Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائبسینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائب

سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سینیٹ کے اجلاس میں پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شدید بحث ہوئی، ارکان نے واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، ذمہ داران کے تعین اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا، جبکہ سانحے کی تحقیقات کے لیے ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد بھی منظور کرلی گئی۔

اجلاس کی صدارت پریزائیڈنگ افسر منظور احمد کاکڑ نے کی۔ قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے معمول کی کارروائی معطل کرنے کے مطالبے پر سینیٹر شیری رحمان نے تحریک پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے سینیٹ میں پمز سانحے پر بحث شروع کی گئی۔

سینیٹر علی ظفر نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سانحے کی ذمہ داری ان تمام افراد پر عائد ہوتی ہے جو بجٹ کی منظوری کے عمل میں شامل تھے۔ انہوں نے تجویز دی کہ تحقیقات کے لیے ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر نمائندگی ہو اور اسے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایس او پیز مرتب کرنے کا اختیار بھی دیا جائے۔

سینیٹر پرویز رشید نے پمز میں سی ایم ایچ کے نظام کو اپنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افراد اور ان کے اہلخانہ کا علاج سرکاری اسپتالوں میں لازمی قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری تنخواہ لینے والوں کے نجی اسپتالوں میں علاج پر پابندی عائد کردی جائے تو سرکاری اسپتالوں کی حالت چند ماہ میں بہتر ہوسکتی ہے۔

نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی نے پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ملک کے بڑے بجٹ کے باوجود بنیادی سرکاری اسپتالوں کا نظام بہتر نہ ہونا تشویشناک ہے۔

سینیٹر فلک ناز چترالی نے بھی پمز سانحے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسپتال کے حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھائے۔ ان کی تقریر کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ 14 بچوں کی مائیں آج بھی غم میں ہیں، اس لیے سانحے کی تحقیقات محض رسمی کارروائی نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہنگامی اخراج کے راستے کیوں بند تھے اور واقعے کے وقت متعلقہ عملہ کہاں موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات میں پیش رفت نہ ہوئی تو وہ اس معاملے کو ایوان میں بھرپور انداز میں اٹھاتی رہیں گی۔

شیری رحمان نے مزید کہا کہ صرف سیکیورٹی کو ذمہ دار قرار دے کر معاملہ ختم نہیں کیا جاسکتا، ہسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات، ایمرجنسی راستوں اور عملے کی موجودگی سمیت تمام پہلوؤں کی تحقیقات ضروری ہیں۔ انہوں نے سانحے کی تحقیقات کے لیے ہاؤس کمیٹی کو 40 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی تجویز بھی دی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے سانحے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے جو شاہد خان کی سربراہی میں کام کر رہی ہے، جبکہ ایک دوسری کمیٹی ڈاکٹر کیانی کی سربراہی میں بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سانحے پر رنجیدہ بھی ہے اور معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

پارلیمانی کارروائی کے دوران پمز سانحے کے متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے مؤثر نظام کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ قومی اسمبلی میں بھی سانحے پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *