Banner
Daily Sahafat Quetta
September 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مسافروں کے خلاف کریک ڈاؤن دوسرے روز بھی جاریبی وائی سی رہنما گل زادی کو قتل کیس میں عمر قید کی سزاکوئٹہ میں گوشت مہنگا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی، 8 افراد گرفتارنیب بلوچستان کی کھلی کچہری 24 ستمبر کو ہوگیوزیراعلیٰ بلوچستان کی سینیٹر نصیب اللہ بازئی کے گھر آمد، تعزیت اور فاتحہ خوانیدہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس، کارروائیاں جاری رہیں گی، میر سرفراز بگٹیاوستامحمد میں پولیس کی بڑی کارروائی، جوا کے اڈے پر چھاپہ، متعدد جواری گرفتارجے یو آئی کوئٹہ کی مجلس عمومی کا اجلاس 8 اکتوبر کو ہوگامحکمہ صحت بلوچستان اور یونیورسٹی آف اوسلو کے درمیان ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطبااختیار خواتین، روشن مستقبلمسافروں کے خلاف کریک ڈاؤن دوسرے روز بھی جاریبی وائی سی رہنما گل زادی کو قتل کیس میں عمر قید کی سزاکوئٹہ میں گوشت مہنگا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی، 8 افراد گرفتارنیب بلوچستان کی کھلی کچہری 24 ستمبر کو ہوگیوزیراعلیٰ بلوچستان کی سینیٹر نصیب اللہ بازئی کے گھر آمد، تعزیت اور فاتحہ خوانیدہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس، کارروائیاں جاری رہیں گی، میر سرفراز بگٹیاوستامحمد میں پولیس کی بڑی کارروائی، جوا کے اڈے پر چھاپہ، متعدد جواری گرفتارجے یو آئی کوئٹہ کی مجلس عمومی کا اجلاس 8 اکتوبر کو ہوگامحکمہ صحت بلوچستان اور یونیورسٹی آف اوسلو کے درمیان ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطبااختیار خواتین، روشن مستقبل

بااختیار خواتین، روشن مستقبل

تحریر: محمد فاروق سیوی ڈویژن
کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی کا اندازہ صرف سڑکوں، عمارتوں اور بڑے ترقیاتی منصوبوں سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں معاشرے کے ہر طبقے، خصوصاً خواتین کو آگے بڑھنے، تعلیم حاصل کرنے، اپنے مسائل بیان کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے کتنے مواقع حاصل ہیں۔ ایک عورت کی تعلیم، تربیت اور معاشی خودمختاری دراصل ایک پورے خاندان کی مضبوطی کا ذریعہ بنتی ہے اور یہی مضبوط خاندان آگے چل کر ایک مستحکم، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔ اسی تناظر میں سیوی ڈویژن میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر سامنے آنے والے اقدامات امید افزاءمستقبل کی نشاندہی کرتے ہیں۔سیوی جیسے تاریخی اور وسیع ڈویژن میں خواتین کے لیے مواقع پیدا کرنا اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں ایسی باصلاحیت خواتین موجود ہیں جو مناسب رہنمائی، تعلیم، فنی تربیت اور پلیٹ فارم ملنے کی صورت میں نہ صرف اپنے خاندانوں بلکہ معاشرے اور معیشت میں بھی مو¿ثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو پہچانا جائے اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔اسی سوچ کے تحت سیوی ڈویژن میں قائم کیا گیا “بااختیار وومن سینٹر” ایک قابلِ ذکر اقدام ہے۔ کمشنر سیوی ڈویژن اسد اللہ فیض کی ذاتی دلچسپی اور اپنی مدد آپ کے تحت ڈویژنل پبلک اسکول سیوی میں قائم کیے گئے اس مرکز میں خواتین کے لیے جدید کمپیوٹر لیب سمیت ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ تقریباً 15 کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز، فرنیچر اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا مقصد خواتین کو جدید دور کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ مرکز میں انسٹرکٹرز کی تربیت کے بعد خواتین کو مختلف شعبوں میں مفت تربیت فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔یہ بات قابلِ غور ہے کہ آج کی دنیا میں صرف روایتی تعلیم کافی نہیں رہی۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کمپیوٹر، آن لائن کام، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ اور دیگر جدید مہارتیں روزگار کے نئے دروازے کھول رہی ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ مہارتیں اس لحاظ سے اہم ہیں کہ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ گھر بیٹھے بھی آمدن کے ذرائع پیدا کر سکتی ہیں۔ اس طرح ہنر محض ایک سرٹیفکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ معاشی خودمختاری کا ذریعہ بن جاتا ہے۔یومِ آزادی کے موقع پر بااختیار وومن سینٹر کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے لیے کمشنر سیوی ڈویژن اسد اللہ فیض اور YMSESDO پاکستان کے چیئرمین محمد منیر ابڑو کے درمیان ایک سالہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس تعاون کے تحت مرکز میں مزید جدید کمپیوٹرز اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے مختلف لرننگ اور اسکل ڈویلپمنٹ کورسز شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تربیت حاصل کرنے والی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے بلا سود قرضوں کے مواقع کی فراہمی کی کوشش بھی اس پروگرام کو محض تربیتی منصوبے کے بجائے معاشی خودمختاری کی جانب ایک قدم بناتی ہے۔تاہم خواتین کو بااختیار بنانے کا تصور صرف تعلیم اور روزگار تک محدود نہیں۔ کسی بھی معاشرے میں خواتین کے مسائل کو سننا، انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں جگہ دینا اور سرکاری اداروں تک ان کی براہِ راست رسائی یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اسی سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکریٹری بلوچستان کی ہدایات پر سرکٹ ہاو¿س سیوی میں ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیر صدارت خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد ایک اہم قدم ہے۔اس کھلی کچہری میں خواتین کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کریں، اپنی درخواستیں جمع کرائیں اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق مشکلات کے بارے میں بات کریں۔ ایس ایس پی سبی عبدالحمید، اسسٹنٹ کمشنر سبی عمران مندوخیل، مختلف محکموں کے افسران اور خواتین کی بڑی تعداد کی شرکت نے اس عمل کو مزید مو¿ثر بنایا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعدد قابلِ حل مسائل موقع پر ہی نمٹانے کی ہدایات دیں، جبکہ مستقبل میں بھی ایسی کھلی کچہریوں کے انعقاد کا عندیہ دیا گیا۔خواتین کے لیے ایسی کھلی کچہریاں اس لحاظ سے اہم ہیں کہ بعض اوقات خواتین اپنے مسائل متعلقہ اداروں تک پہنچانے میں مختلف سماجی، جغرافیائی یا انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرتی ہیں۔ جب ضلعی انتظامیہ خود ان کے درمیان پہنچ کر ان کی بات سنتی ہے تو انتظامیہ اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف شکایات کے ازالے میں مدد ملتی ہے بلکہ حکام کو زمینی حقائق اور ان مسائل کا براہِ راست ادراک بھی ہوتا ہے جو عام سرکاری رپورٹس میں پوری طرح سامنے نہیں آ پاتے۔خواتین کے حقوق کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر سیوی کا یہ مو¿قف بھی اہم ہے کہ خواتین کے مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور ان کے جائز حقوق اور ضروریات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ کسی بھی ترقیاتی پالیسی کا اصل مقصد اس وقت پورا ہوتا ہے جب اس کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار اور تحفظ جیسے بنیادی معاملات میں خواتین کی ضروریات کو سامنے رکھنا اسی جامع ترقی کا حصہ ہے۔سیوی ڈویژن میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبوں پر کام بھی اسی وسیع تر ترقیاتی سوچ کا حصہ ہے۔ اگر ان منصوبوں کے ساتھ خواتین کی تعلیم، فنی تربیت اور معاشی سرگرمیوں کے مواقع کو بھی مسلسل وسعت دی جائے تو اس کے اثرات آنے والے برسوں میں پورے معاشرے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب بااختیار وومن سینٹر جیسے منصوبے سیوی شہر تک محدود نہ رہیں بلکہ ڈویڑن کے دیگر علاقوں، تحصیلوں اور دور دراز آبادیوں تک بھی ان کا دائرہ پھیلایا جائے۔ خواتین کے لیے موبائل تربیتی پروگرام، مقامی سطح پر ہنر سکھانے کے مراکز، ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام، آن لائن روزگار سے متعلق رہنمائی اور چھوٹے کاروبار کے لیے آسان مالی سہولیات فراہم کی جائیں تو ان اقدامات ک نتائج مزید وسیع ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ نجی شعبے، تعلیمی ادارے، فلاحی تنظیمیں اور مقامی کاروباری طبقہ بھی اپنا کردار ادا کرے تو خواتین کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کا مطلب انہیں معاشرے سے الگ کرنا نہیں بلکہ انہیں معاشرے کی تعمیر میں برابر کا شریک بنانا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور ہنرمند خاتون اپنے بچوں کی بہتر تعلیم، صحت اور تربیت میں کردار ادا کرتی ہے، گھر کے معاشی فیصلوں میں حصہ لیتی ہے اور ضرورت پڑنے پر خاندان کا سہارا بھی بنتی ہے۔ یوں ایک خاتون کی ترقی کا اثر ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے خاندان اور آنے والی نسلوں تک پہنچتا ہے۔سیوی ڈویژن کی خواتین میں صلاحیت، محنت اور آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہے۔ انہیں صرف ایسے مواقع اور پلیٹ فارم درکار ہیں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو عملی شکل دے سکیں۔ بااختیار وومن سینٹر، خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات اسی سمت میں مختلف پہلوو¿ں کو جوڑتے ہیں۔ ایک طرف خواتین کو ہنر اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب انہیں اپنے مسائل براہِ راست انتظامیہ کے سامنے رکھنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ایک روشن مستقبل کی بنیاد آج کے فیصلوں سے رکھی جاتی ہے۔ اگر آج سیوی کی بیٹی کو تعلیم، ہنر، اعتماد اور معاشی مواقع فراہم کیے جائیں تو کل وہ اپنے خاندان کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ پورے ڈویڑن کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو ترقی کو محض اعداد و شمار سے نکال کر انسانی زندگی میں بہتری سے جوڑتی ہے۔ایک بااختیار عورت صرف اپنا مستقبل نہیں سنوارتی، وہ ایک خاندان کو مضبوط، ایک نسل کو تعلیم یافتہ اور ایک معاشرے کو زیادہ باصلاحیت بناتی ہے۔ سبی ڈویڑن میں خواتین کے لیے مواقع پیدا کرنے کی یہ کوششیں اسی روشن مستقبل کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *