Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمی

دفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانی

تحریر: یاسر دانیال صابری
کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان وقت کی پابندی ہے ۔جب سرکاری دفاتر وقت پر کھلیں، افسران اپنی نشستوں پر موجود ہوں، عوام کے مسائل بروقت حل ہوں اور ریاستی مشینری عوام کی خدمت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھے، تو ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن اگر دفاتر میں تاخیر معمول بن جائے، افسران مقررہ اوقات سے کئی گھنٹے بعد آئیں، اور سائلین گھنٹوں انتظار کرتے رہیں، تو یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔
گلگت بلتستان سمیت ملک پاکستان کے مختلف اضلاع، بالخصوص لاہور پنجاب سندھ بلوچستان سمیت گلگت شہر میں یہ شکایات بارہا سامنے آتی رہی ہیں کہ عوام صبح سویرے اپنے کاموں کے لیے سرکاری دفاتر پہنچ جاتے ہیں، لیکن متعلقہ افسران اور بعض اوقات سربراہانِ دفاتر کئی گھنٹے بعد دفتر آتے ہیں۔ اس دوران بزرگ شہری، خواتین، طلبہ، مزدور اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد شدید مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ کئی لوگ اپنی روزی روٹی چھوڑ کر دفتر پہنچتے ہیں، مگر انہیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ “صاحب ابھی نہیں آئے۔”
یہ مسئلہ اگر کسی ایک دفتر تک محدود ہوتا تو اسے انفرادی غفلت کہا جا سکتا تھا، مگر جب مختلف محکموں میں یہی صورتِ حال دکھائی دے تو یہ ایک انتظامی بحران بن جاتا ہے۔ انتظامیہ، صحت، تعمیرات، جنگلات، بجلی اور دیگر کئی محکموں کے بارے میں عوامی سطح پر ایسی شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ بعض افسران مقررہ وقت کے بجائے کافی دیر سے دفتر پہنچتے ہیں، جبکہ دوسری جانب عام ملازمین اور شہریوں سے وقت کی سخت پابندی کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ اگر ایک کلرک، ایک چوکیدار یا ایک جونیئر ملازم تاخیر کرے تو اس سے جواب طلبی کی جاتی ہے، مگر اگر اعلیٰ افسر خود وقت کی پابندی نہ کرے تو اس کا احتساب کیوں نہیں ہوتا؟ کیا اعلیٰ عہدہ قانون سے بالاتر ہونے کا پروانہ ہے؟ ہرگز نہیں۔ جتنا بڑا عہدہ، اتنی ہی بڑی ذمہ داری اور جوابدہی ہونی چاہیے۔
سرکاری افسران کی تنخواہیں عوام کے ٹیکس سے ادا کی جاتی ہیں۔ عوام یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں بروقت اور معیاری خدمات فراہم کی جائیں۔ اگر ایک افسر لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل کرتا ہے تو اس پر یہ اخلاقی، قانونی اور آئینی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ دفتر میں مقررہ وقت پر موجود ہو اور اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے انجام دے۔
تعلیمی اداروں میں بھی بہت سے اساتذہ وقت کی پابندی کی اچھی مثال قائم کرتے ہیں، اگرچہ وہاں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح پولیس اور مسلح افواج کے اداروں میں نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کو بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کچھ ادارے وقت کی پابندی کر سکتے ہیں تو دوسرے ادارے ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟صحت کا شعبہ تو براہِ راست انسانی جانوں سے وابستہ ہے۔ اگر ڈاکٹر یا متعلقہ عملہ بروقت موجود نہ ہو تو مریض کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی طرح انتظامیہ میں تاخیر سے عام شہریوں کے قانونی، مالی اور سماجی مسائل حل ہونے میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ ایک دستخط یا ایک فائل کی تاخیر کبھی کبھی کسی خاندان کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔ عوام کی شکایات ہیں کہ مریض صبح سویرے علاج کی امید لے کر ہسپتال پہنچتے ہیں، مگر متعلقہ ڈاکٹر یا ذمہ دار افسر مقررہ وقت پر موجود نہیں ہوتے۔ بعض اوقات گریڈ 18، 19 اور اس سے اوپر کے افسران خود تاخیر سے آتے ہیں، جبکہ باہر موجود بعض ملازمین کا رویہ مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ ایسا ہوتا ہے جیسے وہ عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ ان پر احسان کر رہے ہوں۔ بیمار، بزرگ، خواتین اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد گھنٹوں انتظار کرتے ہیں، مگر کوئی ان کی تکلیف کا احساس نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ جب ادارے کا انچارج خود وقت کی پابندی نہ کرے تو وہ اپنے ماتحت ڈاکٹروں اور عملے سے جواب طلبی کس بنیاد پر کرے گا؟ احتساب ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتا ہے۔ اگر سربراہ خود مثال قائم کرے تو پورا ادارہ نظم و ضبط کا پابند بن جاتا ہے، لیکن اگر قیادت ہی غفلت کا شکار ہو تو پھر ماتحت عملے سے بہتری کی توقع رکھنا محض خوش فہمی ہے۔ یہی طرزِ عمل نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی عوامی بے اعتمادی کو جنم دیتا ہے، اور اس کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت، چیف سیکرٹری، متعلقہ سیکرٹریز اور تمام محکموں کے سربراہان اس مسئلے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ تمام دفاتر میں حاضری کے نظام کو مؤثر بنایا جائے، بائیومیٹرک حاضری کو سختی سے نافذ کیا جائے، اچانک معائنے کیے جائیں، اور مقررہ اوقات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ احتساب صرف نچلے درجے کے ملازمین تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اعلیٰ افسران بھی اسی معیار پر پرکھے جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ عوامی شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے ایسا نظام بھی قائم کیا جائے جہاں شہری بلاخوف و خطر اپنی شکایت درج کرا سکیں اور اس پر مقررہ مدت کے اندر کارروائی ہو۔ اچھی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرے، نہ کہ انہیں دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرے۔
وقت کی پابندی صرف ایک انتظامی اصول نہیں بلکہ ایک اخلاقی قدر بھی ہے۔ جو افسر خود وقت کی قدر نہیں کرتا، وہ عوام کے وقت کی بھی قدر نہیں کرے گا۔ یہی رویہ آہستہ آہستہ اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور عوام کا ریاست پر اعتماد کمزور کرتا ہے۔
سرکاری دفاتر کو حقیقی معنوں میں عوام دوست بنایا جائے۔ افسران اپنی کرسی کو اختیار نہیں بلکہ امانت سمجھیں، اور یہ یاد رکھیں کہ وہ عوام کے خادم ہیں، حاکم نہیں۔ جب ہر افسر مقررہ وقت پر دفتر آئے گا، ہر سائل کو عزت ملے گی، اور ہر درخواست بروقت نمٹائی جائے گی، تب ہی عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور گلگت بلتستان میں اچھی حکمرانی کی بنیاد مضبوط ہوگی۔
انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کا وقت بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا ایک سرکاری افسر کا۔ قانون سب کے لیے برابر ہے، اور اگر قانون کی عملداری واقعی مقصود ہے تو اس کا آغاز خود ریاستی اداروں اور ان کے ذمہ دار افسران سے ہونا چاہیے۔
اس مسئلے کا حل صرف تنقید نہیں بلکہ مؤثر اصلاحات میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان کے تمام سرکاری دفاتر، ہسپتالوں اور دیگر اداروں میں بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ گریڈ 1 سے لے کر گریڈ 22 تک ہر ملازم اور ہر افسر کے لیے ایک ہی قانون نافذ ہو، کسی کو بھی استثنا حاصل نہ ہو۔ چیف سیکرٹری، متعلقہ سیکرٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اداروں کے سربراہان اچانک دورے کریں اور وقت کی پابندی نہ کرنے والے افسران و ملازمین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں۔ عوام کے لیے مؤثر شکایتی نظام قائم کیا جائے، جہاں ہر شکایت پر مقررہ وقت کے اندر کارروائی ہو اور اس کے نتائج بھی عوام کے سامنے لائے جائیں۔
اسی طرح ہسپتالوں، تحصیل دفاتر، ضلعی دفاتر اور دیگر عوامی اداروں میں شہریوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو ملازمت کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ سرکاری ملازم یہ یاد رکھیں کہ وہ عوام کے خادم ہیں، عوام ان کے محتاج نہیں۔ جب تک قانون سب پر یکساں نافذ نہیں ہوگا، احتساب اوپر سے شروع نہیں ہوگا اور دیانت داری و وقت کی پابندی کو ادارہ جاتی ثقافت نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک عوام کی مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔ ایک مضبوط، شفاف اور جوابدہ نظام ہی گلگت بلتستان اور پاکستان میں اچھی حکمرانی، عوامی اعتماد اور حقیقی ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *