Banner

نامور شخصیات عزم، علم ، حلم اور خدمت کی علامتیں

Share

Share This Post

or copy the link

نامور شخصیات عزم، علم ، حلم اور خدمت کی علامتیں
تحریر، شکیل گوندل

پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، یہ ان عظیم ہستیوں کا مجموعہ ہے جنہوں نے اپنی محنت، قربانی اور صلاحیت سے اس وطن کو دنیا میں پہچان دی۔ سیاست، سائنس، کھیل، ادب اور خدمت خلق کے ہر میدان میں پاکستانیوں نے لوہا منوایا ہے۔ پاکستان کے وہ نامور لوگ جنہوں نے پاکستان کا نام روشن کیا اور ان کے کارہائے نمایاں اتنے نمایاں ہیں کہ پوری دنیا انہیں جانتی ہے ، ان نامور لوگوں بانی پاکستان کا اسمِ گرامی سرِ فہرست آتا ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح۔
معمارِ پاکستان
“بابائے قوم” جنہوں نے قانون کی ڈگری، عیش و عشرت سب چھوڑ کر مسلمانوں کے لیئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا۔ 14 اگست 1947 کو انہوں نے کہا: “آپ آزاد ہیں۔ آپ اپنی عبادت گاہوں میں آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، ریاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں”۔ ان کا وژن “ایمان، اتحاد، نظم” آج بھی ہمارا قومی نصب العین ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان محسنِ پاکستان ، مختار مسعود نے کہا تھا محسن دوسروں کے لیئے زندہ رہتا ہے اور شہید دوسروں کے لیئے جان دے دیتا ہے ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج بھی زندہ ہیں اور صبحِ قیامت تک زندہ رہیں گے ۔ ڈاکٹر قدیر یورینیم افزودگی کے ماہر جنہوں نے مغرب کی پابندیوں کے باوجود پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔ 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں دھماکے کر کے انہوں نے دنیا کو پیغام دیا کہ “پاکستان ناقابلِ تسخیر ہے”۔ عوام انہیں “محسنِ پاکستان” کہتے ہیں۔ ان کا جملہ مشہور ہے: “علم وہ ہتھیار ہے جو قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے”۔ ڈاکٹر غلام نبی آج پاکستانی قوم کا وقار ہیں وہ بھی پاکستان کی نامور شخصیات میں آتے ہیں ۔

عبدالستار ایدھی انسانیت کے خدمت گار
1951 میں کراچی کی ایک گلی سے 5000 روپے اور ایک ایمبولینس سے کام شروع کیا۔ آج ایدھی فاؤنڈیشن دنیا کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ہے: 1800 ایمبولینس، یتیم خانے، لاوارثوں کی تدفین، فری شیلٹر۔ انہوں نے کبھی فرقہ، مذہب، رنگ نہیں دیکھا۔ بل گیٹس نے کہا: “ایدھی صاحب انسانیت کے استاد تھے”۔ ان کی بیوی بلقیس ایدھی کے ساتھ مل کر لاکھوں بے سہارا بچوں کو “جھولا” دیا ۔ ملالہ یوسفزئی – تعلیم کی آواز
سوات کی 11 سالہ بچی نے بی سی کے لیئے ڈائری لکھی: “طالبان کے سائے میں زندگی”۔ 2012 میں تعلیم مانگنے پر گولی لگی، لیکن وہ خاموش نہ ہوئی۔ 2014 میں 17 سال کی عمر میں نوبل امن انعام لے کر دنیا کی کم عمر ترین نوبل لاریئٹ بنی۔ اقوام متحدہ میں تقریر کی: “ایک بچہ، ایک استاد، ایک کتاب اور ایک قلم دنیا بدل سکتے ہیں”۔

جہانگیر خان اسکواش کا بادشاہ1981 سے 1986 تک مسلسل 555 میچ جیت کر گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔ 10 بار برٹش اوپن، 6 بار ورلڈ اوپن جیتا۔ ورلڈ اسکواش فیڈریشن نے انہیں “20ویں صدی کا بہترین کھلاڑی” قرار دیا۔ ان کی محنت نے پاکستان کو 30 سال تک اسکواش کا بادشاہ بنائے رکھا۔
نصرت فتح علی خان شہنشاہِ قوالی۔
ان کی آواز میں روح کو چھو لینے والی تاثیر تھی۔ “دامن میں آگ لگا دی”، “تنہا تنہا”، “اللہ ہو اللہ ہو” – یہ کلام آج بھی پوری دنیا میں سنے جاتے ہیں۔ انہوں نے صوفی کلام کو مغربی موسیقی سے جوڑ کر پاکستان کا روحانی چہرہ دنیا کو دکھایا۔ مائیکل جیکسن سے لے کر جیف بکلی تک، سب ان کے مداح تھے۔ عاصمہ جہانگیر – حق کی وکیل
پاکستان کی پہلی خاتون سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر۔ ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف جیل کاٹی۔ اقلیتوں، عورتوں، مزدوروں کے حقوق کے لیئے ہمیشہ عدالت میں کھڑی رہیں۔ اقوام متحدہ نے انہیں “آزادی اظہار رائے کی خصوصی نمائندہ” مقرر کیا۔ ان کا قول تھا: _”ڈر کے جینا، جینا نہیں ہے”
عجوبہ ء روزگار معالج ڈاکٹر وقار احمد نیاز جن کے دستِ شفا سے گردوں کے ہزاروں مریض صحت یاب ہوئے ۔ گردوں کی صفائی کے دس مرکز جہاں تیس کروڑ روپے مالیت کی گردوں کی صفائی کی مشینیں لگی ہوئی ہے ۔ حکومت کے بعد سب سے بڑا ادارہ رحمٰن فاؤنڈیشن ہے ۔ جس کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز ہیں آپ نے ایک مشین سے کام شروع کیا تھا۔

سینٹر عرفان صدیقی مرحوم کی ادبی خدمات اور ان کی نگارشات قاری کی روح کو تسکین اور شوق کو تحریک دیتی ہیں ۔ الطاف حسن قریشی مرحوم جن کی صحافتی خدمات کو صبح قیامت تک فراموش نہیں کیا جا سکتا ،ان کا قلم ایک نظریاتی قلم اور ان کی فکر پاکستان کی پہچان تھی ۔۔

محسن جگنو ، ڈاکٹر عامر رفیق اور کرنل اشفاق احمد وہ لوگ ہیں جو عمر نہیں گزار رہے ، زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ عمر سو کر گزر جاتی ہے ۔ زندگی جاگ کر گزارنی پڑتی ہے ۔

ان سب ہستیوں میں 3 باتیں مشترک تھیں اور جو زندہ ہیں ان میں بھی بدرجہ آتم موجود ہیں ۔

1. بڑا خواب انہوں نے اپنی ذات سے اوپر سوچا ، قوم، انسانیت، حق
2. مصائب سے بغاوت، جیل، گولی، غربت، پابندی – کچھ بھی انہیں نہ روک سکا3. عمل کی طاقت انہوں نے صرف تقریریں ہی نہیں کیں وہ میدانِ عمل میں اترے اور قول پر نہیں چلے عمل کے بندے قرار پائے ۔

اقبال نے سچ کہا تھا:
_”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں”_

پاکستان کے پاس معدنیات، دریا، پہاڑ تو ہیں ہی، لیکن اصل خزانہ یہ دیدہ ور ہیں۔ اگر ہر نوجوان ان سے سبق لے کر اپنی فیلڈ میں “نمبر 1” بننے کی ٹھان لے، تو ان شاءاللہ پاکستان ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے ہو گا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

نامور شخصیات عزم، علم ، حلم اور خدمت کی علامتیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us