Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائبسینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائب

بازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاج

بازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاج
بازئی قبائل کا آبائی اراضی پر کیو ڈی اے کے مجوزہ ڈیری فارم منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار، احکام سے ملاقاتیں
ریونیو ریکارڈ اور حدود کا معاملہ حتمی ہونے تک کسی منصوبے پر پیش رفت غیر قانونی ہوگی۔ بازئی قبائلی عمائدین
کوئٹہ: بازئی قبائل کے معتبرین ملک محمد اسلم بازئی، محمد یوسف بازئی، حاجی شمس اللہ بازئی، جعفر اللہ بازئی، عتیق اللہ بازئی اور حبیب الرحمن بازئی نے کہا ہے کہ موضع خشکابہ ژور اغبرگ، ٹپہ نوصار، تحصیل و ضلع کوئٹہ میں بازئی اور برکہ قبائل کی آبائی اراضیات پر کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) کی جانب سے مجوزہ ڈیری فارم منصوبے کے حوالے سے قبائلی عمائدین کے ایک وفد نے چیف انجینئر QDA اور متعلقہ انجینئرنگ اسٹاف سے ان کے دفتر میں تفصیلی ملاقات کی، جس میں اراضی کی ملکیت، ریونیو ریکارڈ، لینڈ یوز اور مجوزہ منصوبے سے متعلق اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ قبائلی عمائدین کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران QDA حکام کے سامنے واضح کیا گیا کہ مذکورہ اراضی کے حوالے سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (SMBR) کے ازخود نوٹس کیس نمبر 06/2026/SMBR میں 18 جون 2026 کو احکامات جاری ہو چکے ہیں، جن کے تحت سال 2024 کے سیٹلمنٹ ریکارڈ کی ازسرنو جانچ، اراضی کی حدود کی تصدیق اور متعلقہ ریونیو سروے کا عمل جاری ہے۔قبائلی عمائدین کے مطابق جب تک ریونیو ریکارڈ، ملکیتی حیثیت اور اراضی کی حدود سے متعلق معاملات مکمل طور پر واضح اور حتمی نہیں ہو جاتے، اس اراضی پر کسی نئے سرکاری یا تجارتی منصوبے کی پیش رفت مناسب نہیں ہوگی۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ ماضی میں مذکورہ اراضی کے حوالے سے مبینہ طور پر غلط یا جعلی ویریفکیشن، غیر شفاف طریقہ کار اور غیر متعلقہ افراد کو ادائیگیوں کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں، جن کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ قبائلی عمائدین نے واضح کیا کہ اراضی کی قانونی ملکیت اور حقداری کا تعین صرف مستند ریونیو ریکارڈ اور قانون کے مطابق کیا جائے اور کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو اراضی کے معاملات میں فریق نہ بنایا جائے۔ قبائلی معتبرین نے QDA حکام کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اراضی پر ماضی میں “جیو ہاؤسنگ اسکیم” کے نام سے ایک منصوبہ متعارف کرائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے NOC اور منظوری سے متعلق معاملات زیرِ التوا ہونے کے باوجود پلاٹوں کی مبینہ خرید و فروخت کے الزامات بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک ہی اراضی کے لینڈ یوز اور قانونی اسٹیٹس سے متعلق معاملات ابھی واضح نہیں ہیں تو اسی مقام پر نئے منصوبے کے آغاز سے قبل تمام قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ہاؤسنگ اسکیم یا اس سے متعلقہ اراضی کو مناسب قانونی، تکنیکی اور ٹاؤن پلاننگ کے تقاضے پورے کیے بغیر اچانک ڈیری فارم کے لیے مختص کرنا QDA کے بائی لاز، لینڈ یوز پالیسی اور ٹاؤن پلاننگ کے اصولوں کے تناظر میں قابلِ غور معاملہ ہے، لہٰذا اس حوالے سے تمام متعلقہ ریکارڈ اور منظوریوں کو عوامی سطح پر واضح کیا جائے۔ اعلامیے میں QDA انتظامیہ کو متنبہ کیا گیا کہ مذکورہ اراضی کے حوالے سے کسی غیر متعلقہ شخص یا مبینہ جعل ساز کے ساتھ معاملات طے کرنے سے گریز کیا جائے۔ قبائلی عمائدین نے کہا کہ اگر QDA یا کوئی سرکاری ادارہ اس اراضی پر کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اراضی کی قانونی ملکیت، ریونیو ریکارڈ اور متعلقہ قانونی احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی حقداروں سے براہِ راست رابطہ کیا جائے۔ بصورت دیگر پیدا ہونے والے انتظامی، قانونی یا مالی معاملات کی ذمہ داری متعلقہ ادارے پر عائد ہوگی۔قبائلی عمائدین نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ، قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ اراضی کے معاملات، QDA افسران کے مبینہ کردار، اختیارات کے استعمال، NOC کے بغیر مبینہ ہاؤسنگ اسکیموں، اراضی کی الاٹمنٹ اور ماضی میں ہونے والی مبینہ ادائیگیوں کے حوالے سے غیر جانب دارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بازئی اور برکہ قبائل ترقیاتی منصوبوں کے مخالف نہیں اور علاقے میں قانون کے مطابق ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم ترقی کے نام پر کسی بھی شخص یا ادارے کو آبائی اراضی، قانونی ملکیت، ریونیو ریکارڈ اور عدالتی و انتظامی احکامات کو نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قبائلی معتبرین نے واضح کیا کہ وہ اپنی آبائی اراضی کے تحفظ، قانونی حقوق اور شفاف طریقہ کار کے لیے تمام آئینی، قانونی، انتظامی اور قبائلی ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور مطالبہ کیا کہ مذکورہ اراضی سے متعلق تمام معاملات کو شفاف، قانونی اور مستند ریکارڈ کی بنیاد پر حل کیا جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *