Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائبسینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائب

جمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئی

احمدخان اچکزئی

جمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئی

محترم قارئین ۔تاریخ کے جھروکوں سے اگر سیاسی حکمت کا جائزہ لیا جائے تو افلاطون کا تنقیدی شعور آج بھی انسانی معاشرت کے سب سے بڑے مغالطے کو بے نقاب کرتا نظر آتا ہے۔ قدیم یونانی فلسفے سے لے کر عصرِ حاضر کی پیچیدہ سیاسی بساط تک، عوامی نمائندگی کے زعم میں لپٹا ہوا یہ نظام فکر و دانائی کے بجائے محض ظاہری تماشے کی ترویج کرتا ہے۔ افلاطون (پلیٹو) کا یہ کہنا کتنا سچ تھا کہ جمہوریت کبھی بہترین قائد (رہنما) کا انتخاب نہیں کرتی، یہ ہمیشہ بہترین جھوٹے کا انتخاب کرتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہر جمہوریت بالاخر ناکام ہو جاتی ہے۔ یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عوامی حمایت کا حصول حق اور سچائی کا مرہونِ منت ہونے کے بجائے الفاظ کے جادو اور دلفریب وعدوں کے مرہونِ منت ہو چکا ہے۔سیاسی میدان میں اخلاقی اقدار اور بصیرت کی عدم موجودگی حقیقت پسندانہ دانائی کو مفلوج کر دیتی ہے۔ جمہوریت دانشمندی (حکمت) کا صلہ نہیں دیتی، یہ قائل کرنے کی صلاحیت (ترغیب) کا صلہ دیتی ہے۔ وہ شخص جو حقیقت کو سمجھتا ہے، اس شخص سے ہار جاتا ہے جو تاثرات (صوت و منظر) کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا جانتا ہے۔ سچے لوگ، دلکش (دل لبھانے والے) لوگوں سے ہار جاتے ہیں۔ بااصول (منظم) لوگ، ڈرامائی (اداکاری کرنے والے) لوگوں سے ہار جاتے ہیں۔ یہ وہ ہولناک دراڑ ہے جو کسی بھی عوام پسند نظامِ حکومت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے، جہاں متانت اور سنجیدگی کو سطحی جذباتیت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔جب اربابِ حل و عقد اور صاحبِ صلاحیت افراد سیاسی عمل سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں، تو معاشرتی قیادت کا خلا خود غرض اور مکار عناصر سے بھر جاتا ہے۔ افلاطون نے کہا تھا۔ “حکومت کرنے سے انکار کرنے کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ آپ پر کسی کمتر شخص کی حکومت ہو۔” یہ کوئی اخلاقی نصیحت نہیں ہے، یہ طاقت کا ایک قانون (اصول) ہے۔ جب قابلیت پیچھے ہٹتی ہے، تو جوڑ توڑ (چال بازی) آگے بڑھتی ہے۔ جب سچائی مہنگی ہو جاتی ہے، تو جھوٹ موثر ہو جاتا ہے۔ اور جب مقبولیت کا معیار ہی اختیار و طاقت کا فیصلہ کرے، تو دھوکہ دہی حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔ یہ اصول ہر دور میں نافذ العمل رہا ہے کہ جہاں دانائی خاموشی اختیار کرتی ہے، وہاں سطحی چال بازی اقتدار کا تاج اپنے سر پر سجا لیتی ہے۔معاشروں کا زوال کسی بیرونی حملے یا یکلخت رونما ہونے والے حادثے کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک دھیمے اندرونی گلنے سڑنے کا عمل ہوتا ہے۔ جمہوریت باہر سے تباہ نہیں ہوتی، یہ اندر سے کھوکھلی ہوتی ہے۔ اور جب جھوٹ بالآخر پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیتا ہے، تو اس کا انجام قابلِ پیش گوئی (واضح) ہوتا ہے۔ لوگ استبداد (ظلم و ستم) کی مزاحمت نہیں کرتے، وہ اس کی مانگ (التجا) کرتے ہیں۔ یہ جمہوریت کا وہ دردناک اِختتام ہے جہاں بدنظمی اور ہیجان سے تنگ آئی ہوئی عوام بالآخر سچائی کے بجائے ایک سخت گیر آمر کی پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔موجودہ دور کی جانب نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مواصلاتی وسائل اور ذرائع ابلاغ نے افلاطون کے اس خوف کو دوچند کر دیا ہے۔ بصری میڈیا اور سستے عوامی تاثرات نے ووٹر کے شعور کو اس حد تک یرغمال بنا لیا ہے کہ اب حقیقی حکمرانی اور محض شوٹنگ یا اداکاری کے درمیان فرق ختم ہو چکا ہے۔ صلاحیت اور وژن پر مبنی قیادت کے بجائے اب وہ لوگ اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہوتے ہیں جو عوام کے نفسیاتی خوف اور جذباتی خواہشات کی کامیاب اداکاری کر سکتے ہیں۔ سچائی بوجھل اور کڑوی محسوس ہوتی ہے، جبکہ جھوٹ خوبصورت پیکٹ میں لپیٹ کر بیچا جاتا ہے، جسے عوام خوش دلی سے قبول کرتی ہے۔جب ایک پورا معاشرہ جذباتی ترغیب کو حقیقت پر فوقیت دینے لگتا ہے تو پھر وہاں قانون، اداروں اور انصاف کی کوئی حقیقت نہیں رہ جاتی۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جمہوری پردے کے پیچھے پپلپاتی ہوئی انارکی ہمیشہ مطلق العنان اور جابرانہ حکومتوں کو جنم دیتی ہے۔ کیونکہ جب افراطِ تفریط، بدعنوانی اور شعبدہ بازی سے اکتاہٹ پیدا ہوتی ہے، تو عوام آزادی کے عوض نظم و ضبط اور تحفظ مانگنے لگتی ہے۔خواہ وہ تحفظ کسی مستبد کے کوڑے ہی کیوں نہ ہوں۔ یوں، ایک نظام جو بظاہر عوام کی آزادی کے لیے بنایا گیا تھا، اپنے ہی پیدا کردہ جھوٹ کے بوجھ تلے دب کر بالآخر آمریت کے بھیانک اندھیروں میں غرق ہو جاتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *