Banner
Daily Sahafat Quetta
August 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
صدر آصف علی زرداری بلاول بھٹو کا رشتہ لیکر یورپی ملک ‘لیختن شٹائن’ پہنچ گئے، ذرائعفنانس ایکٹ : غلط ان پٹ ٹیکس کریڈٹ پر 20 فیصد جرمانہ عائد ہوگاایران ایک ہفتے کے دوران 59 زلزلوں کے جھٹکوں سے لرز اٹھاپمز اسپتال میں انتظامی عہدوں پر نئی تقرریوں کے احکامات جاریبانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی ہیں کہ عمران خان بالکل فٹ ہیں: خواجہ آصفپاکستان مستقبل کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کیلئے تیار ہے، بلال بن ثاقبنیپرا کے نئے کارکردگی قوانین، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں پر شکنجہ سختگل پلازہ کی انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے، سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ جاریپاکستان کا اصل مسئلہ عام آدمی کی بے بسی ہےکمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کا انتظامی افسران کےہمراہ ددر پراجیکٹ سائٹ تحصیل کنراج کا دورہصدر آصف علی زرداری بلاول بھٹو کا رشتہ لیکر یورپی ملک ‘لیختن شٹائن’ پہنچ گئے، ذرائعفنانس ایکٹ : غلط ان پٹ ٹیکس کریڈٹ پر 20 فیصد جرمانہ عائد ہوگاایران ایک ہفتے کے دوران 59 زلزلوں کے جھٹکوں سے لرز اٹھاپمز اسپتال میں انتظامی عہدوں پر نئی تقرریوں کے احکامات جاریبانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی ہیں کہ عمران خان بالکل فٹ ہیں: خواجہ آصفپاکستان مستقبل کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کیلئے تیار ہے، بلال بن ثاقبنیپرا کے نئے کارکردگی قوانین، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں پر شکنجہ سختگل پلازہ کی انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے، سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ جاریپاکستان کا اصل مسئلہ عام آدمی کی بے بسی ہےکمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کا انتظامی افسران کےہمراہ ددر پراجیکٹ سائٹ تحصیل کنراج کا دورہ

پاکستان کا اصل مسئلہ عام آدمی کی بے بسی ہے

پاکستان کا اصل مسئلہ عام آدمی کی بے بسی ہے
تحریر یا،سر دانیال صابری
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس قدرتی وسائل کی کمی نہیں، باصلاحیت نوجوانوں کی کمی نہیں، محنتی عوام کی کمی نہیں اور نہ ہی آگے بڑھنے کے مواقع کی کمی ہے، لیکن اس کے باوجود آج عام پاکستانی زندگی کے بنیادی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ہمارے ملک میں ہر دور میں بڑے بڑے منصوبوں، معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور روشن مستقبل کی بات کی جاتی ہے، مگر اگر کسی عام شہری سے پوچھا جائے کہ اس کی زندگی میں کیا بدلا ہے تو شاید اس کے پاس جواب دینے کے لیے بہت کچھ نہ ہو۔ ایک مزدور کے لیے سب سے بڑا مسئلہ روزگار ہے، ایک سفید پوش خاندان کے لیے مہینے کا بجٹ پورا کرنا مشکل ہے، ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے نوکری کی تلاش میں ہے، ایک کسان اپنی فصل کی مناسب قیمت کے لیے پریشان ہے اور ایک مریض سرکاری ہسپتال میں علاج کی سہولت کے لیے طویل انتظار کرتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے پاکستان کے بڑے بڑے مباحث میں اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔ جب ایک گھر کی آمدن وہیں کھڑی رہے اور بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم، علاج، خوراک اور دیگر ضروریات کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جائیں تو زندگی صرف مشکل نہیں رہتی بلکہ ایک مسلسل ذہنی دباؤ بن جاتی ہے۔ آج ایک عام باپ بازار جاتا ہے تو اسے ہر چیز کی قیمت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کی تنخواہ یا روزانہ کی اجرت اسی رفتار سے نہیں بڑھتی۔ وہ اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرنے کے بجائے ضروریات پوری کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ کبھی راشن کم کرنا پڑتا ہے، کبھی بچوں کی فیس کے لیے کسی سے ادھار لینا پڑتا ہے اور کبھی علاج مؤخر کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال کسی ایک طبقے یا ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے لاکھوں خاندان اس پریشانی سے گزر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ، جسے ملک کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے، اپنی صلاحیتوں کے باوجود مواقع کی کمی کا شکار ہے۔ ہمارے نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں، مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرتے ہیں، لیکن جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ڈگری سے زیادہ تعلق، سفارش یا تجربے کی شرط اہم بن چکی ہے۔ ایک نوجوان کئی سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگر صرف اس لیے ملازمت حاصل نہ کرسکے کہ اس کے پاس سفارش نہیں تو اس سے زیادہ خطرناک صورتحال کسی معاشرے کے لیے کیا ہوسکتی ہے؟ میرٹ کا نظام مضبوط کیے بغیر ہم نوجوانوں میں امید پیدا نہیں کرسکتے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے نوجوان صرف روزگار کے طلب گار نہیں بلکہ وہ روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، بشرطیکہ انہیں آسان قرضے، جدید تربیت، ٹیکنالوجی، مارکیٹ تک رسائی اور مناسب ماحول فراہم کیا جائے۔ دنیا بدل رہی ہے، معیشت کا انداز بدل رہا ہے اور ڈیجیٹل دنیا نے روزگار کے بے شمار نئے راستے پیدا کیے ہیں، لیکن ہم اب بھی کئی جگہ پرانے طریقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں آئی ٹی، فری لانسنگ، ای کامرس، سیاحت، زراعت، معدنیات اور چھوٹے کاروبار کے بے شمار مواقع موجود ہیں، مگر ان شعبوں کو ایک مربوط قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہمارے ملک کا کسان بھی آج مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ جس شخص کے ہاتھ میں ہماری خوراک کی ذمہ داری ہے وہ خود مہنگے بیج، کھاد، بجلی، ڈیزل اور زرعی ادویات خریدنے پر مجبور ہے، جبکہ فصل تیار ہونے کے بعد اسے اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملتی۔ درمیان میں کئی ایسے کردار موجود ہوتے ہیں جو زیادہ فائدہ حاصل کرلیتے ہیں اور اصل محنت کرنے والا کسان کم منافع پر گزارا کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اگر ہم واقعی پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو کسان کو مضبوط کرنا ہوگا، زرعی تحقیق کو فروغ دینا ہوگا، جدید ٹیکنالوجی کو عام کرنا ہوگا اور کسان کو اس کی پیداوار کی مناسب قیمت دلانے کے لیے مؤثر نظام بنانا ہوگا۔ دوسری طرف صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبے بھی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ ایک غریب آدمی کے لیے بیماری صرف جسمانی تکلیف نہیں بلکہ معاشی تباہی بھی بن سکتی ہے۔ بڑے شہروں میں نجی ہسپتالوں اور جدید علاج کی سہولیات موجود ہیں، لیکن ملک کے دور دراز علاقوں میں آج بھی لوگ بنیادی صحت کی سہولت کے لیے کئی کلومیٹر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی صورتحال تعلیم کی ہے۔ اگر ایک بچے کو اپنے علاقے میں معیاری اسکول، قابل استاد، جدید تعلیمی سہولیات اور آگے بڑھنے کے مواقع نہ ملیں تو اس سے ملک کے مستقبل کی بنیاد کیسے مضبوط ہوگی؟ پاکستان کی ترقی کو صرف بڑے شہروں کی سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں سے نہیں ناپا جاسکتا۔ اصل ترقی اس وقت ہوگی جب ایک دور افتادہ گاؤں کا بچہ بھی وہی خواب دیکھ سکے جو بڑے شہر میں رہنے والا بچہ دیکھتا ہے۔ گلگت بلتستان، بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی قومی ذمہ داری ہے۔ کسی شہری کو اس بنیاد پر کم سہولت نہیں ملنی چاہیے کہ وہ دارالحکومت یا بڑے شہر سے دور رہتا ہے۔ پاکستان کا ایک اہم مسئلہ حکمرانی اور اداروں کی کارکردگی بھی ہے۔ ہمارے ہاں اکثر اچھی پالیسیاں بنتی ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کمزور رہتا ہے۔ بجٹ میں رقم مختص ہوجاتی ہے، منصوبے منظور ہوجاتے ہیں، اعلانات بھی ہوجاتے ہیں، لیکن عام آدمی تک اس کا فائدہ پہنچنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ ہمیں اب اعلان کی سیاست سے نکل کر نتائج کی سیاست کی طرف جانا ہوگا۔ حکومت کے ہر منصوبے کے بارے میں عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کتنی رقم خرچ ہوئی، کام کب شروع ہوا، کب مکمل ہونا ہے اور اس کا فائدہ کتنے لوگوں کو پہنچے گا۔ شفافیت صرف تقریروں سے نہیں آتی بلکہ عملی نظام سے آتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے سیاسی ماحول میں بھی سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے لیکن ذاتی دشمنی، الزام تراشی اور ہر مسئلے کو سیاسی تنازع بنانا ملک کے مفاد میں نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے سے اختلاف ضرور کرنا چاہیے لیکن قومی مسائل پر کم از کم بنیادی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ تعلیم، صحت، معیشت، خارجہ پالیسی، توانائی، پانی، زراعت اور قومی سلامتی ایسے معاملات ہیں جنہیں ہر حکومت کے ساتھ تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ملک ترقی اس وقت کرتا ہے جب پالیسیوں میں تسلسل ہو۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن ریاستی ادارے اور قومی مفادات مستقل رہتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کا مسئلہ صرف حکمران نہیں بلکہ ہمارا مجموعی نظام ہے۔ اگر قانون کمزور ہو، میرٹ پر سمجھوتہ ہو، ٹیکس کا نظام غیر مؤثر ہو، کرپشن کے خلاف کارروائی صرف سیاسی مخالفین تک محدود رہے اور عام شہری کو انصاف کے لیے سالہا سال انتظار کرنا پڑے تو ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ ہمیں اپنی اجتماعی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ سفارش کے بجائے میرٹ، تعلق کے بجائے قابلیت، طاقت کے بجائے قانون اور ذاتی فائدے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین ذہنوں میں شمار ہونے والے نوجوان موجود ہیں، بیرون ملک پاکستانی اپنی محنت سے نام پیدا کررہے ہیں، ہمارے پاس پہاڑ، دریا، معدنیات، زرخیز زمین، سمندر اور سیاحت کے بے شمار مواقع ہیں، لیکن ان وسائل کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے مستقل مزاجی اور درست حکمت عملی درکار ہے۔ خصوصاً سیاحت کے شعبے میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور بلوچستان پاکستان کے لیے بڑے معاشی مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ اگر بنیادی ڈھانچہ بہتر کیا جائے، سڑکیں، بجلی، انٹرنیٹ، صحت، صفائی اور سکیورٹی کی سہولیات فراہم کی جائیں تو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد سے مقامی لوگوں کے لیے ہزاروں روزگار پیدا ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح معدنی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی آبادی کے حقوق اور ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ ہمیں صرف وسائل نکالنے کے بجائے ان علاقوں کے لوگوں کو ترقی کے عمل میں شریک کرنا ہوگا۔ پاکستان کو آج کسی ایک شخصیت کے سہارے کی نہیں بلکہ ایک مضبوط نظام کی ضرورت ہے۔ ایسا نظام جہاں ایک عام شہری کو اپنے حق کے لیے کسی بااثر شخص کا دروازہ نہ کھٹکھٹانا پڑے، جہاں ایک غریب کا بچہ بھی میرٹ پر آگے بڑھ سکے، جہاں کاروبار سفارش کے بغیر شروع ہوسکے، جہاں کسان اپنی محنت کا پھل حاصل کرسکے اور جہاں نوجوان پاکستان میں رہ کر اپنے مستقبل کو محفوظ سمجھ سکے۔ قومیں صرف نعروں سے ترقی نہیں کرتیں، قومیں اداروں، تعلیم، قانون، محنت اور مسلسل درست فیصلوں سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ ہر مسئلے کا حل صرف حکومت کے پاس ہے۔ حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ، لیکن معاشرے کے ہر طبقے کا کردار بھی اہم ہے۔ صحافی کو سچ لکھنا ہوگا، استاد کو ایمانداری سے تعلیم دینا ہوگی، ڈاکٹر کو انسانیت کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے، تاجر کو دیانت داری اختیار کرنا ہوگی، سرکاری افسر کو عوام کا خادم بننا ہوگا اور سیاست دان کو اقتدار کے بجائے خدمت کو ترجیح دینا ہوگی۔ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ مشکل وقت میں قربانیاں دی ہیں اور آج بھی وہ اپنے ملک سے مایوس نہیں، وہ صرف بہتر نظام، انصاف اور مواقع چاہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران اور سیاسی قیادت عام آدمی کی آواز کو صرف انتخابات کے دن نہ سنیں بلکہ ہر دن سنیں۔ کیونکہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے محلات، عمارتیں یا بڑے منصوبے نہیں بلکہ وہ عام پاکستانی ہے جو محدود وسائل کے باوجود محنت کرتا ہے، اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے، ٹیکس دیتا ہے، کاروبار کرتا ہے، کھیت میں کام کرتا ہے اور ہر مشکل کے باوجود پاکستان سے امید وابستہ رکھتا ہے۔ اگر اس عام آدمی کی زندگی آسان ہوگئی تو سمجھیں پاکستان واقعی ترقی کرگیا، لیکن اگر ترقی کے تمام دعووں کے باوجود عام شہری دو وقت کی روٹی، بجلی کے بل، علاج، تعلیم اور روزگار کے لیے پریشان ہے تو ہمیں اپنے ترقی کے تصور پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ پاکستان کو اب وعدوں سے زیادہ عمل، نعروں سے زیادہ پالیسی، سیاست سے زیادہ خدمت اور وقتی فیصلوں سے زیادہ مستقبل کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جہاں ترقی چند لوگوں کی نہیں بلکہ ہر شہری کی زندگی میں نظر آئے، اور جہاں عام آدمی صرف زندہ رہنے کی کوشش نہ کرے بلکہ عزت، سکون اور امید کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *