Banner

ونواہ (مایوں) میں بیٹھی دلہن کا قتل اور سندھی معاشرے کا المیہ

Share

Share This Post

or copy the link


ونواہ (مایوں) میں بیٹھی دلہن کا قتل اور سندھی معاشرے کا المیہ

تحریر: عبدالقیوم جکھرانی

سندھ کی یہ زرخیز اور خوبصورت دھرتی، جو کسی دور میں صوفیائے کرام کے امن، رواداری اور محبت کے پیغامات سے مہکتی تھی، آج کل معصوم بیٹیوں کے خون سے لال ہو رہی ہے۔ آئے دن سندھ کے کسی نہ کسی کونے سے بے قصور عورتوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لرزہ خیز واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس دھرتی پر حوا کی بیٹی ہونا ہی سب سے بڑا گناہ بن چکا ہو۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ٹھل کے علاقے میں ایک معصوم لڑکی کی زندگی شادی سے چند گھنٹے قبل ہی وحشی گولیوں کی نذر ہو گئی۔
جس آشیانے سے صبح سویرے نکاح کی روح پرور شہنائیاں گونجنی تھیں، جہاں مہندی کی سحر انگیز خوشبو بکھری ہوئی تھی اور شادی کے سُریلے گیت گائے جا رہے تھے، وہاں سے جب اچانک ایک معصوم لڑکی کا جنازہ اٹھے تو نہ صرف انسان بلکہ انسانیت کی روح بھی کانپ اٹھتی ہے۔ جیکب آباد کے قریب ٹھل کے گاؤں گل خان بنگلانی میں، ونواہ (مایوں) کی پاکیزہ رسم میں بیٹھی لڑکی “جنت خاتون بنگلانی” کا صرف رشتہ نہ دینے کے تنازع پر بے دردی سے قتل، محض ایک فرد کا قتل نہیں ہے۔ یہ ہمارے صدیوں پرانے سماجی اقدار، غیرت کے نام پر بنے جھوٹے معیاروں اور ریاستی قانون کی رٹ کا سرِعام قتلِ عام ہے۔
اس نابرابر معاشرے میں عورت کو آج بھی ایک آزاد انسان کے بجائے، مرد کی انا کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ کتنی تکلیف دہ بات ہے کہ ملزم کی جانب سے رشتہ نہ ملنے کی معمولی بات پر مسلح افراد کو ساتھ لے کر گھر پر قیامت برپا کرنا اور اسی لڑکی کو ہولناک گولیوں کا نشانہ بنانا، جس کے ساتھ وہ کبھی اپنا گھر آباد کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا، یہ کیسی سماجی جہالت ہے؟ یہ کیسی محبت یا غیرت ہے جو رشتے کے ایک انکار کو سیدھا موت کے خونی پروانے میں تبدیل کر دیتی ہے؟ یہاں تو اب رشتوں کا تقاضا بھی بندوق کے زور پر ہونے لگا ہے!

ہمارا معاشرہ آج کل اس قدر بے حسی کا شکار ہو چکا ہے کہ ایسے وحشیانہ واقعات کو محض “رشتے کا تنازع” یا “گھریلو معاملہ” سمجھ کر رفع دفع کر دیا جاتا ہے اور معاملے کی سنگینی کو ہلکا کیا جاتا ہے۔ مگر اصل روح فنا کر دینے والا سوال یہ ہے کہ کسی بھی انسان کو یہ حق آخر کس نے دیا کہ وہ کسی کی چاردیواری میں زبردستی گھسے اور ایک بوڑھی ماں کی گود ہمیشہ کے لیے اجاڑ دے؟
مقتولہ کی بدقسمت ماں کی آنکھوں سے بہتے خون کے آنسو اور اس کی فلک شگاف آہ و پکار، ہمارے پورے نظامِ انصاف پر ایک بہت بڑا اور گہرا سوالیہ نشان ہیں۔ اس پورے معاملے پر پولیس کا یہ روایتی اور سرد بیان کہ “ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں لیکن آخری اطلاعات تک مقدمہ درج نہیں ہو سکا”، ہماری سست رفتاری، قانونی پیچیدگیوں اور انتظامی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے، جو مجرموں کو مزید شہ دیتی ہے۔

اب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے۔ جب تک ہم ایسے ہولناک اور وحشیانہ واقعات کے خلاف بغیر کسی مصلحت کے ایک آواز ہو کر کھڑے نہیں ہوں گے، تب تک ہماری بیٹیاں اپنے ہی گھروں کی دہلیز کے اندر کبھی بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔ آج وقت کی سخت ترین ضرورت یہ ہے کہ مرکزی ملزم اور اس کے تمام سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر ایسی عبرتناک سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص رشتہ نہ ملنے پر کسی معصوم لڑکی کی مایوں کو خون کی ہولی کھیل کر ماتم میں تبدیل کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
ہمارے پسماندہ علاقوں میں ہتھیاروں کی یہ جان لیوا نمائش اور یہ وحشیانہ ذہنیت تب ہی ختم ہو سکتی ہے، جب قانون بغیر کسی سیاسی یا برادری کے فرق کے اپنا مکمل، بے باک اور فوری اثر دکھائے گا۔ ورنہ، ہم اپنی بیٹیوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے اور معاشرہ محض تماشائی بنا دیکھتا رہے گا۔

ونواہ (مایوں) میں بیٹھی دلہن کا قتل اور سندھی معاشرے کا المیہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us