوبائی سطح پر بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے، چاروں صوبوں میں انتظامی گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، ہر صوبے کی اپنی الگ مجبوریاں ہیں لیکن درد مشترک ہے، پنجاب کے میدانی علاقوں سے لے کر بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑوں تک ہر جگہ آٹے کے ٹرکوں کے پیچھے بھاگتی زندگی تماشہ بن کر رہ گئی ہے، صوبائی حکومتیں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے منڈیوں میں نرخ نامے محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گئے ہیں، غریب عوام جو کبھی سبزی اور دال کو غنیمت جانتے تھے اب ان کی پہنچ سے وہ بھی باہر ہوتی جا رہی ہیں، شہری زندگی کا تو نقشہ ہی بدل گیا ہے، شہروں میں کرایہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے جہاں بجلی کے کمر توڑ بل، گیس کی لوڈ شیڈنگ اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے، وہ والدین جو اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں میں پڑھانے کا خواب دیکھتے تھے اب وہ بچوں کی فیسیں ادا کرنے یا کچن کا راشن پورا کرنے کے درمیان تذبذب کا شکار ہیں، شہروں کی گلیوں میں اب وہ رونق نہیں رہی بلکہ ہر چہرے پر ایک انجانہ خوف اور پریشانی عیاں ہے، چھوٹی دکانیں بند ہو رہی ہیں اور بے روزگاری کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں، غربت کا یہ عالم ہے کہ لوگ اپنے جگر گوشوں کو بیچنے یا خودکشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، یہ صرف اعداد و شمار کی جنگ نہیں بلکہ انسانی المیہ ہے جو بڑی خاموشی سے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے، جب ایک باپ خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے اور بچے امید بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہیں تو اس وقت جو ٹوٹ پھوٹ اس کے اندر ہوتی ہے اسے کوئی معاشی ریلیف پیکج ٹھیک نہیں کر سکتا، مہنگائی کے اس بے رحم طوفان نے سماجی اقدار کو بھی متاثر کیا ہے اور جرائم کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے کیونکہ بھوک جب سر اٹھاتی ہے تو وہ تہذیب کے سارے فلسفے بھول جاتی ہے، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنے وجود کا احساس دلائے اور ان ڈوبتی ہوئی زندگیوں کو سہارا دے ورنہ یہ طوفان سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔

مہنگائی کے طوفان میں ڈوبتی زندگی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us