Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہبدمست زندگیسسٹم کی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، آغا حسین مقدسیمعروف قبائلی و سماجی شخصیت ڈاکٹر عبدالرحیم رخشانی انتقال کر گئےقبو شاخ میں پانی کا سنگین بحران، زمینداروں کا خشک نہر میں احتجاج، ایریگیشن حکام کو 24 گھنٹے کا آخری الٹی میٹمگنداخہ میں ترقیاتی منصوبوں کا سفر جاری، ڈاکٹر جاوید جمالی کی کارکردگی کو عوامی خراجِ تحسیناقلیتی طلبہ کے 2 فیصد تعلیمی کوٹے پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کی جائے، منارٹی فورم کا مطالبہفاطمہ جناحؒ کی جدوجہد، دیانت اور قومی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں، فیصل خان جمالیبی آئی ایس پی اور پی ایس ڈی ایف کے درمیان بینظیر ہنرمند پروگرام کیلئے ایم او یو پر دستخطبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہبدمست زندگیسسٹم کی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، آغا حسین مقدسیمعروف قبائلی و سماجی شخصیت ڈاکٹر عبدالرحیم رخشانی انتقال کر گئےقبو شاخ میں پانی کا سنگین بحران، زمینداروں کا خشک نہر میں احتجاج، ایریگیشن حکام کو 24 گھنٹے کا آخری الٹی میٹمگنداخہ میں ترقیاتی منصوبوں کا سفر جاری، ڈاکٹر جاوید جمالی کی کارکردگی کو عوامی خراجِ تحسیناقلیتی طلبہ کے 2 فیصد تعلیمی کوٹے پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کی جائے، منارٹی فورم کا مطالبہفاطمہ جناحؒ کی جدوجہد، دیانت اور قومی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں، فیصل خان جمالیبی آئی ایس پی اور پی ایس ڈی ایف کے درمیان بینظیر ہنرمند پروگرام کیلئے ایم او یو پر دستخط

گریڈ 17 میں ترقی پانے والے اساتذہ دو سال بعد بھی تعیناتی کے منتظر، محکمہ تعلیم پر سوالات


محکمہ تعلیم بلوچستان کی پالیسیوں اور انتظامی امور پر اس وقت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ گزشتہ دو سالوں کے دوران گریڈ 17 (SST) میں ترقی پانے والے متعدد اساتذہ تاحال اپنی نئی آسامیوں پر تعیناتی کے منتظر ہیں۔

متاثرہ اساتذہ کے مطابق انہیں باقاعدہ طور پر گریڈ 17 میں ترقی تو دے دی گئی، تاہم دو سال گزرنے کے باوجود محکمہ تعلیم ان کی تعیناتی یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث اساتذہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ تعلیمی نظام میں بھی بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنی تعیناتی کے حوالے سے وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم یا دیگر متعلقہ حکام سے رابطہ کرتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ کوئٹہ میں کوئی خالی آسامی موجود نہیں۔ ان کے مطابق اگر آسامیاں دستیاب نہیں تھیں تو ترقی دینے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا، یہ ایک اہم سوال ہے۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ترقی پانے والے اساتذہ اپنے جائز حق کے منتظر ہیں جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر سفارش اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے بعض اساتذہ کو کوئٹہ میں تعینات کیا جا رہا ہے، جو محکمہ تعلیم کی شفافیت اور میرٹ پر سوالیہ نشان ہے۔

اساتذہ کے مطابق محکمہ تعلیم کی غیر واضح پالیسیوں اور انتظامی نااہلی کے باعث بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ اساتذہ کی بروقت تعیناتی نہ ہونے سے تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

متاثرہ اساتذہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ گریڈ 17 میں ترقی پانے والے تمام اساتذہ کی تعیناتی کا عمل فوری مکمل کیا جائے، مبینہ سفارشی تعیناتیوں کی تحقیقات کرائی جائیں اور پورے عمل کو شفاف بنایا جائے تاکہ اساتذہ میں پائی جانے والی تشویش اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *