Banner
Daily Sahafat Quetta
August 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
گنداواہ: چہلم حضرت امام حسینؑ کا مرکزی ماتمی جلوس سخت سیکیورٹی میں برآمدبلوچستان کا ایک چہرہ یہ بھی ہےضلع کیچ میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو ترقیاتی فنڈز اور عوامی توقعاتاسٹاک مارکیٹ میں تیزی،امریکی ڈالر مزید سستا ہوگیا4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارفاوورسیز پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت، لندن سے پنجاب کی پہلی ڈیجیٹل اراضی رجسٹری کامیابی سے مکملپاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہکیچ: بالگتر اور تربت میں زرعی واٹر سکیموں کے لیے ٹینڈر جاریامن و امان کے پیش نظر کوئٹہ میں موبائل سروس معطل رہے گی، ضیاء اللہ لانگوتاجر برادری کے تمام جائز تحفظات دور کیے جائیں گے، ضیاءاللہ لانگوگنداواہ: چہلم حضرت امام حسینؑ کا مرکزی ماتمی جلوس سخت سیکیورٹی میں برآمدبلوچستان کا ایک چہرہ یہ بھی ہےضلع کیچ میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو ترقیاتی فنڈز اور عوامی توقعاتاسٹاک مارکیٹ میں تیزی،امریکی ڈالر مزید سستا ہوگیا4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارفاوورسیز پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت، لندن سے پنجاب کی پہلی ڈیجیٹل اراضی رجسٹری کامیابی سے مکملپاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہکیچ: بالگتر اور تربت میں زرعی واٹر سکیموں کے لیے ٹینڈر جاریامن و امان کے پیش نظر کوئٹہ میں موبائل سروس معطل رہے گی، ضیاء اللہ لانگوتاجر برادری کے تمام جائز تحفظات دور کیے جائیں گے، ضیاءاللہ لانگو

پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی (جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی) کا 10واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس اہم اجلاس میں باہمی اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے اور تجارتی روابط مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاک۔ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو جلد حتمی شکل دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں مزید وسعت آئے گی۔

جام کمال خان نے کہا کہ سرحدی لاجسٹکس، کسٹمز اور کارگو نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ناگزیر ہے تاکہ تجارتی عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام اور الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج کے نظام سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔

وفاقی وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا نجی شعبہ تجارت کے فروغ کے لیے تیار ہے، جبکہ حکومتوں کی ذمہ داری سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار، مستحکم اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کرنا ہے، تاکہ تجارتی اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ تجارتی کمیٹی کا 10واں اجلاس قابلِ عمل روڈ میپ مرتب کرے گا، جس کے ذریعے پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں مدد ملے گی

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *