Banner
Daily Sahafat Quetta
September 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
شاہراہوں کا کام مکمل ہوتے ہی کوئٹہ کا ٹریفک مسئلہ مستقل حل ہوجائے گا، میر سلیم کھوسہجھل مگسی پنجک روڈ پر فائرنگ، ایک شخص شدید زخمی ہسپتال منتقلمحبتِ اہلبیتؑ اجر رسالتؐ ہے، اعلیٰ دینی اقدار کے فروغ کیلئے عملی جد و جہد جاری رکھیں گے،آغا سید حسین مقدسیمولانا محمد ادریس شہید کی شہادت بڑا نقصان ہے، جے یو آئی بلوچستانخونخوار گٹھ جوڑ، بارود، تجارت اور مظلوموں کی آہ!!!!امریکہ، ایران اور مشرقِ وسطیٰ، جنگ سفارت کاری اور اربوں ڈالر کا کھیلہر دلعزیز شخصیت جناب ذوالفقار احمد چیمہ کے اعزاز میں سلطنتِ عمان کے سابق اعزازی سرمایہ کاری قونصلیٹ جنرل جاوید نواز کی جانب سے ایگزیکٹو کلب پنجاب یونیورسٹی میں پرتکلف عشائیہنیب بلوچستان کی کھلی کچہری 24 ستمبر کو ہوگیخیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 37 دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں اغوا کی لہر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس اہلکاروں سمیت 20 افراد لاپتہشاہراہوں کا کام مکمل ہوتے ہی کوئٹہ کا ٹریفک مسئلہ مستقل حل ہوجائے گا، میر سلیم کھوسہجھل مگسی پنجک روڈ پر فائرنگ، ایک شخص شدید زخمی ہسپتال منتقلمحبتِ اہلبیتؑ اجر رسالتؐ ہے، اعلیٰ دینی اقدار کے فروغ کیلئے عملی جد و جہد جاری رکھیں گے،آغا سید حسین مقدسیمولانا محمد ادریس شہید کی شہادت بڑا نقصان ہے، جے یو آئی بلوچستانخونخوار گٹھ جوڑ، بارود، تجارت اور مظلوموں کی آہ!!!!امریکہ، ایران اور مشرقِ وسطیٰ، جنگ سفارت کاری اور اربوں ڈالر کا کھیلہر دلعزیز شخصیت جناب ذوالفقار احمد چیمہ کے اعزاز میں سلطنتِ عمان کے سابق اعزازی سرمایہ کاری قونصلیٹ جنرل جاوید نواز کی جانب سے ایگزیکٹو کلب پنجاب یونیورسٹی میں پرتکلف عشائیہنیب بلوچستان کی کھلی کچہری 24 ستمبر کو ہوگیخیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 37 دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں اغوا کی لہر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس اہلکاروں سمیت 20 افراد لاپتہ

امریکہ، ایران اور مشرقِ وسطیٰ، جنگ سفارت کاری اور اربوں ڈالر کا کھیل

احمدخان اچکزئی

امریکہ، ایران اور مشرقِ وسطیٰ، جنگ سفارت کاری اور اربوں ڈالر کا کھیل۔

محترم قارئین، ایران جنگ، توانائی کا بحران عالمی سیاست اور معاصر بین الاقوامی تعلقات میں جنگ کو اکثر قومی سلامتی، دفاعی نظریات یا ایٹمی عدم پھیلاؤ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، لیکن گہرے جیو پولیٹیکلی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید دور کے ملٹری آپریشنز اکثر و بیشتر گہرے اقتصادی مقاصد، توانائی پر کنٹرول اور سامراجی مالیاتی مفادات کا احاطہ کرتے ہیں۔ 28 فروری 2026ء کو ایران کے خلاف شروع کیا جانے والا امریکی ملٹری آپریشن “ایپک فیوری” اس کی روشن اور جامع مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس فوجی کارروائی کے پس پردہ اعلان کردہ اسٹریٹجک وجوہات اور اس کے بعد رونما ہونے والے حقیقی نتائج کے درمیان 116 دنوں کا ایک ایسا وقت رہا جس نے عالمی سفارت کاری، توانائی کی مارکیٹ اور جیو اکنامکس کے رخ کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ اگر ان اہم واقعات کی کڑیوں، وقت کی ترجیحات اور نتائج کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سیکورٹی خطرات محض ایک سفارتی بیانیہ تھے، جبکہ اس پوری مہم کے اصل مقاصد توانائی کے بین الاقوامی نقشے، خطے کے سرمائے کی ترسیل اور امریکی صنعت و زراعت کی بالادستی سے جڑے ہوئے تھے۔اس فوجی مہم کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بمباری کا آغاز کسی حتمی ناکامی کے بعد نہیں بلکہ سفارتی کامیابی کے بالکل دہانے پر کیا گیا۔ بمبار طیاروں کی پرواز سے صرف ایک دن پہلے عمانی وزیر خارجہ نے عالمی میڈیا کے سامنے یہ اعلان کیا تھا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے تمام ذخائر کو کم ترین سطح پر لانے، انہیں ایندھن میں تبدیل کرنے اور جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کے انسپکٹرز کو معائنے کی اجازت دینے پر رضامند ہو چکا ہے۔ عمانی حکام کے مطابق امن معاہدہ دست رس میں تھا اور اگلے دور کے حتمی مذاکرات 2 مارچ کو طے تھے، لیکن 28 فروری کو 29 ارب ڈالر کے بموں، کروز میزائلوں اور B2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ جب سفارت کاری کامیاب ہو رہی تھی تو فوجی طاقت کے استعمال میں 48 گھنٹے کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا؟ اس کا جواب 21جون 2026ء کو سوئٹزرلینڈ کے لیک لوسرن میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات اور اس کے بعد امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے سے واضح ہوتا ہے۔سویٹزرلینڈ میں سوئس پہاڑیوں کے پس منظر میں منعقدہ ان اجلاسوں میں، جن کی ثالثی قطر اور پاکستان نے کی اور جس میں اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے کے سربراہ بھی موجود تھے، امریکہ نے ایران پر نافذ تمام اہم معاشی و توانائی پابندیوں میں 60 دن کی جامع چھوٹ جاری کر دی۔ اس سرکاری استثنیٰ کے تحت ایرانی خام تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات، انشورنس، نقل و حمل، اور بینکاری کے تمام راستے فوراً کھول دیے گئے۔ امریکہ نے 29ارب ڈالر دفاعی اخراجات کر کے جس ملک پر بمباری کی، محض چار ماہ کے اندر اسی ملک کے تیل کو دوبارہ عالمی مارکیٹ میں لانے کا راستہ صاف کر دیا۔ اس سے یہ بات بالکل عیاں ہوتی ہے کہ مقاصد جوہری پروگرام کو تباہ کرنا نہیں بلکہ ایک خاص معاشی ڈیل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا تھا۔اس معاشی ماڈل کا اگلا مرحلہ منجمد اثاثوں کے اجراء اور امریکی زرعی معیشت کے ساتھ اس کے انضمام سے متعلق ہے۔ عالمی بینکوں میں ایران کے 100 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے منجمد تھے، جن میں سے6 ارب ڈالر 2019ء سے قطر میں پڑے ہوئے تھے۔ جنگ کے اختتام پر قطر اور ایران کے درمیان ان فنڈز کی منتقلی کا معاہدہ ہوا اور امریکی حکام نے کھلم کھلا اس بات کی وضاحت کی کہ یہ فنڈز “کلاسک ٹرمپ ڈیل” کے تحت امریکی کسانوں کو امیر بنانے اور امریکی مکئی، سویابین اور گندم کی خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوں گے۔ یوں ایران کے اپنے ہی تیل کے پیسوں سے امریکی زراعت کی برآمدات کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچایا گیا۔ فوجی طاقت کے ذریعے شدید دباؤ پیدا کیا گیا، اس دباؤ نے سیاسی سودے بازی پر مجبور کیا، اور اس سودے بازی کے نتیجے میں خطے کی نقد رقم براہ راست امریکی اقتصادی شعبوں میں منتقل کر دی گئی۔مزید ، اگر ہم خطے کے مجموعی تناظر پر نظر ڈالیں تو فوجی آپریشن سے قبل ہی امریکی انتظامیہ نے خلیجی ممالک کے ساتھ تاریخی تجارتی معاہدے طے کر لیے تھے، جن میں سعودی عرب سے 600 ارب ڈالر، قطر سے 1.2 ٹریلین ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے 200ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری شامل تھی۔ جنگ کی آمد نے توانائی کی عالمی قیمتوں کو برباد کیا، خام تیل 146 ڈالر فی بیرل تک پہنچا، اور آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپی و ایشیائی مم…

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *