Banner
Daily Sahafat Quetta
August 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
خاران میں مسلح افراد کا پولیس تھانے پر حملہ، فائرنگ اور دھماکوں کے بعد کلیئرنس آپریشن جاریکوئٹہ: سیٹلائٹ ٹاؤن میں نوجوان قتل، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیںبلاول نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کا الزام عائد کردیاقائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ، حلقے میں پیپلز پارٹی کارکن قتل30 سال کا سفر ساڑھے 3 سال میں طے کرنے والا کہتا ہے سسٹم نہیں چل سکتا، رانا ثنا کی محسن نقوی پر تنقیدخیبر پختونخوا میں آپریشن 11 گرج کے تحت متعدد خوارج ہلاک، کئی ٹھکانے بھی تباہ27ویں آئینی ترمیم اور اس پر تنقیدمحمد فیصل ندیم سرائیکی جرنلسٹس فورم پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات مقررتاریخ رقم کرنے والے نرمل پرجا براڈ پیک پر زندگی کی بازی ہار گئےڈویژنل سپرنٹنڈنٹ سکھر کا روہڑی تا رحیم یار خان فٹ پلیٹ معائنہ، ریلوے آپریشن، ٹریک اور ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہخاران میں مسلح افراد کا پولیس تھانے پر حملہ، فائرنگ اور دھماکوں کے بعد کلیئرنس آپریشن جاریکوئٹہ: سیٹلائٹ ٹاؤن میں نوجوان قتل، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیںبلاول نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کا الزام عائد کردیاقائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ، حلقے میں پیپلز پارٹی کارکن قتل30 سال کا سفر ساڑھے 3 سال میں طے کرنے والا کہتا ہے سسٹم نہیں چل سکتا، رانا ثنا کی محسن نقوی پر تنقیدخیبر پختونخوا میں آپریشن 11 گرج کے تحت متعدد خوارج ہلاک، کئی ٹھکانے بھی تباہ27ویں آئینی ترمیم اور اس پر تنقیدمحمد فیصل ندیم سرائیکی جرنلسٹس فورم پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات مقررتاریخ رقم کرنے والے نرمل پرجا براڈ پیک پر زندگی کی بازی ہار گئےڈویژنل سپرنٹنڈنٹ سکھر کا روہڑی تا رحیم یار خان فٹ پلیٹ معائنہ، ریلوے آپریشن، ٹریک اور ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ

امریکہ اور چین نئی عالمی گریٹ گیم اور طاقت کی رسہ کشی۔

احمدخان اچکزئی

امریکہ اور چین نئی عالمی گریٹ گیم اور طاقت کی رسہ کشی۔

محترم قارئین! تاریخِ عالم گواہ ہے کہ طاقت کا توازن کبھی ایک جگہ برقرار نہیں رہتا اور وقت کے ساتھ ساتھ عالمی نظام کی باگ ڈور نئے کھلاڑیوں کے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ امریکہ، جس نے 1775 میں اپنی آزادی کے بعد سے اب تک 200 سے زائد فوجی تنازعات میں حصہ لیا، آج ایک ایسی نئی ‘گریٹ گیم’ کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں اس کا مقابلہ کسی روایتی فوجی دشمن سے نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی معاشی اور ٹیکنالوجیکل قوت، چین سے ہے۔ امریکہ کی جنگی تاریخ، جو امریکی انقلاب سے شروع ہو کر 1812 کی جنگ، خانہ جنگی، عالمی جنگ اول و دوم، اور ویتنام سے ہوتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف جنگ تک پھیلی ہوئی ہے، محض عسکری مہم جوئی نہیں بلکہ اپنے اسٹریٹجک اور معاشی اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی ایک مسلسل کوشش رہی ہے۔ ان جنگوں نے جہاں امریکی فوجی صنعت کو فروغ دیا اور نئے بازاروں تک رسائی فراہم کی، وہاں اسے دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر بھی مستحکم کیا۔ تاہم، 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد جو یک قطبی دنیا ابھری تھی، وہ اب تیزی سے بدل رہی ہے۔ مائیکل پلسبری کی کتاب “دی ہنڈریڈ ایئر میراتھن” اس تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے مطابق چین ایک خاموش حکمت عملی کے تحت 2049 تک امریکہ کی عالمی اجارہ داری ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چین کی یہ سو سالہ منصوبہ بندی، جسے سو سالہ میراتھن کہا جاتا ہے، سن تزو کی “آرٹ آف وار” کے اصولوں پر مبنی ہے، جہاں اپنی طاقت اور عزائم کو چھپا کر دشمن کو اس وقت تک غافل رکھا جاتا ہے جب تک کہ فیصلہ کن وار کا وقت نہ آجائے۔ چین کا ون بیلٹ، ون روڈ منصوبہ اسی عالمی بالادستی کی سمت ایک بڑا قدم ہے، جو زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے ایشیاء، یورپ اور افریقہ کو جوڑ کر ایک نیا چینی ورلڈ آرڈر تشکیل دے رہا ہے۔ اس منصوبے کا اہم ترین حصہ سی پیک (CPEC) ہے، جس پر امریکہ اور بھارت کو شدید تحفظات ہیں، کیونکہ گوادر بندرگاہ تزویراتی اہمیت امریکی بحری غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ دوسری جانب، افغانستان سے انخلا کے بعد بھی امریکہ ‘گریٹ گیم’ کے تحت خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ وہ طالبان حکومت کے ساتھ ایسے مذاکرات اور تعلقات کی راہ تلاش کر رہا ہے جس سے نہ صرف دہشت گردی پر قابو پایا جا سکے بلکہ اس علاقے میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو بھی روکا جا سکے۔ طالبان بھی اس صورتحال میں ایک توازن برقرار رکھنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں، جہاں وہ چینی سرمایہ کاری اور امریکی سفارتی قبولیت دونوں کے خواہاں ہیں۔ آج کی یہ سرد جنگ محض زمین تک محدود نہیں بلکہ مریخ اور چاند کی تسخیر کے ذریعے خلائی بالادستی تک پھیل چکی ہے۔ ایلون مسک کے منصوبے اور چین کی ٹیکنالوجیکل ترقی اس بات کا ثبوت ہیں کہ مستقبل کی حکمرانی اس کے پاس ہوگی جس کے پاس جدید ترین علم اور وسائل ہوں گے۔ جنوبی چین کے سمندر سے لے کر تائیوان تک اور وسطی ایشیاء سے لے کر افریقہ کے معدنی وسائل تک، ہر جگہ مفادات کا ٹکراؤ واضح ہے۔ امریکہ کا “Make America Great Again” اور چین کا “چائنا ڈریم” دراصل ایک ہی آسمان پر دو سورجوں کی موجودگی کی وہ جنگ ہے جس کے اثرات تیسری دنیا، بالخصوص پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بھی براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی عالمی منصوبے پر اپنی بقاء کے لیے پاکستان جیسے ممالک کو انتہائی احتیاط اور دور اندیشی پر مبنی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان دو دیو ہیکل قوتوں کے درمیان اپنے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *