Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائبسینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائب

خورشیدِ معرفت کی خوشبو

خورشیدِ معرفت کی خوشبو
ایک چراغ جو آج بھی دلوں میں روشن ہے
علامہ خورشید کمال چشتی صابری کی یاد میں ایک روحانی شام

تحریر : ارتعاش، ہارون الرشید

بعض لوگ دنیا سے رخصت نہیں ہوتے، صرف نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ ان کی آواز خاموش ہو جاتی ہے مگر ان کے لفظ بولتے رہتے ہیں، ان کے قدم رک جاتے ہیں مگر ان کے نقشِ پا راستوں کو روشن رکھتے ہیں، اور ان کا جسم خاک کی آغوش میں چلا جاتا ہے مگر ان کی فکر، ان کی محبت اور ان کی روحانی خوشبو زمانے کی سانسوں میں گھل جاتی ہے۔ علامہ خورشید کمال چشتی صابری بھی انہی خوش نصیب انسانوں میں سے تھے جنہوں نے زندگی کو محض گزارا نہیں بلکہ اسے علم، عشق، ادب، روحانیت اور خدمتِ دین کے چراغوں سے منور کیا۔
ان کی تیسری برسی کے موقع پر پلاک، لاہور میں منعقد ہونے والی ایک پُرکیف، روحانی اور ادبی تقریب دراصل کسی فرد کی یاد کا محض رسمی اجتماع نہیں تھی؛ یہ ایک ایسے چراغ کے گرد جمع ہونے کی ساعت تھی جس کی روشنی آج بھی دلوں کو راستہ دکھا رہی ہے۔ محفل کا اہتمام کمال اکیڈمی، لاہور کی روحِ رواں اور علامہ خورشید کمال کی صاحبزادی محترمہ فریحہ کمال نے کیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے بیٹی نے اپنے والد کی یاد کو محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک زندہ روایت بنا دیا ہو۔
محفل کے فضا میں ایک عجیب سی کیفیت تھی؛ کہیں یاد کا دکھ تھا، کہیں عقیدت کی نمی، کہیں شعر کی خوشبو اور کہیں قوالی کی وجد آفریں لے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وقت نے اپنی رفتار تھام لی ہو اور ماضی، حال کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہا ہو کہ جو لوگ محبت اور علم کے راستے پر چلتے ہیں، وہ مر کر بھی ختم نہیں ہوتے۔
علامہ خورشید کمال چشتی صابری ایک روحانی دانشور، پنجابی شاعر، ادیب اور صاحبِ فکر شخصیت تھے۔ ان کی شخصیت میں تصوف کی نرمی، علم کی گہرائی، شاعری کی لطافت اور انسان دوستی کی حرارت ایک ساتھ دکھائی دیتی تھی۔ ان کا سب سے نمایاں اور یادگار علمی کارنامہ قرآنِ مجید کا پنجابی زبان میں ترجمہ ہے۔
یہ کام محض الفاظ کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں۔ قرآن کا ترجمہ دراصل دل اور زبان، وحی اور انسانی فہم، آسمانی پیغام اور زمینی زندگی کے درمیان ایک پل تعمیر کرنے کے مترادف ہے۔ پنجابی، جو صدیوں سے اس خطے کے عوام کے جذبات، محبت، دکھ، خوشی، صوفیانہ تجربات اور روزمرہ زندگی کی زبان رہی ہے، اس میں قرآن کے پیغام کو منتقل کرنا ایک عظیم علمی و روحانی خدمت ہے۔
خورشید کمال نے گویا قرآن کے پیغام کو پنجاب کی مٹی کی خوشبو سے ہم آہنگ کر کے ان دلوں تک پہنچانے کی کوشش کی جہاں صوفیا کے کلام نے صدیوں سے عشقِ الٰہی کے چراغ روشن کیے تھے۔ یہ ترجمہ ایک کتاب سے زیادہ ایک روحانی پل کی حیثیت رکھتا ہے، ایسا پل جس کے ایک سرے پر وحی کی روشنی ہے اور دوسرے سرے پر پنجابی دل کی دھڑکن۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف روحانی اور فکری دانشور، شاعر و ادیب بابا یحییٰ تھے۔ ان کی موجودگی نے محفل کو ایک خاص روحانی وقار عطا کیا۔ ان کی شخصیت خود ایک ایسی کتاب کی مانند ہے جس کے صفحات پر تجربہ، معرفت، فکر اور انسان دوستی کے نقوش دکھائی دیتے ہیں۔
محفل میں جب خورشید کمال کا ذکر ہوا تو محسوس ہوا کہ ایک شخصیت کو یاد کرنا دراصل ایک پورے فکری عہد کو یاد کرنا ہے۔ بابا یحییٰ اور دیگر مقررین کی گفتگو نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ خورشید کمال کی زندگی علم کو عمل، ادب کو انسانیت اور روحانیت کو محبت سے جوڑنے کی ایک خوبصورت مثال تھی۔
تقریب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے شرکت کی اور علامہ خورشید کمال چشتی صابری کی علمی، ادبی، روحانی اور انسانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ محترم نورالحسن، محترم جواد وسیم، پروفیسر کلیان سنگھ، محترم راشد محمود، محترم پرویز رضا، محترمہ عظمیٰ زرین نازیہ، محترم شفیق فاروقی، محترمہ فرح دیبا، ڈاکٹر وقار احمد نیاز،معروف ادیب و خطیب محترم منشا قاضی، راؤ محمد اسلم اور نوازش علی خان لودھی سمیت متعدد معروف دانشوروں، ادیبوں، شاعروں، مقررین اور فنکاروں نے اظہارِ خیال کیا۔ ہر آواز میں ایک الگ رنگ تھا، مگر سب آوازوں کا حاصل ایک ہی تھا: خورشید کمال ایک شخص نہیں، ایک روایت تھے۔ کسی نے ان کی علمی بصیرت کو یاد کیا، کسی نے ان کی شاعری کے حسن کو، کسی نے ان کی روحانی نسبتوں کو اور کسی نے ان کے انسانی رویوں کو۔ یوں ان کی شخصیت کے مختلف پہلو ایک ایک کر کے سامنے آتے گئے، جیسے شام کے آسمان پر ستارے نمودار ہوتے ہیں اور اچانک معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کبھی خالی تھا ہی نہیں۔
محفل کے پُرلطف اور یادگار لمحات میں ایک نہایت خوبصورت لمحہ اس وقت آیا جب معروف بصری فن کار ہارون الرشید نے علامہ خورشید کمال کا ایک خوبصورت پورٹریٹ ان کی صاحبزادی محترمہ فریحہ کمال کو پیش کیا۔ یہ محض ایک تصویر نہیں تھی؛ یہ محبت کو بصری زبان عطا کرنے کی ایک کوشش تھی۔
ایک فن کار نے لکیروں کے ذریعے اس شخصیت کو دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا جسے وقت جسمانی طور پر ہم سے دور لے گیا ہے۔ پورٹریٹ پیش کیے جانے کا منظر اس لیے بھی جذباتی تھا کہ ایک بیٹی کے ہاتھ میں اس کے والد کی تصویری یاد تھی اور سامنے بیٹھے ہوئے لوگ اس محبت کے خاموش گواہ تھے۔
اس خوبصورت فن پارے کو حاضرین، ناظرین اور تمام معزز مہمانوں نے بے حد سراہا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہارون الرشید نے کینوس پر صرف چہرہ ہی نہیں بنایا بلکہ یاد کو ایک شکل اور عقیدت کو ایک تصویرعطا کر دی ہو۔
کبھی کبھی ایک تصویر ہزار صفحات سے زیادہ بولتی ہے؛ وہ کچھ نہیں کہتی، مگر بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔
محفل کی روحانی کیفیت کو مزید گہرا کیا شہزاد سنتو اور ان کے ہمنواوں نے، جنہوں نے نہایت خوبصورت انداز میں قوالی پیش کی۔
قوالی شروع ہوئی تو جیسے الفاظ نے اپنے معمول کے معنی چھوڑ کر وجد کی زبان اختیار کر لی۔ دف کی تھاپ، آواز کی لے اور صوفیانہ کلام کی تاثیر نے ماحول کو ایک ایسی کیفیت میں ڈھال دیا جہاں یاد اور عشق کے درمیان فاصلے مٹنے لگے۔
قوالی دراصل برصغیر کی صوفیانہ روایت کی وہ آواز ہے جو دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ اس شام بھی یہ آواز محض سماعت تک محدود نہ رہی بلکہ دل کی گہرائیوں میں اترتی محسوس ہوئی۔ ایسا لگا جیسے خورشید کمال کی روحانی نسبت، ان کی صوفیانہ فکر اور ان کی محبتِ انسانیت قوالی کی لے میں کہیں دور سے مسکرا رہی ہو۔
کسی عظیم انسان کی برسی صرف یہ یاد دلانے کے لیے نہیں ہوتی کہ وہ کب دنیا سے رخصت ہوا۔ اصل مقصد یہ یاد کرنا ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں کیوں آیا تھا اور ہمارے لیے کیا چھوڑ گیا۔
خورشید کمال نے ہمیں یہ سبق دیا کہ علم اگر دل سے جدا ہو جائے تو محض معلومات بن جاتا ہے، شاعری اگر انسان سے جدا ہو جائے تو محض الفاظ رہ جاتی ہے، اور روحانیت اگر محبت سے خالی ہو جائے تو صرف رسم بن کر رہ جاتی ہے۔ ان کی زندگی ان تینوں کے حسین امتزاج کا نام تھی۔
وہ پنجابی کے شاعر تھے تو پنجاب کے دل کی آواز تھے؛ ادیب تھے تو لفظوں کو معنی دیتے تھے؛ روحانی دانش ور تھے تو دلوں کو آئینہ دکھاتے تھے؛ اور قرآن کے مترجم تھے تو وحی کے پیغام کو عام انسان کی زبان تک پہنچانے کے سفر میں شریک تھے۔
تیسری برسی کی یہ محفل دراصل ایک خاموش اعلان تھی کہ موت انسان کے جسم کو ختم کر سکتی ہے، اس کے افکار کو نہیں۔ وقت چہرے دھندلا سکتا ہے، مگر کردار کی روشنی کو نہیں مٹا سکتا۔
خورشید کمال کا چراغ آج بھی روشن ہے—ان کے ترجمۂ قرآن میں، ان کی شاعری میں، ان کی تحریروں میں، ان کے شاگردوں میں، ان سے محبت کرنے والوں کی یادوں میں اور ان تمام دلوں میں جہاں علم اور عشق ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔
محترمہ فریحہ کمال کی جانب سے اس یادگار تقریب کا اہتمام بھی دراصل اسی چراغ کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کی ایک خوبصورت کوشش تھی۔ والدین اپنے بچوں کو صرف نام نہیں دیتے، بعض اوقات ایک مشن بھی دیتے ہیں۔ فریحہ کمال نے اپنے والد کی یاد کو محفل، ادب، فن اور روحانی روایت کے ذریعے زندہ رکھ کر اس مشن کو آگے بڑھانے کی ایک قابلِ قدر مثال قائم کی۔
اور شاید یہی کسی انسان کی حقیقی زندگی ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی اس کے ہاتھ سے روشن کیا ہوا چراغ کسی دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتا رہے۔
خورشید کمال چشتی صابری رخصت ہوئے، مگر ان کی روشنی رخصت نہیں ہوئی۔ وہ مٹی میں سو گئے، مگر ان کے لفظ جاگتے رہے۔ وہ خاموش ہوئے، مگر ان کا ترجمہ بولتا رہا۔ وہ منظر سے اوجھل ہوئے، مگر ان کی فکر نے منظر روشن رکھا۔ اور شاید یہی اہلِ دل کی موت ہے— جسم رخصت ہوتا ہے، مگر روحِ سخن باقی رہتی ہے۔
اس یادگار روحانی و ادبی شام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی کو علم، عشق، ادب، قرآن اور انسانیت کے نام کر دیا ہو، ان کے لیے برسی اختتام نہیں ہوتی.
جسم رخصت ہو جاتے ہیں، مگر محبت کی خوشبو باقی رہتی ہے؛ چراغ بجھ جاتے ہیں، مگر روشنی کا سفر جاری رہتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *