Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جمعیت علماء اسلام شہداء کی جماعت ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبی آئی ایس پی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، بے بنیاد الزامات پر قانونی کارروائی ہوگی: ترجمانایف ایف سی نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے نتائج کا اعلان کر دیاروٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے کرنل نواب علی اور کرنل محمد اسد کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیادریائے سندھ میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ، گڈو پر درمیانے اور سکھر پر نچلے درجے کا سیلاب برقرارسکھر: موٹر وے پر مشترکہ کارروائی، بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد، دو مبینہ اسمگلر گرفتارسردار امیر بخش بھٹو سے انتقال پر چوتھے روز بھی تعزیت کا سلسلہ جاریپانی کے تنازعےپی ایس او سمیت آئل کی بڑی کمپنیوں کا اربوں روپے کا فراڈ پکڑا گیابجلی بلوں پر ٹیکس کی مد میں عوام سے 476 ارب روپے وصولی کا انکشافجمعیت علماء اسلام شہداء کی جماعت ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبی آئی ایس پی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، بے بنیاد الزامات پر قانونی کارروائی ہوگی: ترجمانایف ایف سی نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے نتائج کا اعلان کر دیاروٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے کرنل نواب علی اور کرنل محمد اسد کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیادریائے سندھ میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ، گڈو پر درمیانے اور سکھر پر نچلے درجے کا سیلاب برقرارسکھر: موٹر وے پر مشترکہ کارروائی، بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد، دو مبینہ اسمگلر گرفتارسردار امیر بخش بھٹو سے انتقال پر چوتھے روز بھی تعزیت کا سلسلہ جاریپانی کے تنازعےپی ایس او سمیت آئل کی بڑی کمپنیوں کا اربوں روپے کا فراڈ پکڑا گیابجلی بلوں پر ٹیکس کی مد میں عوام سے 476 ارب روپے وصولی کا انکشاف

پانی کے تنازعے

تحریر خالد سرور کھوسہ
پانی آنے والی نسل کے لئے وبال جان بھی ہیں پانی کے روز با روز بڑھتے تنازعے دنیا کی بربادی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے پانی کو “نیلا سونا” اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ جہاں پانی کم ہوگا وہیں تنازعے زیادہ ہوگے
دنیا میں پانی کے بڑھتے تنازع کو مختلف پہلو سے دیکھا جاتا ہے اگر بات کریں تو کچھ حقائق بھی سامنے آتے ہیں
دریائے سندھ کا نظام جوکہ بلوچستان کے علاقے نصیر آباد جعفرآباد جھل مگسی کے لئے اس وقت بڑے تنازعات پیدا کررہا ہیں سندھ کے علاقے بھی اس وقت پانی کے تنازعے میں ایک دوسرے کی جان و مال کے پیچھے ہیں کچھ معاہدے بلوچستان میں پانی کی بوند بوند کو ترسا گئے ان میں ایک معاہدہ 1960 کا تھا یہ
– معاہدہ بھارت اور کو دریاؤں کے اوپر والے ملک کے طور پہ ڈیمز بنانے کا تھا اس خدشے نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے ان مسائل میں کشمیر کے مشہور و معروف ڈیمز
کشن گنگا اور رتلے ڈیمز ہیں اگرچہ پانی کا زیادہ بھاؤ مصر کی لہروں سے نمایاں ہوتا ہیں
90% پانی نیل سے آتا ہے۔ ڈیم سے پاکستان کی زراعت مزید مستحکم ہوجاتی تھی پر افسوس اس پہ کیسی بھی گورنمنٹ نے عمل نہیں کیا پانی سے روشنیاں بھی بحال ہوتی ہیں پر افسوس صرف پانی کے تنازعے نے ہی دنیا کو آخرت سے واقف کردیا انسانوں کی زندگیاں ہی ختم ہونے کو قریب ہیں دریائے دجلہ و فرات – ترکی، عراق، شام کے تنازعات بھی اس وقت زیر بحث ہیں
ترکی نے GAP منصوبے کے تحت کئی ڈیم بنائے
نیچے والے ملک عراق اور شام شکایت کرتے ہیں کہ پانی اور بہاؤ دونوں کم ہو گئے چین کی حکمت عملی بھی اوپر والے ڈیمز بنانا ہیں لیکن ویتنام تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں ماہی گیری اور زراعت متاثر ہو رہی ہے
اسرائیل، فلسطین، اردن میں بھی پانی کی قلت کا سامنا ہیں اتنی بے حسی ہیں کہ ان ملکوں میں بوند بوند پہ سیاست ہورہی ہیں آخر پانی کے کیوں جنم لے رہے ہیں
2050 تک دنیا کی آبادی 10 ارب ہو جائے گی۔ کھانے کے لیے 50% زیادہ پانی کی ضرورت ہوگی چند اور وجوہات بھی زیر بحث موسمیاتی تبدیلی*: گلیشیئر پگھل رہے ہیں، بارش کا پیٹرن بدل رہا ہے، خشک سالی بڑھ رہی ہے اور جو پانی ہیں وہ بھی پینے کے قابل نہیں ہوگا
*پاکستان اور بلوچستان کا تناظر
ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ سندھ طاس ہےکیچمنٹ ایریا کا بڑا حصہ بھارت اور چین میں ہے
– گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں تو کبھی سیلاب، کبھی پانی کی کمی سیلاب جوکہ بلوچستان کی مکمل تباہی
ماہرین کہتے ہیں کہ 2025 تک پاکستان بالخصوص بلوچستان “واٹر اسٹریس”بن سکتے ہیں
پانی کی منصفانہ تقسیم، مشترکہ ڈیٹا، پانی بچانے والی ٹیکنالوجی، اور ڈرپ اریگیشن ان مسائل کا مکمل حل پر جب سب ممالک یکجہتی پہ عمل کریں تب

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *