Banner
Daily Sahafat Quetta
September 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مسلم باغ پولیس کی دبنگ کاروائی، چار ملزمان گرفتار، مسروقہ گاڑی برآمدپشتون ثقافت مہمان نوازی، بہادری اور رواداری کی علامت ہے، ماجد سلیمپاکستان کا تعلیمی نظام ، کتابیں بدل گئیں، تعلیم کب بدلے گی؟TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1520/23-9-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1509/23-9-2026قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی، محمد علی جمالیمہنگائی اور بے روزگاری عوام کیلئے عذاب بن چکی ہے، مولانا قاری مہراللہامن و امان اور جرائم کی روک تھام کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے، محمد علی جمالیجرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروش قانون کی گرفت میں، 4 ملزمان گرفتارسید عابد بخآری کی وفات سے صحافت کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ، شیخ فریدمسلم باغ پولیس کی دبنگ کاروائی، چار ملزمان گرفتار، مسروقہ گاڑی برآمدپشتون ثقافت مہمان نوازی، بہادری اور رواداری کی علامت ہے، ماجد سلیمپاکستان کا تعلیمی نظام ، کتابیں بدل گئیں، تعلیم کب بدلے گی؟TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1520/23-9-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1509/23-9-2026قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی، محمد علی جمالیمہنگائی اور بے روزگاری عوام کیلئے عذاب بن چکی ہے، مولانا قاری مہراللہامن و امان اور جرائم کی روک تھام کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے، محمد علی جمالیجرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروش قانون کی گرفت میں، 4 ملزمان گرفتارسید عابد بخآری کی وفات سے صحافت کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ، شیخ فرید

پاکستان کا تعلیمی نظام ، کتابیں بدل گئیں، تعلیم کب بدلے گی؟

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی وہ بنیاد ہے جس کے بغیر مضبوط اور خوشحال معاشرے کا تصور ممکن نہیں، مگر افسوس کہ پاکستان میں تعلیم آج بھی ہماری ترجیحات میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکی جس کی اسے ضرورت ہے۔ ہم کئی دہائیوں سے تعلیمی پالیسیاں بنا رہے ہیں، نصاب تبدیل کر رہے ہیں، نئے منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں، اسکولوں کی عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں، لیکن بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام ہمارے بچوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کر رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام ایک ہی وقت میں کئی مسائل کا شکار ہے؛ کہیں اسکول موجود نہیں، کہیں عمارت تو ہے مگر اساتذہ نہیں، کہیں استاد موجود ہیں مگر بنیادی سہولیات نہیں، اور جہاں سہولیات موجود ہیں وہاں تعلیم کے معیار کا سوال سامنے آتا ہے۔ بڑے شہروں کے بعض نجی تعلیمی اداروں میں جدید کمپیوٹر لیبز، انٹرنیٹ، اسمارٹ کلاس رومز اور مختلف تعلیمی سرگرمیاں موجود ہیں، جبکہ ملک کے دور دراز علاقوں میں آج بھی بہت سے بچے ایسے ہیں جنہیں ایک مناسب کلاس روم، کتاب، کرسی یا مستقل استاد تک میسر نہیں، یہی فرق ہمارے معاشرے میں ایک ایسی تعلیمی خلیج پیدا کر رہا ہے جو وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کا ایک بڑا مسئلہ رٹہ سسٹم بھی ہے، بچے کو اکثر یہ سکھایا جاتا ہے کہ کتاب میں جو لکھا ہے اسے یاد کرو اور امتحان میں وہی لکھ دو، اگر کوئی طالب علم اپنی سوچ کے مطابق جواب دینے کی کوشش کرے تو اسے کئی مرتبہ غلط تصور کیا جاتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ امتحان میں اچھے نمبر حاصل کر لیتا ہے مگر عملی زندگی میں ایک مسئلے کا حل تلاش کرنے، سوال کرنے یا اپنی رائے قائم کرنے میں مشکلات محسوس کرتا ہے، حالانکہ تعلیم کا مقصد صرف نمبر یا ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور صحیح فیصلہ کرنے کے قابل بنانا ہے۔ آج دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل معیشت، سائبر سیکیورٹی، جدید طب اور نئی ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، ایسے میں اگر ہمارے کلاس روم میں اب بھی تعلیم کا بنیادی مقصد صرف کتاب یاد کرنا اور امتحان پاس کرنا ہوگا تو ہم اپنے نوجوانوں کو عالمی مقابلے کے لیے کیسے تیار کریں گے؟ ہمیں بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ کیا سوچنا ہے بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ کیسے سوچنا ہے۔ اس پورے عمل میں استاد کا کردار سب سے اہم ہے کیونکہ ایک اچھا استاد صرف کتاب پڑھانے والا شخص نہیں بلکہ طالب علم کی شخصیت بنانے والا رہنما ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں کئی جگہ اساتذہ کو غیر تدریسی کاموں میں مصروف کر دیا جاتا ہے اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت بھی مسلسل نہیں ہوتی، حالانکہ جس طرح دنیا کا تعلیمی نظام بدل رہا ہے اسی طرح استاد کی تربیت بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ پاکستان میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان فرق بھی ایک اہم مسئلہ ہے، ایک طرف ایسے اسکول ہیں جہاں والدین بھاری فیس ادا کرکے اپنے بچوں کو جدید سہولیات فراہم کرتے ہیں اور دوسری طرف کم آمدنی والے خاندانوں کے بچے ایسے اداروں میں پڑھتے ہیں جہاں بنیادی سہولیات بھی محدود ہوتی ہیں، تعلیم معاشرے میں طبقاتی فرق کم کرنے کا ذریعہ ہونی چاہیے، اسے طبقاتی تقسیم بڑھانے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ ایک مزدور، کسان، دکاندار یا کم آمدنی والے خاندان کا بچہ بھی اتنی ہی صلاحیت رکھتا ہے جتنی کسی بڑے افسر یا کاروباری شخص کے بچے میں ہوتی ہے، فرق صرف مواقع کا ہے، اگر ریاست ہر بچے کو برابر مواقع فراہم کرے تو یہی بچے مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، استاد، صحافی، فنکار، کاروباری شخص اور ملک کے ذمہ دار شہری بن سکتے ہیں۔ ہمارے امتحانی نظام پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پورا سال صرف اس لیے پڑھنا کہ آخر میں چند گھنٹوں کے امتحان میں کتاب کا مواد یاد کرکے لکھ دیا جائے، طالب علم کی حقیقی صلاحیت کا مکمل پیمانہ نہیں ہو سکتا، تحقیق، تخلیقی صلاحیت، عملی سرگرمی، گفتگو، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور کردار سازی کو بھی تعلیم کا حصہ بنانا ہوگا۔ آج کا طالب علم موبائل فون، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کی دنیا میں رہتا ہے، اس لیے ٹیکنالوجی کو تعلیم سے الگ رکھنا ممکن نہیں، اصل ضرورت یہ ہے کہ بچوں کو ٹیکنالوجی کا مثبت اور ذمہ دار استعمال سکھایا جائے، مصنوعی ذہانت ایک طرف تحقیق اور سیکھنے کے نئے راستے کھول رہی ہے تو دوسری طرف بغیر سمجھے کام مکمل کرنے اور نقل کے امکانات بھی پیدا کر رہی ہے، لہٰذا ہمیں بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور کرنے کے بجائے اس کا درست استعمال سکھانا ہوگا۔ تعلیم صرف سائنس، ریاضی، انگریزی یا کسی ایک مضمون کا نام نہیں بلکہ کردار سازی بھی تعلیم کا بنیادی حصہ ہے، ایک ایسا شخص جس کے پاس کئی ڈگریاں ہوں لیکن وہ جھوٹ، دھوکے، بدعنوانی اور ناانصافی کو معمول سمجھتا ہو، معاشرے کے لیے حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ انسان نہیں بن سکتا، ہمیں اپنے بچوں میں دیانت داری، برداشت، احترام، قانون کی پاسداری، اختلاف رائے کو برداشت کرنے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا شعور بھی پیدا کرنا ہوگا۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں تعلیمی مسائل مزید پیچیدہ ہیں، پہاڑی اور پسماندہ علاقوں میں بچے کئی کلومیٹر سفر کرکے اسکول پہنچتے ہیں، کہیں بچیوں کے لیے مناسب تعلیمی سہولیات نہیں، کہیں اساتذہ کی کمی ہے اور کہیں اسکول موجود ہونے کے باوجود بنیادی انفراسٹرکچر ناکافی ہے، اس لیے پورے ملک کے لیے ایک ہی طریقہ اختیار کرنے کے بجائے مقامی حالات اور ضروریات کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ خصوصاً بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے کیونکہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی صرف اپنی زندگی نہیں بدلتی بلکہ ایک پورے خاندان کی سوچ اور مستقبل بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اگر ہم واقعی ایک تعلیم یافتہ نسل چاہتے ہیں تو لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے لیے بھی محفوظ، معیاری اور قابل رسائی تعلیمی ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ اسی طرح ہمیں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہر بچہ یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوتا، کچھ بچے ٹیکنالوجی میں بہتر ہوتے ہیں، کچھ فنون میں، کچھ کاروبار میں اور کچھ عملی ہنر میں، اس لیے ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کو بھی ہمارے تعلیمی نظام کا مضبوط حصہ بنانا ہوگا، ایک ہنرمند ٹیکنیشن، الیکٹریشن، مکینک، سولر ٹیکنیشن، پروگرامر یا گرافک ڈیزائنر بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس پالیسیاں نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ پالیسی اور عمل کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے، حکومتیں بدلتی ہیں، وزرائ تبدیل ہوتے ہیں اور منصوبے بھی تبدیل ہو جاتے ہیں استاد اسے سمجھا سکے اور علم صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہ رہے۔ پاکستان کے نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، ہمارے نوجوان دنیا کے مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت ثابت کر رہے ہیں، مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ مواقع، رہنمائی اور بہتر نظام کا ہے، اگر ہم اپنے بچوں کو معیاری تعلیم، مناسب ماحول اور آگے بڑھنے کے برابر مواقع فراہم کردیں تو یہی نوجوان پاکستان کے معاشی، سائنسی، سماجی اور فکری مستقبل کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو صرف تقریروں اور نعروں کا موضوع بنانے کے بجائے حقیقی قومی ترجیح بنایا جائے، ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمارا اسکول صرف امتحان پاس کرنے والی نسل پیدا کرے گا یا ایسی نسل تیار کرے گا جو سوچ سکے، سوال کرسکے، تحقیق کرسکے، اختلاف کو سمجھ سکے اور معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ قوموں کا مستقبل صرف بڑی بڑی عمارتوں، سڑکوں اور منصوبوں سے نہیں بنتا بلکہ کلاس روم میں بیٹھے ہوئے ان بچوں کی سوچ سے بنتا ہے جو کل اس ملک کی ذمہ داری سنبھالیں گے، کتابیں تبدیل کرنا آسان ہے، نصاب تبدیل کرنا بھی مشکل نہیں،
اسکول تعمیر کرنا بھی ممکن ہے، مگر اصل کام انسان بنانا ہے، اور شاید پاکستان کے تعلیمی نظام کو آج سب سے زیادہ اسی چیز کی ضرورت ہے کہ ایسی تعلیم دی جائے جو صرف ڈگری نہ دے بلکہ انسان بنائے، صرف نوکری تلاش کرنے والا نوجوان نہ بنائے بلکہ مسائل حل کرنے والا شہری پیدا کرے، صرف مقابلے میں آگے نکلنے کی خواہش نہ دے بلکہ معاشرے کو ساتھ لے کر چلنے کا شعور بھی دے، کیونکہ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کی تعلیم کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والا وقت ہم سے سوال ضرور کرے گا کہ جب ہمارے پاس اپنی نسل کا مستقبل بہتر بنانے کا موقع موجود تھا تو ہم نے اسے ضائع کیوں کیا؟

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *