Banner
Daily Sahafat Quetta
September 18, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی تقریبِ پذیرائی،میر نواز سولنگی کی کوئٹہ آمد ، آغاگل کی جانب سے عشائیہکوئٹہ تا چمن پسنجر ٹرین فوری بحال کی جائے،اسلم اچکزئی14 سالہ اسد عاطف نے انڈر 14 نیشنل پیڈل چیمپئن شپ جیت لیحرمین شریفین کا تحفظ ایمان کا حصہ ہے، لاکھوں کارکن دفاع کیلئے تیار ہیں،مولانا عبدالقادرلونیبارود کے ڈھیر پر ناچتی دنیاابن خلدون کی تاریخ دانگی اور جدید افغان و عالمگیر جغرافیائی سیاستملگری استادان ضلع چمن کی رکنیت سازی مہم 20 ستمبر سے شروع ہوگیکوہاٹ پولیس لائن دھماکا، وزیراعلیٰ بلوچستان کی شدید مذمتصحافی نصیر احمد کاکڑ پر حملے کے خلاف گنداخہ میں احتجاجدھابیجی پمپنگ کمپلیکس کے قریب آگ، کے ڈبلیو ایس سی کی کیبلز متاثراکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی تقریبِ پذیرائی،میر نواز سولنگی کی کوئٹہ آمد ، آغاگل کی جانب سے عشائیہکوئٹہ تا چمن پسنجر ٹرین فوری بحال کی جائے،اسلم اچکزئی14 سالہ اسد عاطف نے انڈر 14 نیشنل پیڈل چیمپئن شپ جیت لیحرمین شریفین کا تحفظ ایمان کا حصہ ہے، لاکھوں کارکن دفاع کیلئے تیار ہیں،مولانا عبدالقادرلونیبارود کے ڈھیر پر ناچتی دنیاابن خلدون کی تاریخ دانگی اور جدید افغان و عالمگیر جغرافیائی سیاستملگری استادان ضلع چمن کی رکنیت سازی مہم 20 ستمبر سے شروع ہوگیکوہاٹ پولیس لائن دھماکا، وزیراعلیٰ بلوچستان کی شدید مذمتصحافی نصیر احمد کاکڑ پر حملے کے خلاف گنداخہ میں احتجاجدھابیجی پمپنگ کمپلیکس کے قریب آگ، کے ڈبلیو ایس سی کی کیبلز متاثر

ابن خلدون کی تاریخ دانگی اور جدید افغان و عالمگیر جغرافیائی سیاست

محترم قارئین، مورخین اور سماجی سائنس دان جب بھی قوموں کے عروج و زوال، سلطنتوں کے ٹوٹنے اور سیاسی زلزلوں کی شرح خواندگی کرتے ہیں، تو ان کی تمام تر ڈوریں بالآخر چودھویں صدی کے اس عظیم مفکر کے افکار سے جا ملتی ہیں جس نے قلعہ بنی سلامہ کی تنہائی میں انسان کی اجتماعی نفسیات کے بنیادی قوانین کو قلمبند کر دیا تھا۔ ابن خلدون صرف ایک تاریخ دان یا تیونس کا ایک بربر قاضی نہیں تھا، بلکہ وہ تاریخ کا وہ روشن چراغ تھا جس نے چھ سو سال پہلے ان تمام سیاسی و معاشی حقیقتوں کو دیکھ لیا تھا جن سے آج کی دنیا نبرد آزما ہے۔ جب اس نے “مقدمہ” لکھا، تو اس نے تاریخ کو صرف سلاطین کی داستانوں سے نکال کر علمِ عمرانیات، معیشت اور انسانی نفسیات کے ایک ہم آہنگ قانون میں ڈھال دیا۔ اس کے فلسفے کے بنیادی ستونوں کو سمجھے بغیر ہم آج کی عالمی سیاست، افغانستان کی موجودہ صورتحال اور عالمی طاقتوں کے باہمی تصادم کو کسی صورت بھی درست تناظر میں نہیں دیکھ سکتے۔ابن خلدون کے نظریات کا سب سے مرکزی نقطہ “عصبیہ” یعنی باہمی رفاقت، قومی یگانگت اور یکجہتی کا وہ احساس ہے جو کسی بھی گروہ کو ایک ناقبلِ شکست طاقت میں بدل دیتا ہے۔ جب تک کسی قوم یا تحریک میں “ہم” کا اجتماعی احساس قائم رہتا ہے، وہ سخت ترین اور غیر مساعد حالات میں بھی میدانِ جنگ اور میدانِ سیاست جیتی رہتی ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ احساس انفرادی مفادات اور “میں” کی قید میں منتقل ہوتا ہے، اس قوم کے زوال کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ افغانستان کی جدید تاریخ اور امریکہ کے انخلا کے بعد کی صورتحال ابن خلدون کے اسی نظریے کا مکمل عمل درآمد ہے۔ طالبان کے پاس مدارس کی دینی نظریاتی وابستگی، قبیلے کی روایتی قربت اور مشترکہ جہادی بیانیے سے قائم ہونے والی ایک مضبوط عصبیہ موجود تھی، جس نے انہیں بیس برس تک دنیا کی جدید ترین فوج کے سامنے کھڑا رکھا۔ اس کے برعکس اشرف غنی کے اقتدار کی بنیادیں عالمی ڈگریوں، غیر ملکی امداد، کابل کے محلاتی دائروں اور ارگ کی مصنوعی فصیلوں پر قائم تھیں، جہاں عصبیہ کا سراسر فقدان تھا۔ اسی لیے جب حتمی آزمائش کا وقت آیا تو ایک فریق دو دہائیوں تک چٹان کی طرح ڈٹا رہا جبکہ دوسرا فریق محض تین دنوں میں ریت کے محل کی طرح بیٹھ گیا۔عمران کا چکر یعنی سلطنتوں کی حیاتیاتی عمر کے پانچ ادوار ابن خلدون کا دوسرا بڑا دریافت کردہ قانون ہے۔ ہر نئی طاقت صحرا اور دشوار گزار خطوں کے سادہ لیکن مضبوط عصبیہ رکھنے والے لوگوں کے ظہور سے شروع ہوتی ہے۔ وہ اپنی قربانیوں سے حکومت قائم کرتے ہیں، پھر وہ حکومت بتدریج عروج کی طرف بڑھتی ہے جہاں مال و دولت اور محلاتی آسائشیں جنم لیتی ہیں۔ چوتھا دور اس وقت شروع ہوتا ہے جب حکمران طبقہ عام عوام کی ضروریات سے بالکل کٹ جاتا ہے، معیشت پر غیر ضروری بار بڑھ جاتا ہے اور انصاف کے تقاضے پامال ہونے لگتے ہیں۔ بالآخر پانچواں دور یعنی سقوط آتا ہے، جہاں ریاست اندرونی طور پر اتنی کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے کہ باہر سے لگنے والا معمولی دھکا بھی پوری عمارت کو زمین بوس کر دیتا ہے۔ امریکہ کی بیسویں اور اکیسویں صدی کی بالادستی، سوویت یونین کا اچانک بکھراؤ اور موجودہ دور میں عالمی معاشی قوتوں کے تغیرات اسی خلدونی چکر کے تابع ہیں۔ سوویت یونین کا پچھتر سال کے اندر ٹوٹنا اور دیگر طاقتوں کا داخلی انتشار اسی بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سلطنتوں کے قائم رہنے کی ایک مقررہ معیاد ہوتی ہے جو ان کے داخلی نظام کی صحت سے جڑی ہوتی ہے۔تاریخ کا ایک اور خلدونی قانون مغلوب کی نفسیات سے متعلق ہے کہ مغلوب ہمیشہ اپنے غالب کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میدانِ جنگ میں فتح یا شکست سے قطع نظر، جب کوئی قوم اپنے فاتح یا حریف کے لباس، زبان، طرزِ زندگی اور مراعات کی تمنا کرنے لگے تو یہ ذہنی اور ثقافتی مغلوبیت کی سب سے خطرناک شکل ہوتی ہے۔ افغان سرحدوں سے لے کر ایشیا کے دیگر خطوں تک، جن لوگوں نے میدانِ عمل میں بڑی سے بڑی عالمی طاقت سے ٹکر لی، ان کے اندرونی طبقے کا اسی فاتح کی زبان، ویزے اور مراعات کے لیے بے تاب ہونا اس نفسیاتی غلامی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کی نشاندہی چودھویں صدی میں ہی کر دی گئی تھی۔معیشت اور عصبیہ کا اپاہج ہونا ابن خلدون کے معاشی فلسفے کی روح ہے۔ وہ واضح طور پر لکھتا ہے کہ جب معاشی بنیادیں اور اقساطِ زر ٹوٹتی ہیں، تو وہ یکجہتی جو معاشرے کو جوڑے رکھتی ہے، خود بخود بکھرنے لگتی ہے۔ کسی بھی بڑی طاقت میں زوال یا انقلاب صرف بارود اور توپ کے دھماکوں سے نہیں آتا، بلکہ اس کی حقیقی بنیادیں اس وقت کھودی جاتی ہیں جب معاشی نظام اندر سے مفلوج ہو جائے۔ عالمی طاقتوں کے تجارتی عدم توازن اور اندرونی معاشی دباؤ اس بات کا ثبوت ہیں کہ خزانوں کی بے اعتدالی اور مالیاتی بحران ہی ریاستوں کے خاتمے پر دستخط کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابن خلدون کا یہ اصول آج کے تمام بین الاقوامی تجزیوں پر حاوی ہے کہ ہر عظیم سلطنت کی موت کا حتمی فیصلہ اس کے خزانے کی حالت میں لکھا ہوتا ہے، میدانِ جنگ کی فتح و شکست میں نہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *