Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائبسینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائب

جھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائب

جھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائب
تحریر،ایس ایم مرموی
آج پاکستان میں ہر طرف اسلامی جلوے ہی جلوے ہیں گلیاں سجی ہوئی ہیں بازار روشن ہیں گھروں پر جھنڈے لہرا رہے ہیں مساجد میں محفلیں برپا ہیں درود و سلام کی صدائیں بلند ہیں نعتیں پڑھی جا رہی ہیں لنگر تقسیم ہو رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر محبتِ رسول ﷺ کے مظاہروں کی بھرمار ہے ہر طرف ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے ہر زبان پر عشقِ رسول ﷺ کا دعویٰ ہے اور ہر شخص خود کو عاشقِ رسول ﷺ ثابت کرنے میں مصروف ہے یہ منظر بلاشبہ خوبصورت ہے مگر ایک سوال ہے اگر یہ سب کچھ ہمارے کردار میں نظر نہیں آتا تو پھر اس سارے شور کا حاصل کیا ہے؟
ہماری زبانوں پر عشقِ رسول ﷺ ہے مگر ہمارے معاملات میں دھوکہ ہے ہماری محفلوں میں درود ہے مگر بازاروں میں ملاوٹ ہے ہمارے ماتھوں پر سجدوں کے نشان ہیں مگر ہمارے ہاتھ دوسروں کے حقوق پر قابض ہیں ہمارے گھروں پر اسلامی جھنڈے ہیں مگر ہمارے دل نفرتوں سے بھرے ہوئے ہیں ہم نعت سنتے ہیں جذباتی ہوتے ہیں آنکھیں نم کرتے ہیں نعرے لگاتے ہیں مگر اگلے ہی دن وہی جھوٹ وہی رشوت وہی دو نمبری وہی سفارش وہی ظلم اور وہی ناانصافی ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہ کیسا عشق ہے؟
یہ کیسی محبت ہے؟
یہ کیسی نسبت ہے؟
ہمیں ذرا رک کر سوچنا ہوگا ہم جس نبی کریم ﷺ کے امتی ہونے پر فخر کرتے ہیں کیا ہم نے کبھی تنہائی میں بیٹھ کر یہ سوال بھی کیا کہ ہمارے اخلاق میں آپ ﷺ کی کتنی جھلک موجود ہے؟ ہماری زبان سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے یا سکون؟ ہماری وجہ سے کسی کا حق مارا جاتا ہے یا حق ملتا ہے؟ ہم کمزور کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا طاقتور کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں؟ ہم کسی ضرورت مند کو دیکھ کر اس کا ہاتھ تھامتے ہیں یا اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟
یہی اصل سوال ہے۔
محبت صرف نعرہ نہیں ہوتی
محبت صرف جھنڈا نہیں ہوتی
محبت صرف نعت نہیں ہوتی
محبت صرف ایک دن کی محفل نہیں ہوتی
محبت انسان کو بدل دیتی ہے
اگر انسان محبت کے بعد بھی وہی رہ جائے جو محبت سے پہلے تھا تو پھر اسے محبت کہنا مشکل ہے۔آج ہم رسول اکرم ﷺ سے محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر سیرتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی میں داخل کرنے کے لیے تیار نہیں ہم حرمتِ رسول ﷺ کے لیے جان دینے کی بات کرتے ہیں مگر سیرتِ رسول ﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے اپنی عادات، مفادات اور رویے قربان کرنے کو تیار نہیں ہمیں ذرا یہ فرق سمجھنا ہوگا
محبتِ رسول ﷺ کا سب سے بڑا ثبوت یہ نہیں کہ ہم محبت کا اعلان کتنی بلند آواز میں کرتے ہیں؛اصل ثبوت یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں کتنا اتارتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے ہمیں صرف عبادات نہیں سکھائیں معاملات بھی سکھائے۔
آپ ﷺ نے ہمیں صرف مسجد کا راستہ نہیں دکھایا انسانیت کا راستہ بھی دکھایا
آپ ﷺ نے ہمیں صرف نماز نہیں سکھائی پڑوسی کا حق بھی سکھایا
آپ ﷺ نے ہمیں صرف روزہ نہیں سکھایا۔بھوکے کا احساس بھی سکھایا
آپ ﷺ نے ہمیں صرف ذکر نہیں سکھایا زبان کی حفاظت بھی سکھائی
آپ ﷺ نے ہمیں صرف عبادت نہیں سکھائی، عدل بھی سکھایا
آپ ﷺ نے ہمیں صرف محبت کا درس نہیں دیا دشمن کے ساتھ بھی اخلاق کا مظاہرہ سکھایا۔
پھر سوال یہ ہے کہ ہم نے سیرتِ رسول ﷺ میں سے اپنے لیے کیا لیا؟
ہم نے شاید نعت لے لی جھنڈا لے لیا نعرہ لے لیا محفل لے لی، لباس لے لیا، ظاہری علامات لے لیں، مگر کردار کہاں گیا؟ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ تشہیر باقی رہ گئی ہے اور کردار غائب ہوگیا ہے۔
ہم عبادت بھی دکھاتے ہیں
خیرات بھی دکھاتے ہیں
حج بھی دکھاتے ہیں
عمرہ بھی دکھاتے ہیں
محفل بھی دکھاتے ہیں
نعت بھی دکھاتے ہیں
درود بھی دکھاتے ہیں
مگر اپنے ظلم کو چھپا لیتے ہیں
اپنی بددیانتی کو چھپا لیتے ہیں
اپنی ملاوٹ کو چھپا لیتے ہیں
اپنی رشوت کو چھپا لیتے ہیں
اپنی ناانصافی کو چھپا لیتے ہیں
اپنی بدزبانی کو چھپا لیتے ہیں
یہ کیسی دینداری ہے جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے تو ہم جھک جاتے ہیں مگر بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے ہماری گردن اکڑ جاتی ہے؟ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں سات سات سال کی بچیاں بھی محفوظ نہیں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔کمزوروں پر ظلم ہوتا ہے طاقتور قانون کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا ملاوٹ نے خوراک تک کو زہر بنا دیا ہے جھوٹ کاروبار کا ہنر بن چکا ہے اور دھوکہ دہی ذہانت سمجھ لی گئی ہے پھر ہم ایک دن جمع ہوتے ہیں۔
جھنڈے لگاتے ہیں
نعتیں پڑھتے ہیں
اور اعلان کرتے ہیں
ہم عاشقانِ رسول ﷺ ہیں
سوال یہ ہے
اگر ہم عاشقانِ رسول ﷺ ہیں تو ہمارے معاشرے میں ظلم کیوں بے خوف کیوں ہے؟
اگر ہم واقعی امتی ہیں تو مسلمان مسلمان سے محفوظ کیوں نہیں؟
اگر ہم واقعی سیرت کے پیروکار ہیں تو نفرتیں اتنی عام کیوں ہیں؟
اگر ہم واقعی رحمت والے نبی ﷺ کے امتی ہیں تو ہماری زبانیں ایک دوسرے کے لیے اتنی زہریلی کیوں ہیں؟
آج مسلمان مسلمان کو کافر کہہ رہا ہے
مسلمان مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے
مسلمان مسلمان کی عزت اچھال رہا ہے
مسلمان مسلمان کا کاروبار تباہ کر رہا ہے
مسلمان مسلمان کا حق کھا رہا ہے
مسلمان مسلمان کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں
پھر ہم کس بنیاد پر خود کو بہترین امت قرار دیتے ہیں؟ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے کردار کا فیصلہ کرنا ہوگادوسروں کو جہنم کا راستہ دکھانے سے پہلے اپنے اعمال کا راستہ دیکھنا ہوگا یہ بھی عجیب زمانہ ہے کہ ہر شخص دوسرے کی اصلاح کے لیے تیار ہے مگر اپنے اندر جھانکنے کے لیے تیار نہیں۔
ہر شخص واعظ ہے
ہر شخص مفتی ہے
ہر شخص جج ہے
ہر شخص دوسروں کے ایمان کا نگران ہے
مگر اپنے نفس کا حساب لینے والا کوئی نہیں
ہمیں اس مقدس مہینے میں شاید سب سے بڑا عہد یہی کرنا چاہیے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلیں گے
ہم جھوٹ چھوڑیں گے رشوت چھوڑیں گے ملاوٹ چھوڑیں گے دھوکہ چھوڑیں گے۔
نفرت چھوڑیں گے غیبت چھوڑیں گے بے حیائی سے دور رہیں گے کمزور کا حق نہیں ماریں گے کسی کی مجبوری کو اپنا کاروبار نہیں بنائیں گے اپنے ملازم کے ساتھ انصاف کریں گے اپنے پڑوسی کا خیال رکھیں گے اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں گے۔اپنے بچوں کو صرف نعتیں نہیں اخلاق بھی سکھائیں گے اپنے گھروں میں صرف دینی پوسٹر نہیں لگائیں گے بلکہ دینی کردار بھی پیدا کریں گے۔
یہی سیرت ہے
یہی محبت ہے
یہی امتی ہونے کا تقاضا ہے
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مطلب صرف دوسروں کو برا کہنا نہیں بلکہ اپنے اندر بھی برائی کو پہچاننا ہے اگر ہم معاشرے میں برائی کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے ظلم کو ظلم نہیں کہتے طاقتور کے سامنے خاموش رہتے ہیں اور کمزور کے خلاف اپنی زبان استعمال کرتے ہیں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے ہم نے دین کو شاید بہت آسان بنا لیا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ چند نعتیں سن لیں چند محفلوں میں بیٹھ گئے چند جھنڈے لگا دیے چند پوسٹیں سوشل میڈیا پر لگا دیں چند درود پڑھ لیے اور ہمارا فرض مکمل ہوگیا نہیں!
دین صرف الفاظ نہیں
دین کردار ہے
دین معاملات ہے
دین امانت ہے
دین انصاف ہے
دین رحم ہے
دین سچ ہے
دین انسان کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے
دین کسی کا حق ادا کرنا ہے
دین کسی کے آنسو پونچھنا ہے
دین کسی مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہے
اور سب سے بڑھ کر دین یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے سامنے بھی جواب دہی محسوس کرے اور بندوں کے حقوق کے بارے میں بھی خوف رکھے آج ہمیں اپنے آپ سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔اگر میرے ہاتھ میں تسبیح ہے مگر میرے ہاتھ سے میرا بھائی محفوظ نہیں۔تو میری تسبیح مجھے کہاں لے جا رہی ہے؟ اگر میرے ماتھے پر سجدے کا نشان ہے مگر میرے کاروبار میں ملاوٹ ہے تو میرے سجدے کا اثر کہاں ہے؟
اگر میری زبان پر درود ہے مگر اسی زبان سے میں کسی مسلمان کی عزت اچھالتا ہوں تو میرے درود نے مجھے کیا بدلا؟ اگر میں رسول اکرم ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہوں مگر آپ ﷺ کے اخلاق اپنانے کے لیے تیار نہیں تو میری محبت میں کیا کمی رہ گئی ہے؟ یہ سوال سخت ہیں مگر ضروری ہیں کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں۔
قومیں کردار سے بنتی ہیں۔معاشرے صرف مذہبی اجتماعات سے نہیں بدلتے معاشرے انسانوں کے بدلنے سے بدلتے ہیں
محفلیں ضرور ہوں
نعتیں ضرور پڑھی جائیں
درود کی صدائیں ضرور بلند ہوں
جھنڈے ضرور لگیں
چراغاں ضرور ہو
لیکن ان سب کے ساتھ ایک اور چیز بھی ہونی چاہیے کردار کا چراغ
اگر یہ چراغ نہیں جلتا تو باقی تمام روشنیاں عارضی ہیں آئیے اس مقدس مہینے میں ایک دن کے جشن سے آگے بڑھیں اپنی پوری زندگی کو سیرتِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنے کا عہد کریں۔
آج رات تنہائی میں بیٹھیں اپنے موبائل کی اسکرین بند کریں سوشل میڈیا کی رنگین دنیا سے باہر نکلیں۔اپنے دل کے دروازے پر دستک دیں اور خود سے پوچھیں میں کیسا مسلمان ہوں؟ میرے پڑوسی مجھ سے محفوظ ہیں؟ میرے ملازمین مجھ سے محفوظ ہیں؟ میرے کاروبار سے لوگ محفوظ ہیں؟ میری زبان سے لوگ محفوظ ہیں؟میرے ہاتھ سے کسی کا حق تو نہیں چھینا جا رہا؟ میرے رویے سے کسی کا دل تو نہیں ٹوٹ رہا؟
میں نے کسی پر ظلم تو نہیں کیا؟ میں نے کسی کا حق تو نہیں دبایا؟ میں نے کسی کو دھوکہ تو نہیں دیا؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو آج ہی اصلاح کا آغاز کریں توبہ کے لیے کسی خاص تاریخ کی ضرورت نہیں۔کردار بدلنے کے لیے کسی بڑے اجتماع کی ضرورت نہیں سیرت اپنانے کے لیے کسی اعلان کی ضرورت نہیں۔بس ایک سچا ارادہ چاہیے سچی نیت چاہئے وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے لمحے سمٹ رہے ہیں زندگی کم ہو رہی ہے اور ہم اب بھی ایک دوسرے سے لڑنے میں مصروف ہیں ہم اب بھی فرقوں میں تقسیم ہیں ہم اب بھی نفرتوں میں الجھے ہیں۔ہم اب بھی لفظوں کے مسلمان ہیں اور کردار کے امتحان میں ناکام ہو رہے ہیں۔یاد رکھیے!۔رسول اکرم ﷺ سے محبت کا سب سے خوبصورت جشن وہ نہیں جس میں سب سے زیادہ جھنڈے ہوں سب سے بلند آواز نعت ہو یا سب سے بڑا اجتماع ہو۔سب سے خوبصورت جشن وہ ہے جس کے بعد ایک شخص جھوٹ چھوڑ دے۔
ایک تاجر ملاوٹ چھوڑ دے
ایک افسر رشوت چھوڑ دے
ایک طاقتور کمزور پر ظلم چھوڑ دے
ایک بھائی دوسرے بھائی کو معاف کر دے
ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو برداشت کرنا سیکھ لے
ایک شخص کسی یتیم کا ہاتھ تھام لے
ایک باپ اپنی بیٹی کو عزت دے
ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے
ایک بیٹا اپنے والدین کے لیے رحمت بن جائے
اور ایک انسان یہ فیصلہ کر لے کہ وہ اپنی زندگی میں سیرتِ رسول ﷺ کا کوئی ایک پہلو ضرور زندہ کرے گا
تب سمجھیں کہ محفل کامیاب ہوئی۔تب سمجھیں کہ نعت نے اثر کیا تب سمجھیں کہ درود نے دل بدلا۔تب سمجھیں کہ محبت دعوے سے نکل کر عمل بن گئی ورنہ جھنڈے لہراتے رہیں گے نعتیں گونجتی رہیں گی محفلیں سجتی رہیں گی سوشل میڈیا پر محبت کے چرچے ہوتے رہیں گے۔مگر اگر کردار وہی رہا تو یہ سب صرف تشہیر بن کر رہ جائے گا اور آخر میں ایک بات یاد رکھیں ہمیں رسول اکرم ﷺ کی محبت ثابت کرنے کے لیے صرف یہ نہیں بتانا کہ ہم ان کے امتی ہیں۔ہمیں اپنی زندگی دیکھ کر دوسروں کو یہ محسوس کروانا ہے کہ واقعی ہم اس نبی ﷺ کے امتی ہیں جس نے اخلاق کو ایمان کی روح بنایا، انسانیت کو عزت دی، کمزور کا ہاتھ تھاما اور ظلم کے سامنے حق کا علم بلند کیا۔آئیے اس بار صرف جشن نہ منائیں۔
خود کو بدلیں
صرف نعت نہ پڑھیں
سیرت پڑھیں
صرف درود نہ بھیجیں
درود کے پیغام کو زندگی میں اتاریں
صرف محبت کا اعلان نہ کریں
محبت کا ثبوت دیں
کیونکہ آخرکار سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہم نے کتنے جھنڈے لگائے تھے۔کتنی محفلیں سجائی تھیں اور کتنی بار محبتِ رسول ﷺ کے نعرے لگائے تھے سوال یہ ہوگا
جس نبی ﷺ کی امت ہونے پر تمہیں فخر تھا ان کی سیرت تمہاری زندگی میں کہاں تھی؟
اللہ ہم سبکو صحیح معنوں میں سیرت رسول پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *