Banner

عدل، نیلام، ضمیرِ گمشدہ

Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

عدل، نیلام، ضمیرِ گمشدہ

قارئین کرام ۔یہ محض الفاظ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے اس المیے کی سچی تصویر ہیں جہاں عالمی بساط پر انسانیت سسک رہی ہے اور انصاف کا جنازہ دھوم دھام سے نکالا جا رہا ہے۔ اگر ہم دنیا کے موجودہ جیو پولیٹیکل منظرنامے پر نظر ڈالیں تو افغانستان، پاکستان، فلسطین، ایران، کشمیر اور پشتون قوم کے ساتھ ہونے والا سلوک کسی بھی حساس ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے جہاں ایک سوچی سمجھی عالمی حکمتِ عملی کے تحت ان خطوں کو جنگ، عدم استحکام اور معاشی و سماجی جبر کی دلدل میں دھکیلا گیا ہے۔ اس بھیانک کھیل کے پیچھے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا وہ گٹھ جوڑ (چانکیہ اتحاد) کارفرما ہے جو اپنے تزویراتی (strategic) مفادات اور بالادستی کے خواب کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے اور جس نے بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے منشور اور اخلاقیات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔فلسطین اور کشمیر کی صورتحال تو ظلم و ستم کی وہ لرزہ خیز اور عجیب و غریب داستان ہے جہاں اقوامِ متحدہ کی قراردادیں صرف کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ گئی ہیں اور عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار پوری طرح ننگا ہو چکا ہے۔فلسطین میں غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے دہائیوں سے جاری نسل کشی، زمینوں پر ناجائز قبضے اور معصوم بچوں و عورتوں پر وحشیانہ بمباری کو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی کھلی پشت پناہی حاصل ہے جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار بنتے ہیں لیکن جب بات مسلمانوں کے خون کی ہو تو ان کا ضمیر گونگا اور اندھا ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح، وادیِ کشمیر میں بھارت کی ہندوتوا سرکار اور چانکیہ ذہنیت نے لاکھوں کشمیریوں کو اپنے ہی گھروں میں قیدی بنا رکھا ہے جہاں جبر و تشدد، ماورائے عدالت قتل اور ڈیموگرافک تبدیلی کے ذریعے ان کی پہچان مٹانے کی تلخ حقیقت دنیا کے سامنے ہے مگر مصلحتوں کے مارے عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، افغانستان اور پشتون قوم کو جس بے رحمی کے ساتھ جنگ کا ایندھن بنایا گیا وہ تاریخ کا ایک ایسا تلخ باب ہے جس کا خمیازہ نسلیں بھگت رہی ہیں۔ امریکہ نے بیس سال تک “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نام پر افغانستان کو کھنڈر بنایا، وہاں کے وسائل کو تباہ کیا اور پھر رات کے اندھیرے میں اپنی شکست چھپانے کے لیے پورے خطے کو ایک نئے بحران میں چھوڑ کر فرار ہو گیا جس کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑا۔ پشتون قوم، جو اپنی غیرت، مہمان نوازی اور تاریخی شناخت کے لیے جانی جاتی ہے، اس عالمی گریٹ گیم کی وجہ سے دونوں اطراف سرحد پر سب سے زیادہ متاثر ہوئی؛ ان کے گھر بار اجڑ گئے، ان کی ثقافت پر ضرب لگائی گئی اور انہیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ایسے بھیانک لیبل دیے گئے جن کا ان کی اصل تاریخ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ پاکستان کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت معاشی طور پر کمزور کرنے، اندرونی خلفشار پھیلانے اور ہائبرڈ وارفیئر (hybrid warfare) کے ذریعے مفلوج کرنے کی کوششیں کی گئیں تاکہ یہ واحد مسلم ایٹمی طاقت عالمی گٹھ جوڑ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ایران پر دہائیوں سے مسلط کردہ ظالمانہ معاشی پابندیاں بھی اسی جبر کا تسلسل ہیں تاکہ کسی بھی ایسی طاقت کو پنپنے نہ دیا جائے جو مغربی اور صہیونی بالادستی کو چیلنج کرنے کی جرات کرے۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا یہ نیٹ ورک جدید چانکیہ اصولوں یعنی “دام، دند، بھید” (لالچ، سزا، تفرقہ) پر عمل پیرا ہے جہاں وہ مسلم ممالک کے اندرونی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں، میڈیا وارفیئر کے ذریعے ذہنوں کو مفلوج کرتے ہیں اور معاشی محاصرے کر کے غریب عوام کو فاقہ کشی پر مجبور کرتے ہیں۔ سب سے حیران کن اور عجیب حقیقت یہ ہے کہ اس تمام تر ظلم پر عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور خود مسلم امہ کے کئی حکمرانوں کا ضمیر اس حد تک نیلام ہو چکا ہے کہ وہ اپنے تجارتی اور سیاسی مفادات کی خاطر ان مظلوموں کی چیخیں سننے سے قاصر ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس مادی دنیا میں عدل اب بکاؤ مال بن چکا ہے اور ضمیر مکمل طور پر گمشدہ ہو چکا ہے۔

عدل، نیلام، ضمیرِ گمشدہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us