Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
چیئرمین مارکیٹ کمیٹی ساجد عباسی سے وفد کی اہم ملاقاتہزار گنجی میں بدامنی کے واقعات پر خاموش نہیں رہیں گے، جمعیت علمائے اسلام کوئٹہگنداواہ: ایم ایس ڈاکٹر منصور احمد کھوسہ کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا تفصیلی دورہفوجی فرٹیلائزر کمپنی کا سال 2026 کا تیسرا کارپوریٹ بریفنگ سیشن منعقدمیر فدا حکیم رند کی منیر مومن کے گھر آمد، اہلیہ کے انتقال پر تعزیتانسانی خدمت سب سے بڑا مشن ہے، محمد رفیع کھرلیومِ استحصالِ کشمیر پر سوراب میں بھرپور یکجہتی ریلی نکالی گئیصومالیہ کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتبلوچستان کے کسی ضلع کو ترقی کے سفر میں پیچھے نہیں چھوڑینگے، میر سرفراز بگٹیشہداءکا احترام اور صوبے میں امن کا قیام ہماری اولین ذمہ داری ہے،آئی جی پولیس بلوچستانچیئرمین مارکیٹ کمیٹی ساجد عباسی سے وفد کی اہم ملاقاتہزار گنجی میں بدامنی کے واقعات پر خاموش نہیں رہیں گے، جمعیت علمائے اسلام کوئٹہگنداواہ: ایم ایس ڈاکٹر منصور احمد کھوسہ کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا تفصیلی دورہفوجی فرٹیلائزر کمپنی کا سال 2026 کا تیسرا کارپوریٹ بریفنگ سیشن منعقدمیر فدا حکیم رند کی منیر مومن کے گھر آمد، اہلیہ کے انتقال پر تعزیتانسانی خدمت سب سے بڑا مشن ہے، محمد رفیع کھرلیومِ استحصالِ کشمیر پر سوراب میں بھرپور یکجہتی ریلی نکالی گئیصومالیہ کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتبلوچستان کے کسی ضلع کو ترقی کے سفر میں پیچھے نہیں چھوڑینگے، میر سرفراز بگٹیشہداءکا احترام اور صوبے میں امن کا قیام ہماری اولین ذمہ داری ہے،آئی جی پولیس بلوچستان

معاہدے کے تحت ایران کو صرف کم سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے معاہدے کے تحت ایران کو صرف کم سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی، جسے کسی بھی صورت فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور یہ پابندی مستقل نوعیت کی ہوگی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حد سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد افزودگی کے برابر ہوگی تو انہوں نے واضح شرح بتانے کے بجائے کہا کہ ایران صرف پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کر سکے گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایرانی حکومت مستقبل میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرتی ہے یا انہیں قتل کرتی ہے تو ایسی صورت میں ایران کو مکمل پابندیوں میں نرمی حاصل نہیں ہو سکے گی۔ تاہم ذرائع کے مطابق یہ شرط مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ حصہ نہیں ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ایک بہت مشکل آدمی ہیں اور انہیں امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

ٹرمپ کے مطابق اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا اور معاہدے کے حتمی مراحل میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی میزائل اور فضائی حملوں نے تہران پر دباؤ بڑھایا اور اسی وجہ سے ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران مزید حملوں سے بچنا چاہتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہوئی۔

امریکی صدر کے بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *